صوبے کے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے کام کرنا چاہ رہے ہیں:شاہدآفریدی


کراچی:اسٹار کرکٹر شاہد آفریدی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر صوبے کے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے کام کرنا چاہ رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے گرین کریسنٹ ٹرسٹ (جی سی ٹی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زاہد سعید کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہی۔ کراچی میں شاہد آفریدی فاؤنڈیشن (ایس اے یف) فلاحی بنیادوں پر پسماندہ علاقوں میں جی سی ٹی کے اشتراک سے 8 سکولز پچھلے دو سال سے زائد عرصہ سے چلا رہی ہے جن میں غریب گھرانوں کے 2400 بچے زیر تعلیم ہیں۔ جی سی ٹی کے سندھ کے پسماندہ علاقوں میں  150 سے زائد فلاحی اسکولز ہیں جن میں محروم طبقات کے 29 ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

شاہد آفریدی کا جاری بیان میں کہنا تھا کہ ایس اے ایف اور جی سی ٹی کا سندھ میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے قائم  الائنس اس اعلی تر مقصد کے لیے سندھ حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل ملا کر اس الائنس کے پاس تعلیم کے سیکٹر میں کام کرنے کا 32 سالہ تجربہ ہے  جس میں سے چھ سال ایس اے ایف کے اور 26 سال جی سی ٹی کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی سب سے زیادہ خوشی ہے کہ کہ ایس اے ایف، جی سی ٹی کے ساتھ مل کر کراچی کے پسماندہ اور غریب ترین علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے پسماندہ علاقوں میں تعلیم کو فروغ دینے سے ملک کی ترقی کے لیے وافر ٹیلنٹ میسر آئے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کا الائنس صوبے میں زیادہ سے زیادہ سرکاری اسکولوں کو گود لینا چاہ رہا ہے تاکہ ان کا معیار تعلیم بلند کر سکے۔اس سلسلے میں ان کی خواہش ہے کہ فیڈرل بی ایریا، کراچی میں قائم ابراہیم علی بھائی گورنمنٹ اسکول کو بھی گود لیا جائے جہاں سے انہوں نے میٹرک پاس کیا ہے۔

اس موقع پر شاہد آفریدی نے ملک بھر میں قائم سرکاری اور نجی سکولوں کی انتظامیہ سے پر زور اپیل کی کہ  حکومت کے فراہم کردہ ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل درآمد کریں کیونکہ اس  سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کے نتیجے میں  سکولوں کو دوبارہ  بند کرنا پڑ سکتا ہے جس کا ملک کسی بھی طور متحمل نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ حکومت کی فراہم کردہ صحت عامہ سے متعلق گائیڈ لائینز پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں  سکول جانے والے ٹیچرز، بچوں، اور دوسرے سٹاف کی صحت کو خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ شاہد آفریدی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سکولوں کے لیے متعین کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے اور ایسا نہ ہو کہ دوسرے ملکی قوانین کی طرح جس میں ٹریفک رولز بھی شامل ہیں ہم بحیثیت قوم صحت عامہ سے متعلق ان گائیڈلائنز کی بلکل بھی پرواہ نہ کریی۔

مزید پڑھیں:مسئلہ کشمیر: شاہدآفریدی اورگوتم گمبھیر آمنے سامنے

اس سلسلے میں والدین کا بھی بہت اہم کردار ہوگا۔ جی سی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زاہد سعید نے جاری بیان میں سکول ایس او پیز کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ اسکولوں کے بچوں اور اساتذہ کی صحت کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ بنایا جا سکے۔ اس موقع پر شاہد آفریدی اور زاہد سعید نے مخیر حضرات اور اداروں سے پرزور اپیل کی کہ سندھ میں نادار گھرانوں کے بچوں میں خواندگی کے فروغ کے لئے دونوں فلاحی اداروں کی مشترکہ رفاعی مہم کا بھرپور ساتھ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس ایمرجنسی کی صورت حال کی وجہ سے تعلیمی میدان سے منسلک ایسی فلاحی مہمات کو معیشت کے سکڑ جانے کی وجہ  سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔