پاکستان نے باسمتی چاول پر بھارتی اجارہ داری کی کوشش مستردکردی


اسلام آباد (محمد اکرم عابد ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس نے بھارتی دعویٰ کو مسترد کردیا کہ باسمتی چاول کی پیداوار صرف ان کے ملک میں ہوتی ہے ۔

وزارت تجارت نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان انڈیا کو اس معاملے پر چیلنج کرے گا۔ پاکستان میں اعلیٰ معیار کا باسمتی چاول پیدا ہوتا ہے،پاکستان 7 لاکھ ٹن ایکسپورٹ کرتا ہے جس میںسے50 فیصد یورپی یونین کو جاتا ہے.یورپی یونین ہمارے موقف کو تسلیم کرچکا ہے ۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں ای کامرس پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی ۔

ایرانی سیب کی ایمپورٹ کی اجازت دینے کے معاملے کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سال کرونا وبا کی وجہ سے وفد سروے کے لئے نہ جاسکا ۔ سیب کی ایمپورٹ ہائی سیکورٹی رسک ہوتا ہے ۔ 2018-19 میں3.16 میٹرک ٹن سیب ایمپورٹ کیا گیا تھا جبکہ اس سال کرونا کی وجہ سے ایمپورٹ نہیں ہوا ۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایران میں سیب چیک کرنے کی بجائے بارڈر پر میکنزم بنایا جائے ۔ انسپکٹر زکی ضرورت بارڈر پر ہوتی ہے کہ وہ اجناس کو چیک کرے کہ کہیں مضرصحت تو نہیں ہے ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت کامرس کا کام پالیسی بنانا ہے اور جو فوڈ زآئٹم ایمپورٹ ہوتی ہے ان کے حوالے سے ان کے متعلقہ محکمے سے چیک کرایا جائے ۔بارڈ پر اور ملک میں چیک کرانا وزارت قومی تحفظ خوراک کا کام ہے ۔کمیٹی نے بارڈر پر میکنزم بنانے کی ہدایت کر دی ہے ۔ ہمسائیہ ممالک سے ایمپورٹ کی اجازت کے تناظر میں بلوچستان کے ٹماٹر اور پیازکے کم نرخ کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔

سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ جب بلوچستان میں ٹماٹر اور پیازکی فصلیں تیار ہوتی ہے تو ایمپورٹ کی اجازت نہیں دینی چاہیے تاکہ ملک کی ضرورت اس صوبے سے پوری کی جائے اور ہمارے کسانوں کو فائدہ ہو سکے ۔جب ہماری فصلیں تیار ہوتی ہے تو دیگر ممالک سے اجناس آنے کی وجہ سے نہ صرف ان کے نرخ متاثر ہوتے ہیں بلکہ کسانوں کو نقصان بھی ہوتا ہے ۔اس وقت ایمپورٹ پر پابندی لگائی جائے ۔

کامرس حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک متوازن طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے اگر ایمپورٹ کی اجازت نہ دی جائے تو قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں ۔ ملک میں ایمپورٹ اور ایکسپورٹ دونوں کی اجازت ہے۔ ایشو کے حوالے سے چیزوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ جب فصل تیار ہو گی تو ایمپورٹ بند کر دی جائے ۔قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے باسمتی چاول پر ریگولیشن حاصل ہے ۔12 اقسام کے باسمتی چاول ہیں ۔ یورپی یونین نے ہر شعبے میں ریگولیشن بنا رکھی ہے ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کامرس عبدالرزاق دائود نے کہا کہ انڈیا نے کئی سال پہلے جی آر رولز پاس کر دیئے تھے مگر بدقسمتی سے پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس سال پاس کیے ہیں ۔ یہ حکومت کو بہت بڑا فیصلہ ہے اب وزارت کامرس کے پاس اختیار ات آئے ہیں اور اس کے تحت 78 آئٹمز آئے ہیں ان کو تحفظ دیا جائے گا۔

حکام نے کہا کہ بھارت نے غلط دعویٰ کیا ہے کہ باسمتی چاول کی پیداوار صرف ان کے ملک میں ہوتی ہے ۔ یورپی یونین پہلے ہی مانا چکا تھا۔ پاکستان انڈیا کو اس پر چیلنج کرے گا۔ پاکستان میں اعلیٰ معیار کا باسمتی چاول پیدا ہوتا ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان 7 لاکھ ٹن ایکسپورٹ کرتا ہے جس میںسے50 فیصد یورپی یونین کو جاتا ہے ۔

قائمہ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے اور بھارت کے غلط دعویٰ کو دنیا بھر میں جھوٹا کیا جائے ۔ قائمہ کمیٹی کو ای کامرس پالیسی بارے بھی آگاہ کیا گیا ۔

عبدالرزاق دائود نے کہاکہ یہ 9 ستونوں پر کھڑی ہے ۔یہ بہت ہی بنیادی چیز ہے دیگر ممالک سے پیمنٹ آسانی سے آ اورجاسکتی ہے ۔پہلے میکنزم نہیں تھا اب بنایا گیا ہے مگر ابھی بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوں کچھ شکایات موصول ہوئی ہیں اس کو مزید بہتر کیا جارہا ہے ۔ اسٹیٹ بنک پاکستان کا بنیادی کام ہے ۔اس کیلئے ورکنگ کیپٹل چاہیے ہوتا ہے ۔ وزارت کامرس نے اسٹیٹ بنک پاکستان سے معاملہ اٹھایا ہے اور ایک سکیم بنائی جا رہی ہے جس میں اسٹیٹ بنک پاکستان کمرشل بنکوں کو گارنٹی دے گا ۔60 فیصد رسک بنک اور40 فیصد اسٹیٹ بنک اٹھائے گا ۔ آئندہ کے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ اور جائزہ لیا جائے گا۔