کھلاڑی اور تماشائی۔۔۔۔۔۔۔۔سہیل وڑائچ


تماشائی: جمہوریت میں ون وے ٹریفک نہیں چلتی، اپوزیشن کو راستہ دیے بغیر نظام نہیں چلتا۔

کھلاڑی:یہ اپوزیشن نہیں یہ تو چوروں اور ڈاکوئوں کے جتھے ہیں، جو منی لانڈرنگ کے مجرم ہیں، اِن کو راستہ دے دیا تو ہمارا بیانیہ ختم ہو جائے گا۔

تماشائی:اپوزیشن کی سنیں تو وہ آپ کو غیرجمہوری، سلیکٹڈ اور منتقم مزاج کہتی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف ہونے کے باوجود جمہوریت کی گاڑی کو چلانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن دونوں پہیوں کی ضرورت ہے۔

کھلاڑی:اپوزیشن این آر او مانگتی ہے، یہ لوگ احتساب اور مقدمات سے فرار کے لئے بہانہ بازی کرتے ہیں، میں انہیں این آر او نہیں دوں گا۔

تماشائی:حقیقت تو یہ ہے آپ نے ملک فتح نہیں کیا کہ جو چاہیں مفتوح کے ساتھ سلوک کریں، آپ الیکشن جیت کر آئے ہیں اور آپ کی جماعت کو کل ووٹرز میں سے صرف 16فیصد نے ووٹ دیے ہیںجبکہ اپوزیشن نے 20.3فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں، ن لیگ نے 12فیصد، پیپلز پارٹی نے 6.5فیصد اور ایم ایم اے نے 2.3فیصد، یوں یہ سارے مل کر 20.3فیصد بن جاتے ہیں، آپ اپنے سے تعداد اور تناسب میں بڑی اپوزیشن کے ساتھ انتقام سے کام نہیں لے سکتے۔

کھلاڑی: جمہوریت اور حکومت مضبوط فیصلوں سے چلتی ہے، اس وقت ملک کی غالب اکثریت میرے ساتھ ہے، کوئی تحریک نہیں، کوئی ہلہ گلہ نہیں، کوئی دھرنا نہیں، اپوزیشن کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اپوزیشن کے لوگ اس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں کئی اپوزیشن اراکین جان بوجھ کر نہیں آئے، اسی لئے ہم نے سارے بل منظور کروا لئے، اب ہم 16فیصد نہیں 51فیصد بلکہ 70فیصد حمایت کے حامل ہیں۔

تماشائی: ہر حکمران آپ ہی کی طرح سوچتا ہے، آپ کل آبادی کا صرف 8فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں، باقی 92فیصد نے آپ کو ووٹ نہیں دیا اس لئے سوچ سمجھ کر چلیں، یک طرفہ ٹریفک نہ چلائیں، اپوزیشن کو بھی جگہ دیں، اس کی بھی سنیں۔

کھلاڑی: یہ ملک اور اپوزیشن اب اکٹھے نہیں چل سکتے، نواز شریف نے ملکی اداروں پر جس طرح تنقید کی ہے اس کے بعد سے تو واضح ہوگیا ہے کہ اب ہمارا کوئی متبادل نہیں، ہمارے حریف آئوٹ ہو چکےہیں۔

تماشائی: جب آپ اپوزیشن میں تھے تو آپ بھی ملکی اداروں پر ایسی ہی تنقید کیا کرتے تھے، یہ خیال ذہن سے نکال دیں کہ آپ کا متبادل کوئی نہیں۔ جس دن آپ نکلیں گے ہر کوئی آپ کا متبادل بنتا ہوا نظر آئیگا۔

کھلاڑی: میں ایماندار ہوں، پاپولر ہوں، قوم پرست محب وطن ہوں، میرا کوئی اسکینڈل نہیں، میں اداروں کے ساتھ مل کر چلتا ہوں، مجھے کوئی کیوں ہٹائے گا۔

تماشائی: بھٹو بھی ایماندار تھا، آپ سے کہیں زیادہ پاپولر تھا، آپ سے بڑا قوم پرست تھا، اس نے تو ایٹم بم بھی بنایا تھا، بھٹو کا بھی کوئی مالی اسکینڈل نہیں تھا، اسے بھی اقتدار کے آخری دن تک اداروں کی مکمل سپورٹ حاصل تھی مگر انجام کیا ہوا؟

کھلاڑی: بھٹو جاگیردار تھا، انتقام سے کام لیتا تھا، اپوزیشن کو جیلوں میں ڈال رکھا تھا، ظلم کا بازار گرم تھا، ادارے اس سے اندر سے خوش نہیں تھے، اپوزیشن اس کا سر لینا چاہتی تھی، اب ایسے حالات نہیں ہیں۔

تماشائی: بھٹو نے تو ملک کے اندر بہت سی اصلاحات کیں لیکن اپوزیشن کے ساتھ اس کا سلوک ٹھیک نہیں تھا، اپوزیشن آج کی طرح اس وقت بھی مقدمات میں الجھائی جاتی تھی، آپ کا اپوزیشن سے سلوک بالکل بھٹو دور والا ہے، آپ پر بھی الزام ہے کہ آپ منتقم مزاج ہیں۔

کھلاڑی: بھٹو کا مزاج آمرانہ تھا۔

تماشائی: جناب کا مزاج کب جمہوری ہے؟

کھلاڑی: تم تو خواہ مخواہ جذباتی ہو رہے ہو۔ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں کی گئی، جھوٹی سچی تقریریں سن کر تم توازن کھو بیٹھے ہو۔ ہم بھی اپنی سیاسی حکمت عملی بنا رہے ہیں، ہم جوابی سیاسی بیانیہ دیں گے اور ان کو ایکسپوژکریں گے۔

تماشائی: آپ کے آزمائشی چھ ماہ میں سے 3ماہ گزر چکے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ آپ نے اپنی گورننس کو کتنا بہتر کیا ہے؟ عوامی فلاح کے لئے کیا کیا ہے؟

کھلاڑی: معیشت کا پہیہ چل پڑا ہے، کنسٹرکشن اور کاٹن کے شعبے گروتھ دکھا رہے ہیں، کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہوگیا ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائی گئی آمدن میں اضافہ ہوا ہے، اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون بڑھا ہے، ہمیں دور کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

تماشائی: فیصلہ تو یہ ہونا ہے کہ کیا اپوزیشن مارچ 2021کے سینیٹ الیکشن سے پہلے اپنے سارے کارڈز شو کرے گی؟ کیونکہ اگر سینیٹ میں پی ٹی آئی نے اکثریت حاصل کی تو پھر آپ اپوزیشن کے لئے اور خطرناک ہو جائیں گے بلکہ شاید آپ بہت سے اداروں سے بھی زیادہ طاقتور ہو جائیں گے۔

کھلاڑی: ہمارا ریاستی اداروں سے کوئی مقابلہ نہیں، ہم سب مل کر ملک کے فائدے کیلئے اکٹھے چل رہے ہیں، اپوزیشن کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی، اُن کو بدعنوانی کے مقدمات میں سزائیں ہوں گی اور یہ سب پھر سے جیلوں میں بند ہونگے۔

تماشائی: ملک کو جیل بنانے سے مخالف کم نہیں ہوتے، بڑھ جاتے ہیں۔ لڑائی کو اس قدر نہ بڑھائیں کہ بھٹو کی طرح اپوزیشن آپ کے خلاف آخری حد تک چلی جائے اور یوں سیاست پھر 1977والے حالات اختیار کرلے، اپوزیشن تنگ ہے اور جنگ پر آمادہ… بشکریہ روزنامہ جنگ