رجب طیب اردوان اورعمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ ایک بار پھربہترین انداز سے پیش کیا ہے:مشعال ملک

اسلام باد:تنظیم برائے امن و ثقافت کی چیرپرسن مشعال حسین ملک  نے کہا ہے کہ  ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  سے خطاب میں کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر بہترین انداز سے پیش کیا  ہے جس پر میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔

بھارتی فوج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا  گیاہے ۔ مشال حسین ملک  نے  عالمی برداری سے اپیل ہے کہ وہ بھارت کو  مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام سے روکے ۔

مشعال حسین ملک  نے کہا  ہے کہ آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر  میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جارہا ہے،مشعال نے ترک صدر کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام   کے پاس ترک صدر کا  دلی شکریہ کا اظہار کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  سے خطاب میں ان کے الفاظ متاثر کن ہیں تھے  ۔ ان الفاظ نے  خطے کے لاکھوں ناامید لوگوں کو امید فراہم کی ہے۔مشعال نے کہا کہ  ان کی تقریر کشمیری عوام کی امنگوں کی حقیقی عکاسی ہے ، جنھوں نے عالمی برادری کو یہ یاد دلا یا کہ   گذشتہ سال 5 اگست کو بھارت کی جانب سے کشمیر میں یکطرفہ اقدامات نے مسئلہ کو مزید پیچیدہ کردیا۔ .

انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم کی تقریر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے  عالمی فورم پر کشمیریوں  کے حق میں بات کی  اور بھارت کو خبردار کیا کہ  پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری  ہے کہ وہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کو  حل کرے کیونکہ ہندوستان کی فاشسٹ حکومت عالمی سطح پر بے نقاب ہوچکی ہے۔آر ایس ایس کے دہشت گرد تنظیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ،

مزید پڑھیں:بھارت کی دہشتگرد فوج کشمیریوں پر تجربات کر رہی ہے، مشعال ملک

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ اس دہشت گرد تنظیم کو بلیک لسٹ کرے اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے۔ کشمیر یوںکی نسل کشی جنگی جرائم کے ارتکاب پربھارت کے خلاف دفاعی اور معاشی پابندیاں عائد کی جائیں۔انہوں نے اقوام متحدہ سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت  کے خاتمے کے بعد بھارت کشمیر میں  ابادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے  اس لیے کشمیر میں  مردم شماری  کرائی جائے