پولیس کی موجودگی کے باوجود منشیات کی فروخت و استعمال بڑھ گیا


اسلام آباد (محمد اکرم عابد ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات نے آئی جی پولیس بلوچستان، سیکرٹری ایکسائز خیبر پختونخوا اور سیکرٹری ایکسائز بلوچستان کے خلاف تحریک استتحاق کا اعلان کردیا ان افسران نے کمیٹی اجلاس میں اطلاع کے باوجود شرکت نہیں کی.

قائمہ نے قراردیا ہے کہ جگہ جگہ پولیس کی موجودگی کے باوجود منشیات کا استعمال اور فروخت ہو رہی ہے وفاقی و صوبائی پولیس سربراہان کو طلب کرتے ہوئے کارکردگی رپورٹس مانگ لی گئی قائمہ کمیٹی نے انسدا د منشیات سے متعلق کے پی کے پولیس کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سردار محمدشفیق ترین کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے اجلاس میں مختلف اداروں کے سربراہوں یا ان کے نمائندوں کی جانب سے نوٹس کے باوجود عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا ہے اتفاق رائے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدم شرکت پر قواعد وضوابط کے تحت ایکشن لیا جائے گا۔ اس تناظر میں کمیٹی نے متزکرہ ا علی افسران کی کمیٹی اجلاس میں اطلاع کے باوجود عدم شرکت پر تحریک استحقاق کا نوٹسز جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک سے منشیات کا خاتمہ سنگین معاملہ ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر متعلقہ ادارں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کریں لیکن حکومت اس حوالے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔اینٹی نارکوٹکس فورس فوری طور پر بھرتیوں کا عمل مکمل کرتے ہوئے فنانس ڈویژن ضروری فنڈز مہیاکرے۔ نشاندہی کے باوجود مسائل کے حل پر پیش رفت نہیں ہو رہی۔متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے کمیٹی کو اپنی ذمہ داریوں اور کارکردگی سے متعلق آگاہ کرنا ہوگا۔ کمیٹی اپنے اختیار کو ہر صورت استعمال کرے گی۔ ہر جگہ پولیس کی موجودگی کے باوجود منشیات کا استعمال اور فروخت ہو رہی ہے۔ پولیس کے پاس تو ہر جگہ افراد بھی موجود ہیں اور تھانے بھی ہیں اس کے باوجود منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان قابل افسوس ہے۔

قائمہ کمیٹی نے ان معاملات پر پولیس کے تمام آئی جیز اور ان سے پولیس کی کارکردگی سے متعلق جواب کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر انسداد منشیات سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ مختلف اداروں کے لوگوں کو بلانا کمیٹی کی صوابدید ہے نہ کہ وزارت کی۔ کمیٹی کو اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہیں اور تمام متعلقہ اداروں کو کمیٹی اجلاس میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے معاملے پر ضرورت پڑی تو اصلاحات کیلئے وزریراعظم سے بھی بات کروں گا۔ ۔سینیٹر صابر شاہ نے کہاکہ منشیات سنگین انسانی مسئلہ ہے اس سے قوم کے بچے تباہ ہو رہے ہیں۔ اگر ادارے اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہے تو حکومتی اقدامات بھی نظر نہیں آرہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے ماتحت ادارے اگر کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے تو وزارت اس حوالے سے بری الا ذمہ نہیں ہو سکتی

۔سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ اگر کمیٹی میں وزیر آ سکتے ہیں تو اداروں کے سربراہ کیوں نہیں یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ منشیات پر قابو پانے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے مابین بہتر رابطہ کاری اور تعاون ضروری ہے۔سینیٹر رانا مقبول احمد نے کہا کہ منشیات پر قابو پانے کیلئے تمام متعلقہ ادارے اور حکومتی مشینری معاشرے کے دیگر طبقات کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل بنائے تاکہ اس ناسور سے جلد چھٹکارا پایا جا سکے۔

سیکرٹری وزارت انسداد منشیات نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے بتایا کہ بھرتی کا عمل مکمل کرنے کیلئے فنڈز فراہم نہیں کیے گئے اور جاری کیے گئے موجودہ فنڈز میں سے اخراجات پورے کرنے کا کہا ہے۔ رابطہ کاری، منشیات کے خلاف آگاہی اور دیگر اہم منصوبوں کیلئے الگ سے خصوصی فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ملک بھر میں منشیات کے عادی افراد کا سروے کروانا چا رہے ہیں لیکن اس کیلئے بھی فنڈز درکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبائی گورنرز کے ذریعے تمام یونیورسٹیوں میں منشیات کے استعمال سے متعلق افراد کی تعداد معلوم کرنے کیلئے سروے شروع کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے جس سے منشیات کے عادی افراد کی عددی تعداد معلوم کرنے میں مدد ملے گی۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے منشیات کے تدارک کیلئے اقدامات سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔ جس پر کمیٹی اراکین نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پولیس اپنی کارکردگی بہتر بنائے کیونکہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ جگہ جگہ منشیات کے عادی افراد موجود ہیں جن کے ذریعے منشیات فروشوں تک رسائی ممکن ہے لیکن پولیس اپنا کام نہیں کررہی