گلگت بلتستان کو صوبہ نہ بنائیں،آزاد کشمیراورگلگت بلتستان کو باہم ملا دیں،وزیراعظم کے نام خط


اسلام آباد:جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو مشورہ دہا ہے کہ گلگت بلتستان کوآزاد کشمیر جیسا سیٹ اپ دیا جائے یا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو باہم ملاکر ایک مشترکہ قومی حکومت تشکیل دی جائے۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائمقام چیئرمین عبدالحمید بٹ نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نام ایک کھلا خط بزریعہ ڈاک ارسال کیا ہے۔

خط کی کاپی صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سمیت14 سرکردہ سیاسی رہنماوں کو بھی ارسال کی گئی ہے ۔ ان رہنماوں میں، قائد حزب ِ اختلاف قومی اسمبلی میاں محمد شہباز شریف ، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان مولانا فضل الرحمان، امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان، پشتونخوہ عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے صدر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ،وزراء مخدوم شاہ محمود قریشی (وزیر خارجہ)، شہریار خان آفریدی ( چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی) اور ڈاکٹر شیرین مزاری ( وزیر انسانی حقوق) کے علاوہ محترمہ مریم نواز صاحبہ (نائب صدر مسلم لیگ ۔ن) اور سنیٹر محمد عثمان خان کاکڑ (رہنما پشتونخوہ عوامی ملی پارٹی) بھی شامل ہیں۔ عبدالحمید بٹ نے وزیر اعظم کے نام خط میں مسئلہ جموں کشمیر پر پاکستان کا دیرینہ موقف یاد دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ پوری ریاست جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقع ہے۔ 5 اگست 2019ء کی بھارتی جارحیت کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو یاد دلایا گیا کہ پاکستان نہ صرف کشمیریوں کے حق حودارادیت کا حمایتی ہے بلکہ کشمیریوں کی طرح بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی جانب سے ایسے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت و مذمت کرتا رہا ہے جس سے ریاست کی متنازع حیثیت یا ریاست کی جغرافیہ متاثر ہونے کا احتمال رہتا ہو۔

عبدالحمید بٹ نے وزیر اعظم پاکستان کو گلگت بلتستان کے حوالے سے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں، آزاد کشمیر کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سمیت جنوری 2019ء کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنا غیر قانونی عمل ہے۔ قائمقام چیئرمین نے سنگین خدشات و تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے خط میں وزیر اعظم پاکستان کو سیزفائرلائن کے دونوں اطراف سے ریاست جموں کشمیرکی مسلمہ قیادت بالخصوص بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر سے حریت کانفرنس اور لبریشن فرنٹ ،اور آزاد کشمیر حکومت سمیت یہاں کے جملہ سیاسی قائدین اور کشمیری ڈائسپورا کا کئی بار واضح طور پر بیان کردہ موقف ، جس میں انہوں نے ایسے اقدام کو نامنظور قرار دیا ہے، کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ تحریک کے وسیع تر مفاد کی خاطر ایسا اقدام اٹھانے سے اجتناب کیا جائے۔

خط کے ذریعے گلگت بلتستان کے حوالے سے مشترکہ مزاحمتی قیادت؛ سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کا مشترکہ بیان اور کل جماعتی کانفرنس میں آزادکشمیر کی جملہ قیادت کی طرف سے منظور شدہ قراردادوں کے ذریعے اپنائے گئے کشمیریوں کے قومی موقف سے بھی وزیر

اعظم پاکستان کو آگاہ کیا گیا ۔ خط میں18 مارچ 2016ء کواس وقت کے وزیر اعظم پاکستان کا گلگت بلتستان کے حوالے سے ایسا کوئی قدم نہ اٹھانے کی یقین دہانی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے محمد یاسین ملک صاحب کے خط کے جواب میں تحریر کیا تھا ۔ وزیر اعظم پاکستان کو خط میں تحریر کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بناکر پاکستان میں ضم کرنے سے نہ صرف مسئلہ کشمیر کی متنازع حیثیت متاثر ہوجاتی ہے بلکہ کشمیر پر اپنے موقف میں کمزوری لاکر پاکستان صدیوں سے مسئلہ کشمیر پر قائم اپنی اخلاقی برتری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

ایسا قدم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے 5 اگست 2019ء کے اقدام جیسا تصور کیا جائے گا کیونکہ دونوں اقدام ریاستی تشخص کو پامال کرنے اور ریاست کے حصے بکھیرنے کے مترادف ہونے کے سبب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 91 اور 122 و 126 جو بالترتیب 1951 اور 1957 کو منظور ہوئیں تھیں کے منافی ہیں۔انہوں نے مزید لکھا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کو ریاست سے الگ کرکے پاکستان میں ضم کیا گیا تو اسے جدوجہد ِآزادی میں مصروف آزادی پسند عوام اور قربانیاں دینے والے کشمیری غداری کے مترادف قرار دیں گے ۔ خط میں تحریر ہے کہ ایسے اقدام سے آزادی و حریت پسند کشمیری عوام کے جذبات مجروح ہو نے کا اندیشہ ہے جس سے تحریک آزادی پر دور رس منفی نتائج مرتب ہوں گے۔

عبدالحمید بٹ نے وزیر اعظم پاکستان کے نام ارسال کردہ خط میں مشورہ دیا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو باہم ملاکر ایسا نظام حکومت تشکیل دیا جائے جس سے مقامی آبادی کے بنیادی انسانی حقوق مہیا ہوں جو ہم سب کا مشترکہ اور بنیادی مقصد ہے مگر اس کی آڑ میں ایسے پالیسی پر گامزن رہنا جس سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ جموں کشمیر کے لاکھوں عوام کی زندگیاں متاثر ہورہے ہوں کسی صورت قبول نہیں ،کیونکہ1947ء سے ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی کے حصول کے لئے آج تک لاکھوں کشمیریوں نے خون کا نظرانہ پیش کیا ہے جو ہنوز جاری ہے۔قائمقام چیئرمین نے خط میں تحریر کیا ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال بہتر کرنے اور ناہی ان کی محرومیوں کے خاتمے کے خلاف ہیں بلکہ ہم اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ خواہشمند ہیں کہ صوبہ بنائے بغیر باعزت راستہ اختیار کر کے انہیں ہم سے کئی گناہ زیادہ حقوق دستیاب ہوں۔خط میں مزید مشورہ دیا گیا کہ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ بھی دیا جا سکتا ہے تاکہ اپنے مقامی صدر، وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے نظا م ِحکومت کے ذریعے وہ بحیثیت باشندہ ریاست جموں کشمیر کے اپنے مقامی آبادی کی فلاح و بہبود اور ترقی کے مواقع کا بہتر استعمال کر سکیں۔ عبدالحمید بٹ نے امید کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم کشمیریوں کی بے مثال قربانیوںکو مدء نظر رکھتے ہوئے ہی گلگت بلتستان سے متعلق فیصلہ کریں گے۔