مظلوم کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں،ڈاکٹر خالد محمود


لندن:امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر گلگت بلتستان ڈاکٹر خالد محمود نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے آزادی کی جدوجہد میں قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کی ہے وہ اپنے حصے کا کردار اداکر رہے ہیں۔
تحریک کشمیر برطانیہ کے وفد سے بات چیت میں ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ کشمیری بھارت کی نو لاکھ فوج کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔سفارتی محاذ پر بھی کشمیری اور پاکستانی تنظیموں اور کمیونٹی نے کشمیریوں کے حق خودارادیت اوربھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ البتہ حکومت پاکستان نے جو کردار ادا کرنا ہے وہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں جبری گرفتاریوں پر میر واعظ کا اظہا ر تشویش

مقبوضہ کشمیر کے مظلوم و محکوم عوام پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں پاکستان کی خاطر اپنی جانوں اور عزتوں کے نظرانے پیش کر رہے۔ پاکستان کی جن سفارتی کوششوں اور حمائت کا بار بار اعلان ہورہا ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ حکمرانوں نے موجودہ حالات سے کوئی فائدہ نہیں آٹھایا ۔گذشتہ سال پانچ اگست کے اقدامات کے بعدبھارت کو موقع فراہم کیا کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی اور مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرے حکومت ان حالات پر مکمل خاموش ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کشمیر کاز کو اچھی طرح پیش کرتے ہیں مگر کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، نو لاکھ مسلح بھارتی فوج کو کشمیری پتھروں سے نہیںنکال سکتے۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی کے نتیجے میں بھارت پر دنیا کا کئی دبائو نہیں آیا کہ مودی کشمیر پر مذاکرات اور امن کا راستہ اختیار کرئے۔ پاکستان کی پالیسیوں پر حکومتی وزرا بھی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
تحریک کشمیر کے رہنمائوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آواز برطانوی ایوانوں تک پہنچانے کے لیے پھرپور کوششیں ہو رہی ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کی ایک کثیرتعداد کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمائت کرتی ہے۔ البتہ برطانوی حکومت کی پالیسی یہی ہے کہ بھارت اور پاکستان مسلہ کشمیر کو خودحل کریں کوئی ملک مداخلت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ان حالات میں حکومت پاکستان کو کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔