سرکاری ملازمین کے خلاف مس کنڈکٹ پر سخت کاروائی کی قانون سازی کا فیصلہ

لاہور: پاکستان کی وفاقی حکومت نےمس کنڈکٹ کے مرتکب سرکاری ملازمین کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے ۔

قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق  وفاقی حکومت نے خاتون افسر کی نازیبا حرکات کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سول سرونٹس کیخلا ف مس کنڈکٹ کی کارروائی کرنے کیلئے ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1975میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نئی ترمیم کے تحت وائرل ویڈیوز کو متعلقہ افسر کیخلاف کارروائی کیلئے بطور شہادت قبول کیا جائے گا اور جوابدہی ہوگی۔

گزشتہ دنوں ایک سول خاتون افسر کی مبینہ طور پر نازیبا حرکات کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک مرد کیساتھ بوس وکنار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ گوجرانوالہ میں نشے میں دھت سرکاری افسر کی گاڑی سے ہٹ کرنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کی وجہ سے عوام میں افسران کے اس رویہ پر غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔

ایسی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ای اینڈ ڈی رولز 1975میں ترمیم کی جائے اور ان ویڈیوز پر کسی بھی ذمہ دار افسر کیخلاف مس کنڈکٹ کے الزامات کے تحت کارروائی کی جاسکے گی۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے سینئر افسر نے  بتایا کہ وفاقی افسران کیخلاف شکایت کی صورت میں مس کنڈکٹ کے تحت کارروائی کی جاتی ہے جبکہ ویڈیو کلپ اس مس کنڈکٹ کی کارروائی میں بطور شہادت قابل قبول نہیں تھا ۔ تاہم اب ان ویڈیوز کو بطور شہادت انکوائری میں شامل کیا جائے گا تاکہ غیر اخلاقی حرکات کرنے والے افسران کیخلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاسکے ۔

ماضی میں افسران کیخلاف کرپشن، نااہلی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر مس کنڈکٹ کے تحت تادیبی کارروائی کی جاتی تھی لیکن اب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غیر اخلاقی حرکات پر بھی کارروائی ممکن ہوگی۔ نئی ترمیم کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔
بشکریہ روزنامہ 92