جماعت اسلامی ملک لوٹنے والوں کی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتی ،سراج الحق


لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جب تک اس ملک میں سود کے خاتمے اور کرپشن کے خاتمے کا ایجنڈا نہیں ہو گا ہم کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے، جماعت اسلامی ان لوگوں کی کسی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتی جنہوں نے 71سالوںاور 72سالوں میں ملک کو تباہ کیا ، جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے اور اگر ہم ایک قدم بھی لیتے ہیں تو اس ملک کے اسلامی اور خوشحال پاکستان کی خاطر لیتے ہیں۔یہ عاصم سلیم باجوہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ خود عدالت جا کر اپنے آپ کو کلیئر کرے .

۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکمران ٹولہ جب اقتدار میں نہیں ہو گا تو یہ بھی لندن میں ہی ہوں گے۔ یہ سب صرف سیاسی مفادات کے لیے لڑتے ہیں لیکن اندر سے سب ایک ہی ہیں انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) کا ایجنڈا ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے اگر اے پی سی ہو رہی ہے تو یہ حزب اختلاف کا حق ہے۔ اپوزیشن کا مل کر بیٹھنا ، ملکی سیاسی مسائل پر بحث کرنا ، ملک کو دلدل اور مشکلات سے نکالنا ، خاص پر غریب آدمی پاکستان کا مزدور اور کاشتکار ، پاکستان کا تاجر، پاکستان کا طالبعلم اور نوجوان جس عذاب سے اس وقت دوچارہے ، عام پاکستانی بھی نان شبینہ کا محتاج ہو گیا، مہنگائی اور بیروزگاری میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے .

انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کے ساتھ جو وعدے پورے کئے گئے وہ پورے نہیں ہوئے ، یہ حکومت کی ناکامی ہے۔ میں آسان الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کی موجود پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی ، پیپلز پارٹی ، پرویز مشرف اور مسلم لیگ کی حکومت کی ایک وارث حکومت ہے، ان کی پالیسیوں کو انہوں نے تسلسل دیا ہے، کوئی تبدیلی نہیں آئی اور تبدیلی کے نام پر جو وعدے کئے گئے کوئی وعدہ انہوں نے پورا نہیں کیا۔اگر قوم چاہتی ہے کہ تبدیلی ہو تو یہ کسی انسپیکٹر جنرل آف پولیس کو تبدیل کرتی ہے، جب قوم پھر کہتی ہے تبدیلی ہو تو یہ پھر کسی چیف سیکرٹری کو تبدیل کرتی ہے، امن و امان بالکل تباہ ہو گیا، راستے محفوظ نہیںاور موٹروے کے واقعہ کے بعد حکومت نے جس غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، اس کے بعد بھی اس طرح کے واقعات جاری ہیں، ہم اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔میں نے سینیٹ میں بل بھی پیش کیا ہے کہ جو لوگ بچیوں کے اغوااور ان کے قتل میں ملوث ہوں ان کے لئے پھانسی کی سزا ہونی چاہیئے اور پھانسی سے کم کوئی سزادینا یہ مجرموں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتاہوں کہ اگر سزا سرعام ہو تو اس کے اثرات زیادہ پڑیں گے، رات کے اندھیروں میں اور بند کمرے میں سزاہو بھی جائے تو اس سے معاشرے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہاں1981میں ضیاءالحق کے دور میں ایک آدمی کو برسر عام سزادی گئی تھی پھر 10سال کے لئے اس شہر میں اور اس خطہ میں کوئی جرم نہیں ہوا تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کا قانون ہے اس قانون میں ہی لوگوں کے لئے نجات ہے اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ نہیں ہم نے پہلے یورپ کو دیکھنا ہے اور وہاں جو سزائیں ہیں وہ یہاں نافذکرنی ہیں ، یورپ اور مغرب کی غلامی کی بجائے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل کریں تو جرائم ختم ہو سکتے ہیں۔ ایک سوال پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ کل کے بارے میں تو انسان اپنے بارے میںنہیں جانتا ہے کہ کل میں اس دنیا میں ہوں یا نہ ہوں اور میڈیا مجھ سے شہزادوں اور شہزادیوں کے بارے میں پوچھتا ہے ، میں میڈیا پر حیران ہوں کہ وہ ہمیشہ مجھ سے شہزادوں اور شہزادیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ،کیا پتہ میڈیا رات بھی انہی کے بارے میں سوچتا ہو گا، میڈیا غریب آدمی کے بارے میں سوچے کہ آنے والے کل اس کا کیا ہو گا۔ ملک میں مارشل لاءہو تو بھی شہزادوں اور شہزادیوں کے وارے نیارے ہوتے ہیں، یہ حکومت میں ہوتے ہیں تو بھی ان کے مزے ہوتے ہیں ، حکومت میںنہیں ہوتے تو بھی ان کے مزے ہوتے ہیں، مسئلہ ہمارا اور غریب آدمی کا ہے جو نان شبینہ کا اور دوقت کی روٹی کا محتاج ہوتاہے۔

ان کا کہنا تھا پنجاب حکومت نے اب تک موٹروے زیادتی کیس کے مجرم کو نہیں پکڑا ہے یہ پنجاب حکومت کی ناکامی ہے اور لوگ لاہور کے پولیس آفیسر عمر شیخ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے تھے جس نے تین بار معافی مانگی، میں کہتا ہوں کہ پولیس کی تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، وزیر اعلیٰ کی نااہلیت ہے وہ سورہا ہے ، پنجاب کی حکومت ناکام ہو گئی ہے ، موٹروے کا واقعہ پہلا واقعہ نہیں ہے، 2422بچے اور بچیاں گذشتہ چھ ماہ میں یا تو اغوا ہو گئے ہیں ، ان پر جنسی حملے ہو گئے ہیں یا مارے گئے ہیں، کون ذمہ دار ہے، یہی حکومت ذمہ دار ہے۔

ایک سوال پر سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ جو عدالتوں سے انصاف کی توقع رکھتا ہے وہ بھی بہت سادہ آدمی ہوتا ہے ، جن 436افراد کے پانامہ پیپرز میں نام آئے تھے ان کے خلاف کاروائی کے لئے ہم 111دن سپریم کورٹ آف پاکستان میں گئے ، اس کا انجام کیا ہوا،کہ انہوں نے ان کو طلب کیا، پانامہ لیکس میںجو 436افراد ملوث تھے آج تک ان کو نہ عدالت نے طلب کیا ، نہ نیب نے اس پر کاروائی کی ، عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں سوال پر سراج الحق نے کہاکہ یہ عاصم سلیم باجوہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ خود عدالت جا کر اپنے آپ کو کلئیر کرے ، یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ جس صحافی نے ان کے بارے میں خبر دی اگر وہ غلط ہے تو ان کو عدالت میں چیلنج کرے اور اگر ٹھیک ہے تو اس کو قبول کرے، یہ بہت بڑی بات ہے۔