تعلیمی ادارے دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ تدریسی عمل تباہ کر دے گا ، وفاقی وزیر تعلیم

اسلام آباد : وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے دوبارہ بند کرنے کاجلد بازی میں لیا گیا فیصلہ تدریسی عمل کوتباہ کر دے گا ۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹرپر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے کھولنے سےمتعلق فیصلہ سوچ بچاراوراحتیاط کےساتھ کیاگیا ، چھ ماہ سےتدریسی عمل کی بندش نے طلبا کوبری طرح متاثرکیا ، کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے وزارتِ صحت کا مشورہ لیں گے، کیونکہ طلبا کی صحت ہماری پہلی ترجیح ہے ۔

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے 23 ستمبر کوسکول نہ کھولنے کے سندھ حکومت کے فیصلے کی مخالفت کردی، انہوں نے کہا کہ سعید غنی پہلے مشورہ کرلیتے تو اچھا ہوتا، دوسرے مرحلے میں کلاسز 23 ستمبر سے ہی شروع ہوں گی، شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، 22 ستمبر کو این سی اوسی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

 یاد رہے سندھ حکومت نے 21 ستمبر سے سکول کھولنے کا فیصلہ مئوخر کردیا ہے۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگرصورتحال بہتر رہی تو 28 ستمبر کو مڈل کلاسز کو بلا سکتے ہیں۔ 28 ستمبر میں ابھی وقت ہے، اس حوالے سے مزید سوچ بچار اور غور کریں گے۔کسی بچے کو وائرس ہوگیا تو وائرس بہت تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر 22 تعلیمی ادارے بند

سندھ حکومت صوبے کے بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ گزشتہ چار روز میں مختلف سکولوں کا دورہ کیا لیکن وہاں ایس اوپیز پر عمل نہیں ہورہا۔ کاروباری مراکز میں بھی ایس اوپیز پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ اب بھی اسکولز میں ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا۔کل بھی اورنگی ٹاؤن میں 4 اسکولز سیل کیے گئے تھے۔ سکولوں اور کالجوں میں 13 ہزار طلباء کے کورونا ٹیسٹ کرائے گئے ہیں۔88 طلباء میں کورونا مثبت آیا ہے۔اگر محسوس ہوا کہ چیزیں درست سمت میں نہیں جا رہیں تو اسکول بند کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔