بلوچستان میں مقدمات کے فیصلے تیزی سے ہو رہے ہیں، جسٹس مشیرعالم

انٹرنیٹ فوٹو

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے جج جسٹس مشیر عالم نے کہا ہے کہ کہ بلوچستان میں مقدمات کے فیصلے تیزی سے ہو رہے ہیں قتل کا مقدمہ بھی چار پانچ ماہ میں سپریم کورٹ آ جاتا ہے باقی صوبوں میں تو کیس نمٹانے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے صوبہ بلوچستان میںغیر قانونی ماہی گیری( فشنگ)کرنے کے الزام میں گرفتارملزمان کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی ۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملزم ناخدا مصطفی اور فاروق کی سزا کے خلاف درخواست کی سماعت مکمل کرنے کے بعد درخواست خارج کر دی۔سماعت کا آغازہوا تو ملزمان کے وکیل کا کہناتھا کہ مجسٹریٹ کی عدالت نے دس دن میں اس کیس کا فیصلہ کر لیاہمیں کیس کی تیاری کا وقت نہیں ملا۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ہم دیر کریں تونا خوش ،جلدی کریں توبھی آپ نا خوش ،آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ بلوچستان میں مقدمات کے فیصلے تیزی سے ہو رہے ہیں۔جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ بلوچستان میں تو قتل کا مقدمہ بھی چار پانچ ماہ میں سپریم کورٹ آ جاتا ہے باقی صوبوں میں تو کیس میں سالوں لگ جاتے ہیں

. جسٹس مشیر عالم نے وکیل سے کہاکہ ہم آرڈر کر دیتے ہیں دو سال تک آپ کے کیس کا فیصلہ نہ کریں، اس پر وکیل نے جواب دیاکہ ملزمان سزا پوری کر چکے ہیں لیکن 75 لاکھ مالیت کا ٹرالر ابھی تک فشریز ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے۔جسٹس قاضی امین نے وکیل سے کہاکہ آپ نے اس معاملے میں نہ ٹرائل کورٹ اور نہ ہائی کورٹ سے رجوع کیاآپ ساری عدالتیں چھوڑ کر سپریم کورٹ آ گئے۔ملزمان پر غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑنے کا الزام تھا۔