میں ’’غیرتربیت یافتہ‘‘ ہی اچھا۔۔۔۔۔تحریر:انصار عباسی

ایک محترم لکھتے ہیں کہ بچوں کی تربیت اِس انداز میں کریں کہ وہ عورت کا احترام کریں اور جب بڑے ہوں تو اُنہیں ٹینس کھیلتی لڑکی، بسکٹ کھاتی خاتون اور ورزش کرتی ہوئی لڑکی فحش نہ دکھائی دے۔

وہ شخصی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لباس کی بنا پر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں فحاشی پھیلتی ہے، جو دوسری برائیوں کا سبب بنتی ہے تو دراصل وہ شخصی آزادی کے تصور کو رَد کر رہے ہوتے ہیں۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شخصی آزادی کو آئینِ پاکستان تحفظ دیتا ہے۔ پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ مغرب میں جو کہتے ہیں کہ فحاشی بڑی عام ہے پھر کیا وجہ ہے کہ وہاں عورتیں زیادہ محفوظ ہیں؟۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امربالمعروف و نہی عن المنکر کا کام کسی فرد کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا ہے۔

محترم سے صرف اِس حد تک متفق ہوں کہ ہمارے بچوں کو ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو تربیت اور کردار سازی کی ضرورت ہے، جو میری نظر میں جانوروں کا معاشرہ بن چکا ہے اور زندگی کا کوئی بھی aspect دیکھ لیں، انتہا کی گراوٹ نظر آئے گی لیکن جب یہ محترم شخصی آزادی کی بات اور فحاشی و عریانی کا اِس تناظر میں دفاع کرتے ہوئے جو کچھ کہتے گئے۔

وہ یا تو حقائق کے منافی تھا یا اُس میں درست معلومات کا فقدان تھا۔ اُن کی تحریر کی آخری چند سطریں ایک سیکولر کی طرف سے دراصل طعنہ سازی تھی، اُن پر، جن کی تربیت کی کمی کی وجہ سے اُنہیں بسکٹ کھاتی خاتون اور ورزش کرتی لڑکی فحش نظر آتی ہے۔ مجھ سے چونکہ اُن کی جان پہچان ہے تو اپنی طرف سے اُنہوں نے یہ مہربانی فرمائی کہ اپنی تحریر میں اُنہوں نے میرا نام لکھنے سے اجتناب کیا لیکن نام نہ لکھ کر بھی بتا دیا کہ اُن کا شکار کون ہے؟ میں کوشش کروں گا کہ اُن کے کالم میں اُٹھائے گئے نکات پر بات کروں۔

سب سے پہلے سب سے اہم بات۔ محترم سے گزارش ہے کہ قرآن حکیم کی سورۃ النور اور سورۃ الاحزاب پڑھ لیں تو اِس بات کا جواب مل جائے گا کہ حیا کے مرد اور عورت کے لئے کیا تقاضے ہیں اور عورت کے لئے ہمارے رب نے گھر کے اندر اور گھر سے باہر لباس کے کیا تقاضے متعین کئے ہیں اور کیوں کئے ہیں؟

فحاشی اور بےحیائی کے بارے میں اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں اور اِس بارے میں احادیثِ مبارکہ کیا کہتی ہیں، وہ بھی پڑھ لیں تو پھر شخصی آزادی، بسکٹ کھاتی خاتون اور ورزش کرتی لڑکی کے حق میں جو کچھ محترم نے لکھا، اُس کا دوبارہ تجزیہ کر لیں۔ شخصی آزادی کی بات کرتے ہوئے محترم نے آئینِ پاکستان کا بھی حوالہ دیا لیکن میری اُن سے درخواست ہوگی کہ آئینِ پاکستان کو دوبارہ پڑھ لیں، قراردادِ مقاصد اور آئین میں درج پرنسپلز آف پالیسی بھی دیکھ لیں، یہ بھی پڑھ لیں کہ آئین فحاشی کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

آئین اسلام کے نفاذ اور اسلام کے مطابق یہاں رہنے والے مسلمانوں کو زندگی گزارنے کے لئے اسلامی ماحول کی فراہمی کی ضمانت کیسے دیتا ہے؟ جس شخصی آزادی اور جس پیرائے میں اُس آزادی کی وہ بات کرتے ہیں، وہ آئینِ پاکستان میں کہیں نہیں ملے گی۔ اگر فحاشی کی تعریف اپنے قانون میں پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی پڑھ لیں جس کے لئے میںTHE INDECENT ADVERTISEMENTS PROHIBITION ACT, 1963 کا حوالہ تو کم از کم دے سکتا ہوں۔ محترم مغرب کی مثال دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہاں فحاشی (جس کو وہ نہیں، میرے جیسے ’’غیرتربیت یافتہ‘‘ لوگ فحاشی سمجھتے ہیں) کے ہوتے ہوئے عورت کیوں محفوظ ہے۔ محترم سے گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشل کی 2019 کی رپورٹ پڑھ لیں۔

جس میں اسکینیڈینیوژن ممالک میں ریپ سمیت جنسی تشدد کے کیسوں میں بےپناہ اضافہ ہونے کی بات کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ ممالک جو عورت کی برابری (gender equality) کے چیمپین سمجھے جاتے ہیں، وہاں خطرناک حد تک ریپ کیس بڑھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف فِن لینڈ میں ایک سال میں پچاس ہزار ریپ اور تشدد کے کیسز رجسٹرڈ ہوئے اور یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ بہت بڑی تعداد میں ایسے کیس رجسٹر نہیں ہوتے جبکہ جو کیس پولیس میں درج ہوتے ہیں، اُن میں بھی بہت کم تعداد میں مجرموں کو سزا ملتی ہے۔

محترم سے گزارش ہے کہ اگر ہو سکے تو UN Crime Trend Statistic 2013 بھی پڑھ لیں، جس کے مطابق برطانیہ میں سب سے زیادہ ریپ کیسز ہوتے ہیں، جس کے بعد ایسے جرائم امریکہ اور برازیل میں ہوتے ہیں۔ یہ بھی لکھا گیا کہ بہت سے ایسے کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

اِس رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی کے تناسب سے برطانیہ میں 36.44، امریکہ میں 35.85، برازیل میں 24.44، فرانس میں 17.13، میکسیکو میں 13اور انڈیا میں 5.7فیصد کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان ملک کا نام ہی اِس رپورٹ میں نہیں۔ یہ سب مغربی تہذیب والے ملک ہیں، جس سے اللہ ہمیں بچائے۔

محترم کو وقت ملے تو 2020 World Population Review کی رپورٹ بھی پڑھ لیں، جس کے بارے میں سنیئر صحافی صابر شاہ صاحب نے حال ہی میں دی نیوز میں لکھا، جس کے مطابق دنیا کے وہ دس ممالک جن میں سب سے زیادہ ریپ کیس ہوتے ہیں، اُن کی تفصیل کچھ یہ ہے: ایک لاکھ کی آبادی کے تناسب سے ساؤتھ افریقہ میں132.4فیصد ریپ کیس ہوئے، دوسرے نمبر پر Botswanaہے جہاں ایک لاکھ آبادی میں92.9فیصد ریپ کیس ہوئے، تیسرے نمبر پر Lesothoہے، جہاں ایک لاکھ کی آبادی میں82.7فیصد ریپ کیس ہوئے، Swaziland میں ایک لاکھ کی آبادی میں82.7فیصد ریپ کیس ہوئے۔

Bermudaمیں ایک لاکھ آبادی کے تناسب سے67.3فیصدریپ کیس ہوئے، Swedenمیں ایک لاکھ آبادی میں63.5فیصد ریپ کیس ہوئے، Surinameمیں ایک لاکھ آبادی میں 45.2فیصد ریپ کیس ہوئے، Costa Ricaمیں بھی یہ تناسب45.2فیصد تھا، Nicaraguaمیں ایک لاکھ آبادی میں31.6فیصد ریپ کیس ہوئے جبکہ امریکہ میں ایک لاکھ کی آبادی میں 27.3فیصد ریپ کیس ہوئے۔

رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ دوسرے ممالک کی طرح امریکہ میں ریپ کیسز بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں اور صرف نو فیصد مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے جبکہ صرف تین فیصد، صرف ایک دن جیل میں گزرتے ہیں۔ 97فیصد ریپ کے مجرم آزاد گھومتے ہیں۔ ریپ کے زیادہ کیسوں والے ممالک میں مسلمان ممالک بہت نیچے ہیں۔

عورت مغربی ممالک میں کتنی محفوظ ہے؟، اِس بارے میں اگر وقت ملے تو محترم UNICEF کی 2020 کی رپورٹ (Not An Object: On Sexualization and Exploitation of Women and Girls) پڑھ لیں۔ محترم کے لئے صرف ایک پیرا اِس رپورٹ کا یہاں پیش کر رہا ہوں: “A report by the American Psychological Association (APA) on the sexualization of girls in the media found that girls are depicted in a sexual manner more often than boys; dressed in revealing clothing, and with bodily postures or facial expressions that imply sexual readiness. In a study of print media, researchers at Wesleyan University found that on average, across 58 different magazines, 51.8 percent of advertisements that featured women portrayed them as sex objects. However, when women appeared in advertisements in men’s magazines, they were objectified 76 percent of the time.”. یہ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ عورت کو sex object کے طور پر میڈیا میں پیش کرنے کی وجہ سے عورت کے خلاف دنیا بھر میں جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

میرا تو ماننا یہ ہے کہ جب اسلام نے کہہ دیا کہ شرم و حیا، مرد اور عورت دونوں کے لئے لازم ہے اور اِسے ہمارے ایمان کا حصہ بھی بنا دیا اور لباس اور ستر کی حدیں مقرر کر دیں تو بات ختم۔ اوپر دی گئی مغربی دنیا کی مثالیں اور اُنہی کی رپورٹس کو تو صرف محترم کے لئے پیش کیا کہ شاید اُنہی کی بات مان لیں۔ محترم سے گزارش ہے کہ اسلام بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی تعلیم سب کو دیتا ہے جبکہ سزا دینے کا حق ریاست کو ہے۔

ویسے محترم کیا اس بات کا جواب دیں گے کہ کیا یہ شخصی آزادی اپنے لئے پسند کریں گے؟ ہم میں بہت سے لوگ اپنی بہن بیٹی کو تو ٹی وی چینلز پر اُسی پروڈکٹ کے اشتہار کا حصہ اور اُسی طرح ورزش کرکے دنیا کو دکھانا تو پسند نہیں کریں گے اور اس کی اجازت بھی نہیں دیں گے مگر جب معاملہ دوسرے کی بہن بیٹی کا ہو تو ہمارا اصول اور سوچ کا زاویہ ہی بدل جاتا ہے۔ معاشرے کو مزید گندگی کی طرف دکھیلنے کے بجائے اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کریں۔