نیول سیلنگ کلب کیس، چیئرمین سی ڈی اے کا متعدد غیرقانونی اقدامات کا اعتراف

انٹرنیٹ فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت راول جھیل کے کنارے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران پاکستان نیول فارمز کی تعمیرات روکنے اور روال جھیل کے کنارے نیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کے حکم میں 26 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چئیرمین سی ڈی اے عدالتی حکم امتناع پر عمل درآمدیقینی بنائیں اور اپنی ٹیم بھیج کر چیک کریں اور رپورٹ پیش کریں،عدالت کا کہنا تھا کہ چئیرمین سی ڈی اے قانون کی عمل داری یقینی بنانے کے بیان حلفی جمع کرائیں، عدالت نے چئیرمین سی ڈی اے کو کیسز کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیاہے۔

کیس کی مکمل سماعت کا احوال

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی تو چئیرمین سی ڈی اے عامر علی احمد عدالت کے سامنے پیش ہوئے ، چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کورٹ کو اچھا نہیں لگ رہا کہ آپ کو بار بار بلایا جائے لیکن یہاں رول آف لا تو ہے نہیں،موجودہ حکومت سے بہت سی توقعات ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جب بھی وزیراعظم کے نوٹس میں کوئی معاملہ لایا تو وہ حل ہوا ہے، چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیوں ایف آئی اے، آئی بی رئیل اسٹیٹ کے بزنس میں ملوث ہیں ؟ یہ تو بہت بڑا مفادات کا ٹکراو ہے، یہاں عام لوگوں کے ساتھ تو فراڈ ہوا ہے،اسلام آباد کا جو بھی ایشو اٹھائیں وہاں قانون کی خلاف ورزی نظر آئے گی اسلام آباد انتظامیہ کا تو لینڈ کے لحاظ سے کوئی کردار نہیں، چیف جسٹس نے چیئر مین سی ڈی اے سے استفسار کیاکہ کیا آپ نے وفاقی کابینہ یا وزیر اعظم کو اس حوالے سے بتایا ؟آج سی ڈی اے کمزور کیوں ہے؟ ہر کوئی ایلیٹس کی خدمت میں لگا ہوا ہے، اگر آپ دوسروں کو پلاٹ دے سکتے ہیں تو مزدور کو کیوں نہیں دیتے؟ چیئر مین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ نیول کلب والا پراجیکٹ زون تھری جبکہ فارم ہاوسز والا زون فور میں ہے ، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ماسٹر پلان میں کیا ہے ؟ چیئر مین سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ ماسٹر پلان میں زون فور مکمل گرین ایریا تھا، عدالت نے متاثرین کو ادائیگیوں کے لیے ایک کمیشن بھی قائم کر رکھا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ اگر تیس سال بعد کسی متاثرہ شخص کو ادائیگی ہوئی بھی تو اس کا بھی کیا فائدہ؟آپ بتائیں کہ کس نے عام آدمی کے لیے کوئی ہاوسنگ سوسائٹی بنائی؟ چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ سی ڈی اے کا سیکٹر آئی 15 ایلیٹ کا نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے تھا، عدالت نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ کوئی ہاوسنگ سوسائٹی بنا لیتا ہے اس کے بعد سی ڈی اے کے پاس اپلائی کرتے ہیں؟ چیئر مین سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ کیا اسلام آباد انتظامیہ وزارت داخلہ کا اٹیچ ڈیپارٹمنٹ ہو سکتی ہے؟ یہ پوائنٹ ہم نے اٹھایا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے لیے تو بہت اچھا ہے اس کی اونر شپ ڈائریکٹ وفاقی کابینہ کو چلی جاتی ہے، وزیراعظم کا جو اپنا ویثرن ہے سارا کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہےروزانہ کی بنیاد پر ہمارے پاس پٹیشنز بھی آرہی ہیں، چیئر مین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ1992 میں ریگولیشن میں ترمیم کر کے زون فور میں پرائیویٹ ہاو¿سنگ سوسائٹیز کو اجازت دی گئی،، چیف جسٹس نے کہاکہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لوگ سوسائٹی بنا لیتے ہیں اور پھر این او سی کے لیے اپلائی کرتے ہیں، کیاآپ کا کوئی اہلکار نیول فارم میں جا کر چھاپہ مار سکتا ہے؟ ایف آئی اے جو رئیل اسٹیٹ میں ہے کیا آپ کے اہلکار اس کو روک سکتے ہیں،؟یہ مفادات کا ٹکراوبہت تشویش ناک ہے،عدالت نے ہدایت کی کہ آپ کا کام ہے قانون پر عمل درآمد کراناہے۔ چیئرمین سی ڈی اے کا کہنا تھاکہ سی ڈی اے اس حوالے سے ایکشن لے رہی ہے گزشتہ روز ہاوسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے بھی بریفنگ لی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ ڈیپارٹمنٹس کے ہیڈز سوسائٹیز کی میٹنگز کو بھی چئیر کررہے ہیں کیا اس صورت حال میں آپ قانون پر عمل درآمد کرا سکتے ہیں؟ عدالت کاکہنا تھا کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹس کی حالت دیکھی ہے؟ کیا کوئی انسان وہاں جا سکتا ہے؟ ایلیٹ کو تو ڈسٹرکٹ کورٹ میں جانا نہیں ہوتا اس لیے وہ وہاں کا خیال بھی نہیںکرتے،کیا اس میں کوئی قانون کی خلاف ورزی نہیں، کیا ریگولرائز کریں گے؟ ایک بات ہے کہ سی ڈی اے نے کچھ علاقوں میں اجازت دی تھی لیکن ہم اس معاملے دیکھ رہے ہیں ، چیئر مین سی ڈی اے نے اعتراف کیاکہ جب کسی وزارت کا نام آتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ متعلقہ وزارت کا پراجیکٹ ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ وزارت کے افراد ہی براہ راست یہ سوسائٹیاں چلا رہے ہیں،لیکن کیا آپ وہاں قانون پر عمل کرا سکتے ہیں؟ آپ کا کام قانون پر عمل درآمد کرانا ہے، چیئر مین سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ یہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے، ہم نے نوٹسز جاری کیے ہیں، مارگلہ روڈ سے بھی تجاوزات ہٹا رہے ہیں، پہلے سی ڈی اے کے بجٹ کا 80 فیصد تنخواہوں میں چلا جاتا تھا،اب ہم نے سی ڈی اے کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے،اب ساٹھ فیصد بجٹ ڈویلپمنٹ اور چالیس فیصد تنخواہوں اور سروسز کا ہے، چیئرمین سی ڈی اے نے یقین دہانی کرائی کہ نیول فارمز پر تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی جائے گی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ نے وزیر اعظم کو مفادات کے ٹکراو¿ کے حوالے سے بتایا ہے؟ چیئر مین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ انہوں نے اس حوالے سے ابھی نہیں بتایا آئندہ آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔، ہم نے الگ سے ایک ڈائریکٹوریٹ بنایا ہے تاکہ عوام کے مسائل حل کرنے میں آسانی ہو۔عدالت کا کہنا تھا کہ اس نیول فارمز کے پراجیکٹ میں سی ڈی اے کی اجازت کے بغیر تعمیرات شروع کی گئیں کیا کوئی ایکشن لیا؟ اس پراجیکٹ کی حد تک کسی سی ڈی اے افسر کے خلاف ایکشن نہیں لیا۔لیکن اس سے قبل ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور ڈائریکٹر لیول تک ایکشن لیتے رہے ہیں، کسی ملازم کو نوکری سے برطرف نہیں کیا لیکن اس وقت بھی آدھے پٹواری معطل ہیں، نیول سیلنگ کلب 1992,93 میں بناتھا لیکن اسٹرکچر مختلف تھا،چیف جسٹس نے چیئر مین سی ڈی اے سے کہاکہ عدالت کو دستاویز دکھائیں جہاں سی ڈی اے بورڈ نے سیلنگ کلب کی منظوری دی، چیئر مین سی ڈی اے نے اعتراف کیا کہ ریوینیو اور پولیس افسر کی ملی بھگت سے زمینوں پر قبضہ ہوتا ہے، چیف جسٹس نے سوال کیاکہ آپ نے کتنے ذمہ دار افراد کو نوکریوں سے نکالا ہے؟چیئر مین سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ ملازمین کوملازمت سے نہیں نکالا، افسران کی معطلی کی گئی، عدالتی حکم کے بعد وفاقی کابینہ نے سی ڈی اے بورڈ کو معاملہ بھیجا، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئر مین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ آپ نے قانون کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں، کیا نیول سیلنگ کلب سپورٹس بورڈ کے دائرہ کار میں نہیں آتا؟ چیئر مین سی ڈی اے نے عدالت میں انکشاف کیاکہ نیول سیلنگ کلب کی تعمیرات غیر قانونی ہیں، چیف جسٹس نے سوال کیاکہ وکلا کو بھی کلب کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا ان کو بھی جگہ دیں گے کہ وہ بھی بنا لیں، چیئر مین سی ڈی اے نے عدالت سے کہاکہ میری رائے یہ ہے کہ ایک اسٹریکچر بن گیا یا تو ہم اس کو گرا دیں یا اس کی اجازت دے دیں، عدالت نے چئیرمین سی ڈی اے سے استفسارکہا کہ ایک عام آدمی اس عدالت کے سامنے ایسا معاملہ لے کر آئے تو ہم کیا کریں؟ چیئر مین سی ڈی اے نے کہاکہ اگر اجازت دیں تو ہم اس حوالے سے کچھ تیار کر کے عدالت کے سامنے پیش کر دیتے ہیں،چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ اگر ہماری کمٹمنٹ رول آف لا نہیں ہو گی تو یہ ملک کے لیے بھی نقصان دہ ہو گا، ۔درخواست گزارکے وکیل بابرستار ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ نیوی پرائیویٹ ڈویلپر نہیں وہ کسی طرح بھی یہ نہیں کر سکتے، چیف جسٹس نے کہاکہ نیوی کے وکیل نے عدالت میں یہ کہا ہے کہ نیوی کا اس پراجیکٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، وکیل بابر ستانے موقف اپنایا کہ یہ بڑا عجیب ہے کہ سرونگ آفیسر اس کی ٹرسٹ ڈیڈ میں شامل ہیں، اور جو قواعد بنائے گئے ان کے لیٹر بھی نیول آفس سے جاری ہو رہے ہیں اور اپیل بھی ان کے پاس ہے، عدالت کاکہنا تھاکہ ان کو پتہ ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ سب نے غلط کیا تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس نے کہاکہ ان کو عدالت وقت دیتی ہے کہ قانون کی عمل داری یقینی ہونی چاہیے، کیونکہ اگر رول آف لا نہیں ہو گا تو وہی ہو گا جو ہو رہا ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ عدالت کسی کو قانون کو نیچا دکھانے کی اجازت نہیں دے گی، عدالت ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جنہوں نے اس ملک کے لیے قربانیاں دیں،عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ نے کبھی لینڈز کا فرانزک کا آڈٹ کرایا ہے؟ آئی سی ٹی میں ہاوسنگ سوسائٹیز کا آڈٹ کرا رہا ہوں سی ڈی اے کا نہیں کرایا، چیف جسٹس نے سوال کیاکہ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے ہاوسنگ سوسائٹیز سے متعلق تحقیقات کرائی تھیں،کیا آپ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایف آئی اے کی اپنی ہاوسنگ سوسائٹی غیرقانونی ہے، اس سے بڑا مفادات کا ٹکراو¿ کیا ہو سکتا ہے، ۔ درخواست گزار کے وکیل بابر ستار ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہاکہ میں آپ کو دستاویزات دکھاو¿ں کا کہ تمام حاضر سروس نیوی افسران اس میں شامل ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ نیول فارمز ہاو¿س کے وکیل نے کہا کہ نیوی کا اس سے کوئی تعلق نہیں لیکن کیا یہ درست ہے کہ عدالت نیول ہیڈ کوارٹر کو نوٹسز بھجوائے؟ نیول فارمز کے وکیل ملک قمر افضل نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ہم قانون پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے راولپنڈی کے قبرستان میں ان شہدا کی قبریں دیکھیں جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں؟ یونیفارم کی عزت ہے مگر مفادات کا ٹکراو¿ نہیں ہونا چاہئے، انہوں نے خود کو ایسے مرحلے میں داخل کیا کہ وہ عام آدمی کے طور پر عدالت کے سامنے ہیں، ہمیں یہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے کہ کچھ نہیں ہو رہا، یہ عدالت کسی کو قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دے گی،چیئر مین سی ڈی اے نے کہاکہ میں عدالت کو بتاو¿ں سیلنگ کلب اسلام آباد میں پہلے بھی تھا، لیکن سٹرکچر ایسا نہیں تھا، سیلنگ کلب موجود تھا لیکن اسکی کوئی اجازت سی ڈی اے سے نہیں لی گئی تھی، چیئرمین سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے سیلنگ کلب کو نوٹس جاری کیے لیکن عمارت تیزی سے تعمیر کر لی گئی، سپورٹس کی جتنی بھی ایکٹیوٹیز ہو رہی ہیں وہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے تحت آتے ہیں۔سیلنگ کلب کی تعمیر غیرقانونی ہے اور الاٹمنٹ بے ضابطگی ہے، نیوی اور ایئرفورس کو کہہ دیا ہے کہ کوئی بھی عمارت ہو گی تو وہ سی ڈی اے کے سامنے پیش کی جائے گی، چیف جسٹس نے کہاکہ حب الوطنی اس ملک کے آئین کی پاسداری ہے، بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان نیول فارمز کی تعمیرات روکنے اور روال جھیل کے کنارے نیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کے حکم میں بھی 26 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چئیرمین سی ڈی اے عدالتی حکم امتناع پر عمل درآمدیقینی بنائیں اور اپنی ٹیم بھیج کر چیک کریں اور رپورٹ پیش کریں،عدالت کا کہنا تھا کہ چئیرمین سی ڈی اے قانون کی عمل داری یقینی بنانے کے بیان حلفی جمع کرائیں، عدالت نے چئیرمین سی ڈی اے کو کیسز کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتہ 26 ستمبر تک ملتوی کردی ۔