اپوزیشن نے غیر معمولی مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کر دیے


اسلام آباد: چیر مین پی پی پی پی  بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی کھوکھرنے  گزشتہ روز یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا  ہے کہ ہم کسی امپائر کو تسلیم نہیں کرتے، استعفوں کی باری آنے پر یہ اقدام بھی کیا جائے گا  تاہم  حکومت استعفوں کی نوبت آنے سے پہلے ہی ختم ہو جائیگی

انھوں نے کہا کہ   ملک کے موجودہ سیاسی حالات سے ہم سب آگاہ اور واقف ہیں۔سیاسی گفتگو عام آدمی کے مسائل کے گرد  ہوتی ،مگر موجودہ حکومت نے اس بحث کو سیاسی انتقام کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی ۔آج عوام آٹے کے حصول کے لئے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی ملتی ہے نہ آٹا میسر آتا ہے ۔اس وقت آٹا 1400 روپے فی 20 کلو مل رہا ہے، چینی 110 روپے کلو ہے ۔گھی 250 روپے کلو اور ٹماٹر 180 روپے کلو پہنچ گئی ہے۔دال ماش بھی 250 روپے کلو پہ پہنچ گئی، کوئی سبزی سو روپے سے کم نہیں ملتی ۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سفید پوش طبقے کا بھرم بھی ختم ہوگیا ہے ۔کہاں ہیں کروڑوں نوکریاں اور گھر؟ ایک موصوف جنہوں نے ایک پوزیشن سے استعفی دیدیا تو وہ سی پیک کو کیسے چلا سکتے ہیں ۔عوام کے سامنے حقائق آنے چاہیئں، استعفی کیوں لیا گیا بتایا جائے، دہرا معیار قبول نہیں کرینگے ۔پی ڈی ایم گوجرانولہ جلسہ میں بلاول بھٹو  لالہ موسی سے ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے جلسہ گاہ جائینگے  ۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا جلسہ کامیاب ترین ہوگا، اس کے فورا بعد کراچی میں 18 اکتوبر کو جلسہ ہوگا اور پھر کوئٹہ میں میدان سجے گا ۔کوئی بھی ہمارا ساتھ دینے کو تیار نہیں، پوری دنیا میں ہم تنہا ہوگئے ہیں ۔اس وقت ملک کو ٹائیگر فورس کے حوالے کرکے انارکی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم اپنا مقدمہ لے کر عوام کے پاس جارہے ہیں ۔حکومت کی ترجیحات میں سی پیک شامل ہی نہیں ہے، ایسا ہوتا تو حکومت سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کو ایکٹ آف پارلیمنٹ بناتی ۔اگر ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون سازی ہوسکتی تھی تو پھر اس پر کیوں حکومت نے سنجیدگی نہیں دکھائی؟ موجودہ صورت حال میں اگر سی پیک اتھارٹی قانون آیا بھی تو اس کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے ایسے اتھارٹی کی بنیاد پر قانون ہونا ہی نہیں چاہیئے، اور ایسے شخص کی سربراہی ہی قبول نہیں کرینگے جو مشکوک ہوجائے ۔ہم کسی امپائر کو تسلیم نہیں کرتے صرف آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو مانتے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ اداروں کی اور اپوزیشن میں لڑائی کرائی جائے ۔حکومت نے اپنا بیانیہ کھڑا کرنے کی کوشش کی کہ اپوزیشن بھارتی بیانیہ کو تقویت دے رہی ہے ۔آرمی چیف نے واضح اور دوٹوک کہہ دیا ہے اور حکومتی بیانیے کی نفی کردی کہ تعمیری تنقید ہائبرڈ وار کے زمرے میں نہیں آتی ۔دنیا ہمیشہ پارلیمانی نظام کو مانتی ہے اور ہم بھی اسی لئے آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں ۔دو سال سے جب نالائق وزیر اور سربراہ کچھ نہیں کرسکے تو پھر کسی کو تو ملک چلانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی استعفوں کے معاملے پر کلیئر ہے حکومت کی ڈس انفارمیشن پر کان نہ دھریں، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھرنے کہا کہ جب استعفوں کی باری آئی وہ بھی دینگے مگر حکومت استعفوں کی نوبت آنے سے پہلے ہی ختم ہو جائیگی