اسلام آبادڈی چوک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری، پارلیمنٹ جانے کی دھمکی


اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک پر لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری رہا اور دھمکی دی کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، حکومت نے بات نہ مانی تو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے ۔

اسلام آباد کے ڈی چوک پراپنے مطالبات کے حق میں ملک بھر سے آئی لیڈی ہیلتھ ورکرز چوتھے روز بھی دھرنے پر بیٹھی رہیں دھرنے میں متعدد لیڈ ی ہیلتھ ورکرز بھی بیہوش ہوئی ہیں۔ دھرنے پر بیٹھی لیڈ ی ہیلتھ ورکرز وقفے وقفے سے جینا ہوگا مرنا ہوگا، دھرنا ہوگا اور شرم کرو، ڈوب مرو کے نعرے لگا رتی رہیں۔ دھرنے کی جگہ کو چاروں اطراف سے کنٹینرز و خاردار تاروں سے بلاک کیا گیا ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں موجود ہے۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صدر رخسانہ انور نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے معاملے کا نوٹس لیا ہے اور وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ 10 نکاتی ایجنڈے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،لیڈی ہیلتھ ورکرز کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ سے نہ تو ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کا سروس اسٹرکچر بنایا جا رہا ہے۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز پانچویں اسکیل میں بھرتی ہوتی ہیں اور تمام عمر اسی اسکیل میں گزار کر ریٹائر ہوجاتی ہیں جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہچننے تک بھی ان کی تنخواہ 18ہزار روپے سے زیادہ نہیں بڑھتی۔ 10 نکاتی ایجنڈے پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، حکومت مذاکرات میں غیر سنجیدہ نظر آرہی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے ہیں جن پر سروس اسٹرکچر بدلنے، پنشن، لائف انشورنس دینے، تنخواہوں میں اضافے اور انسداد پولیو مہم میں تحفظ دینے کے مطالبات درج ہیں۔اس دھرنے میں بہت سی لیڈی ہیلتھ ورکرز شدید بیماری کے باوجود شریک ہیں۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ،لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت محکمہ صحت کے ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم

ان کا کہنا ہے کہ دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہو جاتے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود وہ اپنے مطالبات پر ڈٹی رہیں گی۔