انسانی زندگی کے لیے رہنما اصول۔۔۔۔۔۔تحریر:لیاقت بلوچ


انسانی زندگی کے لیے رہنما اصول
تحریر:لیاقت بلوچ
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان
انسان اپنی زندگی میں کامیابی،آسانیاں اور عزت چاہتا ہے۔اسلام کی تعلیمات کے مطابق رہنما اصول واضح دو ٹوک یہ ہے کہ تقویٰ کی زندگی اختیار کرو،قرآن وسنت کے احکامات کی پابندی کرو دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل ہوگی۔جھوٹ،غیبت،حسد،دھوکہ دہی کے بت پالنے کی بجائے انہیں توڑ دیا جائے، اسی طرح انسانی زندگی کے لیے چند رہنما اصول کامیابی کا زینہ ہیں۔
انسان ہر دن،ساری زندگی بہت سے کام کرتا ہے،بہت ساری مصروفیات میں الجھا رہتا ہے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کاموں کی ترتیب لگائیں اور ایک وقت میں ایک ہی کام کیا جائے ۔
» یہ اصول پلے باندھ لیں کہ صرف وہی شخص کاہل نہیں جوکچھ نہ کرے بلکہ وہ شخص بھی کاہل ہے جو صلاحیت رکھتا ہو،بہتر کام کرسکتاہو لیکن نہ کرے۔کاہلی میں مایوسی ہی مایوسی ہے۔
» کھانا زندہ رہنے کے لیے ہے نہ کہ زندگی کھانے کے لیے ہے۔ اگر شیر دن میں صرف ایک مرتبہ کھاتا ہے تو پھر کم اور ایک مرتبہ کھانا انسان کے لیے بھی کافی ہونا چاہیے۔
» گھٹیا کاموں کی گھٹیا طریقے سے تعریف نہ کرو اس سے انسان خود بھی گھٹیا پن کا شکار ہوتا ہے۔یہ بھی بڑا گھٹیا پن ہوتا ہے کہ کسی کی تعریف کریں اس میں لیکن اور تضحیک داخل کر دیں ۔
»مطالعہ غور و فکر کے لیے کیا جائے،مطالعہ ذہن کے لیے وہی اہمیت رکھتا ہے جو ورزش جسم کے لیے،پڑھنے سے تحریری صلاحیت نکھرتی ہے،گفتگو میں وزن پیدا ہوتا ہے۔
» سادہ اور خوش لباس ہونا چاہیے،لباس بد وضح ہوگا تو حلیہ خراب لگے گا،حلیہ خراب ہوگا تو ذہانت بھی ماند پڑ جاتی ہے،کھانا اپنی خوشی سے لباس دوسروں کی خوشی کے لیے، انسانی زندگی میں فتح کامیابی بڑی اہم ہے، جو فتح آسانی سے حاصل ہو بے مایہ ہے اصل فتح وہی ہے جو سخت جدوجہد کے بعد حاصل ہو،فتح تو صرف مستقل مزاج لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔
» اپنی ذات کو تسخیر کرلینا عظیم ترین فتح ہے،کبھی کوئی شکست ایسی بھی ہوتی ہے کہ انسانی زندگی بدلتی ہے اور شکست کے دامن سے ایک فتح نہیں کئی کامیابیاں مل جاتی ہیں،اپنی فتح پر خود ہی خوشیاں منانا موت پر خوشی منانے کی مانند ہے۔اللہ کاشکر ادا کرو۔
» کوئی بھی فائدہ جو گھٹیا انداز اور جعل سازی سے لیا جائے،وہ ہمیشہ نقصان سے بہتر نہیں ہوتا۔فائدہ کامیابی بلا شبہ بہت مہنگی ہوتی ہے لیکن باوقار،خوبصورت فائدہ ہی اصل فائدہ ہے۔
» اپنی اولاد کی فکر کریں،اپنی اولاد کو سب سے پہلے اللہ اور رسول ﷺکی اطاعت اور فرمانبردار ی کاسبق دیں اس کے بعد آپ اسے جو سکھائیں گے وہ سیکھے گا خیر برآمد ہوگا۔
» آدمی مذہب کے لیے لڑتا ہے،مذہب کے لیے لکھتا ہے،مذہب کے لیے بولتا تقریر کرتا ہے، مذہب کے لیے مرتا ہے،غرض مذہب،مسلک کے لیے سب کچھ کرتا ہے سوائے اس کے مطابق زندگی گزارنے کے۔
»عورت جس قدر صابر،اطاعت گزار ہو گی، فرمانبرداری کا جتنا مظاہرہ کرے گی،گھر، خاندان پر حکمرانی کرنا اس کے لیے اتنا ہی آسان ہوتا جاتا ہے۔
» ہر وقت پریشان رہنا،مصیبت کا پیشگی اندازہ لگاتے رہنا خود کو مایوس کرنے کے مترادف ہے۔ایسی باتوں پر پریشان نہ ہوں جو شاید کبھی ظہور پذیر نہ ہوں۔اخلاص نیت سے جدوجہد ہی حل ہے ۔
» ملک ایسا ہی ہوتا ہے جیسے اس کے لوگ ہوتے ہیں،افراد کے کردار اور فکر پر ہی ملک کی ترقی اور پسماندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ اُمید,برداشت,خیر پر اکٹھے ہونے اور کرنے کی دعوت عام کرو۔
»مثالی اسلامی ریاست اسی وقت تشکیل ہوتی ہے جب خوشیاں اور غم سب کے سانجھے ہوں،تمام لوگ زیادہ سے زیادہ پُرمسرت زندگی گزاریں یہ نہیں کہ پُرمسرت زندگی صرف ایک مخصوص طبقہ کے لیے ہو ۔
نظام کی اصلاح کی جدوجہد کا حصہ بنے رہو یہ ہی انسانی فریضہ ہے……..بس
مصیبت سے آدھے راستے میں جا کر نہ ملو۔