چھاتی کا سرطان خاموش قاتل ہے،ثمینہ علوی


سوات: خاتون اول ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ چھاتی کا سرطان ایک خاموش قاتل ہے جو پاکستان میں ہرسال تقریبا چالیس ہزار خواتین کی اموات کا باعث بنتاہے۔جمعہ کے روز سوات میں چھاتی کے سرطان سے متعلق ایک آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خواتین میں اس بیماری کے خاتمے کیلئے بروقت اقدامات اور آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔

ثمینہ علوی نے صوبائی حکومتوں سے کہا کہ وہ اس مہلک بیماری کے موثر طور پر خاتمے کیلئے غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ملکر اپنی کاوشوں کو بڑھائیں،خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ چھاتی کینسر ایک ایسا مرض ہے جو بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتا ہے اور  ایک خاموش قاتل کی طرح  مریض کی جان لے لیتا ہے،  یہ کینسر خواتین میں پائے جانے والے کینسرز میں سے سب سے عام طور پر پایا  جانے والا کینسر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق عالمی سطح پر ہر سال تقریبا دس لاکھ خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق  پاکستان میں ہر سال تقریبا  40000خواتین  اس مرض کی وجہ سے اپنی جان سیہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، یہ تعداد  پاکستان میں اصل کیسز کی تعداد سے بہت کم ہے کیونکہ بہت سے کیسز ہماری معاشرتی اقدار کی وجہ سے رپورٹ نہیں ہو پاتے۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ مرض ایک سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، پاکستان میں جہاں اس بیماری سے نمٹنے کیلئے سہولیات کی کمی پائی جاتی ہے وہیں اس مرض کے متعلق ہمارے ہاں منفی رویے بھی پائے جاتے ہیں ۔ اسی لیے ، اس کے متعلق  آگاہی پیدا کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ثمینہ عارف علوی نے تمام خواتین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جلد تشخیص سے اس مہلک مرض کا علاج ممکن ہے، جہاں تک ممکن ہو اپنی ساتھی خواتین بالخصوص جو دیہی علاقوں میں رہتی ہوں، ان میں یہ شعور اجاگر کریں کہ فطری جھجک کا مظاہرہ نہ کریں، اگر خود میں کوئی بھی غیر معمولی علامت محسوس ہو تو اپنے خاندان کے افراد کو آگاہ کریں تاکہ اس مہلک مرض کو بروقت پکڑا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین ہماری آبادی کا تقریبا نصف حصہ ہیں، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ خواتین کی صحت سے متعلق سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، بریسٹ کینسر عام طور پر 50 سے 75 سال کی عمر کی خواتین کو ہوتاہے لیکن اب نوجوان خواتین بھی اس بیماری کا شکار ہورہیہیں، اسی لیے ضروری ہے کہ بریسٹ کینسر سیمتعلق ہمارے معاشرے میں پیدا کرنے کیلئے تمام وسائل و موثر پیمانے بروئے کار لائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام خواتین و حضرات بریسٹ کینسر کی علامات کو اپنے ذہن میں رکھیں اور اپنے اندر کوئی غیر معمولی علامت نظر آئے تو اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں تاکہ اس بیماری کا بروقت تدارک کیا جاسکے، میں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ جن کے خاندان میں پہلے سے کسی شخص کو بریسٹ کینسر ہو چکا ہو، ان  خاندانوں سے تعلق رکھنی والی خواتین میں بریسٹ کینسر کا امکان عام خواتین کی نسبت زیادہ ہوتا ہے، مزید وہ خواتین جن کو پہلے یہ کینسر ہو چکا ہو اور وہ صحتیاب ہو چکی ہوں ان میں دوبارہ کینسر ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔

انہوں نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس آگاہی مہم میں ہمارا ساتھ دیں اور ہمارا پیغام ملک کے کونے کونے تک پھیلانے میں تعمیری کردار ادا کریں۔  انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں سے بھی درخواست کی ہیکہ وہ اس مرض کی روک تھام اور علاج کیلئے اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں، تمام اداروں بشمول این جی اوز کے ساتھ رابطوں کو مثر بنائیں اور گھر گھر لوگوں تک آگاہی  اور معلوماتی موادپہنچانے کیلئے پولیو یا لیڈی ہیلتھ ورکرز کو متحرک کریں۔

انہوں نے چھاتی کینسر آگاہی سیمینار کے انعقاد پر ڈاکٹر سلمی جدون کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب خواتین اپنے گھر، معاشرے اور ملک کیلئے انتہائی اہم ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ آپ  بروقت علاج معالجے  کی اہمیت کو سمجھیں، اسے اپنا معمول بنا لیں اور دوسری خواتین میں بھی یہ شعور اجاگر کریں۔ سمینار کے موقع پر وویمن میڈیکل کالج ایبٹ آباد کی پرنسپل ڈاکٹر سلمی جدون، پروفیسر ڈاکٹر اسرار اور وویمن میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایبٹ آباد کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سلمی اسلم کنڈی بھی موجود تھیں۔