دہلی میں کشمیری خاتون دہشتگردقرار، تشددسے خوف و ہراس

فوٹوسوشل میڈیا

نئی دہلی: نئی دہلی میں کشمیری خاتون کو دہشت گرد قراردے کر تشدد کا نشانہ بنانے پر بھارت بھر میں مقیم کشمیر یوں میں خوف وہراس بڑھ گیا ہے ۔

سری نگر کی رہنے والی کشمیری خاتون نوربٹ پر نئی دہلی میں حملہ کرکے زخمی کر دیا گیا ۔ سیگریٹ سے چہرہ جلانے کے ساتھ ساتھ عمارت سے نیچے گرانے کی بھی دھمکی دی گئی۔ کمیشن فار وومن کی سربراہ سویتی مالوائی  کی مداخلت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے  تحقیقات شروع کر دی ہے.

کے پی آئی  کے مطابق نوربٹ نے ٹوئٹر پر واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ  لاجپت نگر دہلی میں  دو افراد اس کے اپارٹمنٹ میں گھس آئے۔ میرے کمرے میں موجود سازو سامان کی توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ مجھ پر بھی حملہ کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ دہلی پولیس کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوا اور وہ خاموش تماشائی بیٹھے ہوئے تھے۔ خاتون نے بتایا کہ بدھ کی شام لگ بھگ آٹھ بجے کے قریب لاجپت نگر دہلی کی امر کالونی میں یہ واقع پیش آیا ۔ کشمیری خاتون نے بتایا کہ مذکورہ افراد نے سیگریٹ سے چہرہ جلانے کے ساتھ ساتھ عمارت سے نیچے گرانے کی بھی دھمکی دی۔۔

ادھر کمیشن فار وومن  کی چیف سویتی مالوائی نے کہاکہ معاملے کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اور مذکورہ کشمیری خاتون کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ یہ واقع شرمناک ہے اوراس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملوثین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ن

وربٹ کے ساتھ پیش آئے واقعے کے بعد  نئی دہلی  میں  رہائش پزیر کشمیرطالبہ  فسیحہ ملک نے  کہا ہے کہ کشمیریوں کو دہشت گرد کہنا معمول  بن گیا ہے  ۔  میں تین سال سے دہلی  میں ہوں  پلوامہ حملے کے بعد ایک روز میں سکول میں تھی کہ  میری شرٹ پر پتھر باز لکھ دیا گیا۔