اپوزیشن پر تنقید میں مگن شبلی فراز نے غالب کے شعر کو اپنے والد احمد فراز کا شعر بنادیا


اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اپوزیشن پر تنقید کرتے کرتے خود ہی تنقید کی زد میں آگئے۔

شبلی فراز نے سوشل میڈیا پرگوجرانوالا کے جلسے کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ساتھ میں ایک شعر کا مصرعہ لکھا۔

معروف شاعر احمد فراز کے صاحبزادے شبلی فراز نے اپوزیشن کے جلسے پر طنزیہ مصرعہ تو لکھا لیکن انہوں نے غالب کے مصرعے کو احمد فراز کا مصرعہ قرار دے دیا۔

ویڈیو اسکرین گریب

گوجرانوالہ جلسے کی تصویر لگاتے ہوئے شبلی فراز نے غالب کے شعر کا یہ مصرعہ لکھا کہ؎ ’جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ‘ اور ساتھ کہا کہ یہ احمد فراز کا مصرعہ ہے۔

درحقیقت یہ مرزا غالب کی غزل کا شعر ہے اور وہ شعر یہ کہ ؎

ہے سبزہ زار ہر درو دیوارِ غم کدہ

جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ

بعدازاں سوشل میڈیا صارفین کی جانب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز  پر تنقید کی جانے لگی کہ یہ مصرعہ مرزا غالب کے شعر کا ہے۔

مزید پڑھیں: ایوان گو نیازی گو کے نعروں سے گونج اٹھا ،عمران خان خطاب نہ کرسکے

سوشل میڈیا پر اس بات کی نشاندہی کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے تصحیح کرتے ہوئے ایک بار پھر مرزا غالب کا نام لکھ کر مصرعہ ٹوئٹ کیا۔