پشاور کی 90 سالہ خاتون حقِ مہر کیلئے سپریم کورٹ پہنچ گئی

انٹرنیٹ فوٹو

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے پشاور سے تعلق رکھنے والی 90 سال کی سعیدہ سلطان نامی خاتون کے حقِ مہر کے معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت  نومبر تک ملتوی کردی ۔

 پشاور سے تعلق رکھنے والی 90 سالہ بزرگ خاتون کے حقِ مہر کے کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ حقِ مہر کے اجرا کے معاملے کو سیشن کورٹ میں بھیجنے کا حکم دے سکتے ہیں یا درخواست خارج کر سکتے ہیں، سوچنے کیلئے کچھ مہلت دیں ۔

درخواست گزار سعیدہ سلطان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ میری موکلہ کا حقِ مہر 3کنال 10مرلے زمین تھا، یہ زمین نام ہونے کے باوجود اس کا قبضہ نہیں مل سکا۔  ضعیف العمر خاتون کی درخواست پر عدالت عظمیٰ نے سماعت نومبر تک ملتوی کر دی ۔

درخواست گزار کے وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعیدہ سلطان کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، مختلف عدالتوں سے فیصلے حق میں ہونے کے باوجود اجرا کے معاملے میں جعلی رپورٹ پیش کی گئی۔دوسری جانب حقِ مہر کے حصول کیلئے سپریم کورٹ آنے والی 90 سالہ خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی، 90سال کی ہو چکی ہوں، مگر حقِ مہر نہیں مل سکا۔

انہوں نے بتایا کہ کیس 1970 سے مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے، میرے حق میں فیصلے ہونے کے باوجود مجھے مہر میں دی گئی زمین کا قبضہ نہیں مل سکا، 2010 میں مجھے قبضہ دلانے کے حوالے سے جعلی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔سعیدہ سلطان نے اس موقع پر سوال کیا کہ اب اگر سیشن کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا تو کیا 200 سال کی عمر میں مجھے انصاف ملے گا؟پشاور کی 90 سالہ بزرگ خاتون نے فریاد کی ہے کہ سب بہنوں اور بیٹیوں والے ہیں، میرے ساتھ بھی انصاف کیا جائے۔