استحصالی نظام سے نجات حاصل کئے بغیر مثبت تبدیلی نہیں آئے گی۔سراج الحق


لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ چہروں کی تبدیلی میں قوم کے 73سال ضائع ہوگئے ۔اب عوام کو نظام کی تبدیلی کیلئے اٹھنا ہوگا۔ظلم وجبر اور استحصالی نظام سے نجات حاصل کئے بغیر مثبت تبدیلی نہیں آئے گی۔

منصورہ میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی سرکار کا ہر قدم غلط سمت اٹھ رہا ہے ۔تبدیلی کے خواب چکنا چور ہوچکے ہیں اوراچھی حکمرانی کے جتنے بھی اعشاریے تھے وہ الٹ سمت جارہے ہیں ۔حکومت کے سارے اقدامات نمائشی ہیں۔ حکومت دوسال میں ہی اپنی مقبولیت کھو چکی ہے ۔مہنگائی بے روز گاری اور ابدامنی عروج پر ہے ۔لوگ آٹے اور چینی کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں ۔عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو انہیں دیانتدار اور خوف خدا رکھنے والی قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا۔حکومت معاشی بہتری چاہتی ہے تو اسے سودی معیشت سے تائب ہونا پڑے گا  ۔ جماعت اسلامی ملک میں نظام مصطفی ۖ کی جدوجہد کررہی ہے ۔اللہ کا عطا کردہ نظام ہی ہماری تمام پریشانیوں کا علاج ہے ۔۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ماضی کی طرح یہ حکومت بھی سمجھتی ہے کہ اپنی مدت پوری کرنا ہی بڑا کارنامہ ہے ۔ حکومت کوئی ایک کام ایسا نہیں بتاسکتی جو سابقہ حکومتوں سے مختلف ہو ۔یہ حکومت سابقہ حکومتوں کا مجموعہ ہے ۔مسلم لیگ ،پیپلز پارٹی اور مشرف کی کابینہ کے لوگ موجودہ کابینہ میں بیٹھے ہیں ۔ان وزیروں اور مشیروں نے ناکامیوں کی پہلے جو کتاب لکھی تھی وزیر اعظم اسے پڑھ لیتے تو آج اس صورتحال سے ان کا واسطہ نہ پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ آٹے اور چینی چوروں کو جانتے ہیں مگرعوام کو یہ نہیں بتاتے کہ ان چوروں کو پکڑنے میں کیا رکاوٹ ہے ۔مافیاز نے حکومت کو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔وزیر اعظم کے بقول ان کے ارد گرد مافیاز موجو دہیں لیکن ان سے اپنی اور عوام کی جان چھڑانے کیلئے کچھ کرنے کو تیار نہیں ۔ لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں ۔غریب کے گھر کا چولہا بجھ چکا ہے ۔لوگوں کو دووقت تو کیا ایک وقت کا کھانا نہیں مل رہا ۔تعلیم ،صحت ،روز گار اور انصاف کے لئے لوگ دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔مگر حکمران سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت ڈلیور کرنے اور عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔حکومت عوام سے کیا گیا کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کرسکی۔آج تک حکومت نے محض اعلانات ،دعوے اور وعدے کیا جب ان سے کسی وعدے کو پورا کرنے کے بارے میں کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ بڑا لیڈر وہ ہوتا ہے جو یوٹرن لیتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وعدوں سے انحراف حکومت کیلئے معمولی بات ہے۔ حکومت نے کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کا بھی پاس نہیں کیا۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگر حکومت معاشی بہتری اور مزید تباہی سے بچنا چاہتی ہے تو نظریہ پاکستان اورآئین پر عمل کرتے ہوئے سود ی معیشت سے تائب ہوجائیں اور سپریم کورٹ میں سود کے حق میں دائر کی گئی اپیل واپس لے لیں ۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے چنگل سے نکلیں ۔قرضوں کی معیشت سے کبھی خوشحالی نہیں آسکتی ۔جب تک سود اور قرضوں کی معیشت ہے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔