سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا بینکوں سے متعلق عوامی شکایات کا نوٹس

اسلام آباد (محمداکرم عابد ) ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسلام آباد میں بینکوں سے متعلق عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے اسٹیٹ بنک سے کاروائی کی رپورٹ مانگ لی۔

قائمہ نے خبردار کیا ہے کہ باڈر مارکیٹ سے بلیک مارکیٹ کو فروغ ملے گا یہ اسمگلنگ کو بھی فروغ دے گا اگر سمگلنگ کو روکنے کا یہی طریقہ ہے تو تمام باڈرز پر یہ ماڈل اختیار کیا جائے تا کہ تمام لوگ مستفید ہو سکیں۔ منگل کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامدنائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ صوبائی حکومتوں میں یو ڈی سی و دیگر کے پے سکیل زیادہ ہیں وفاق میں پے سکیل کم ہیں۔ ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں بینکوں کی کریڈٹ اور ڈیپازٹ کی ضلع وائز تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیںکہ بینکوں کی بیلنس شیٹ کا کتنے فیصد پبلک سیکٹر اور کتنے فیصد پرائیویٹ سیکٹر میں جا رہا ہے تا کہ مختلف علاقوں کی ترقی کی شرح کو دیکھا جا سکے ۔.

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ گوادر میں ایکسپورٹ سیل پر ٹیکس صفر ریٹ ہے ایف ڈی آئی بھی وصول نہیں کی جاتی اور اس علاقے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے صرف ایک فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ گوادر فری زون سہولت دی گئی ہے تاکہ ایکسپورٹ میں بہتری لائی جا سکے اور ایکسپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی بھی نہیں ہے۔گزشتہ پانچ ماہ کے دوران اسلام آباد کی سلک بینک کی برانچوں میں وصول شکایات کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ کل 42شکایات وصول ہوئیں۔.

مسئلہ حل نہ ہو تو بینک محتسب کو بھیجتے ہیں۔کمیٹی نے موصول شکایت کی تفصیلات طلب کرلی ہیں بتایا جائے کہ کتنی حل ہوئیں پالیسی کیا ہے۔ سینیٹرز انوار الحق کاکڑ، مصدق مسعود ملک اور ذیشان خانزادہ نے بینک شکایات کے حوالے سے تحفظات کے اظہار پر تحریری جوابات طلب کئے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کے پے سکیل یکساں کرنے کے حوالے سے قرارداد پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی اداروں میں تمام ملازمین کے پے سکیل یکساں ہیں مگر کچھ اداروں میں کام کی نوعیت کے حوالے سے زیادہ الاونسز دیئے جاتے ہیں۔۔

مزید پڑھیں:شہباز شریف 14روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں ا سمگلنگ کے تدارک اور مقامی لوگوں کو روز گار فراہم کرنے کے حوالے سے باڈر مارکیٹس بنائی گئی ہیں یہ ماڈل دنیا کے مختلف ممالک نے اختیارکر رکھا ہے کسٹم کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اسمگلنگ کو مکمل طور پر ورکا جا سکے جہاں سے اسمگلنگ کی اطلاع ملتی ہے وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے اسمگلنگ کی وجہ سے تجارت اور انڈسٹری متاثر ہو رہی تھی حکومت کی بھر پور توجہ کی وجہ سے بہتری لائی جا رہی ہے۔ارکان نے کہا کہ باڈر مارکیٹ سے بلیک مارکیٹ کو فروغ ملے گا یہ اسمگلنگ کو بھی فروغ دے گا اگر سمگلنگ کو روکنے کا یہی طریقہ ہے تو تمام باڈرز پر یہ ماڈل اختیار کیا جائے تا کہ تمام لوگ مستفید ہو سکیں۔