کرکٹ کے نئے نظام سے پاکستانی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنے گی،عمران خان

انٹرنیٹ فوٹو

اسلا م آباد:وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرکٹ کے نئے نظام سے جب ٹیلنٹ پالش ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنے گی۔

اسلام آباد میں ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے معاہدوں کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی)کو مبارک باد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت مثبت عمل ہے، اس سے کرکٹ کی ترقی ہوگی اور پی ٹی وی کی ساری کوریج اور کوالٹی کو اوپر اٹھائے گا جبکہ کھیلوں خاص طور پر کرکٹ سے پیار کرنے والے عوام کے لیے بھی ضروری ہے کہ پی ٹی وی کوریج میں برتری حاصل کرے۔

کرکٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے جتنی بھی کرکٹ کھیلی اس سے میں یہ سمجھا کہ پاکستان میں جتنا ٹیلنٹ ہے وہ کسی اور ملک میں نہیں ہے، ہمارا ٹیلنٹ ایک نظام نہ ہونے کے باوجود نکلتا تھا۔انہوں نے کہا کہ نظام کہ نہ ہونے کی وجہ سے کرکٹ کا ٹیلنٹ اوپر نہیں آپاتا تھا، ہمارے ملک میں اس طرح کے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ ہیں جو دنیا میں کبھی بھی کلب سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے، جو اس کی نشاندہی کرتا تھا کہ ملک میں ٹیلنٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے میں ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر ہم اپنا کرکٹ کا ڈھانچہ درست کرلیں تو پاکستان ناقابل شکست ہوجائے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ تاہم بدقسمتی سے کچھ لوگ اپنے مفادات کے لیے اس نظام کو تبدیل نہیں ہونے دیتے تھے، پاکستان کا کرکٹ کا نظام دیگر ممالک سے بالکل مختلف تھا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں دنیا میں ایسا نظام ہے کہ جتنا اچھا مقابلہ ہوتا ہے اتنے اچھے کھلاڑی نکلتے ہیں، جس ملک میں سسٹم دو چیزیں ایک مقابلے کو بڑھائے اور میرٹ کو اوپر لے آئے وہ ہمیشہ ترقی کرے گا۔

دوران خطاب انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا دنیائے کرکٹ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے جس کی وجہ ان کا نظام ہے، دنیا میں سب سے بہترین کرکٹ کا نظام آسٹریلیا میں ہے جو سب سے بہتر کرکٹ کو پالش کرتی ہے اور لوگ اوپر آتے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ٹیلنٹ تو نظر آجاتا ہے لیکن اس کو پالش کرنے کے نظام میں مسئلہ ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں 40 سال سے لگا ہوا تھا اور فیصلہ کیا تھا کہ جب مجھے اختیار ملا تو یہ نظام تبدیل کروں گا، ابھی جو ہم نظام لائے ہیں اس کے بارے میں مصباح الحق، محمد حفیظ اور اظہر علی کو سمجھایا اور بتایا کہ جب بھی اصلاحات ہوتی ہیں تو تھوڑے مسائل آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب جو ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام آیا ہے اس میں آپ دیکھیں گے کہ جب پاکستان کا ٹیلنٹ پالش ہوگا تو پاکستان کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنے گی۔سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں بھارت میں پی ٹی وی کے ڈرامے دیکھے جاتے تھے اور پی ٹی وی پورے علاقے میں برتری رکھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ تاہم وقت کے ساتھ آگے نہ بڑھنے کی وجہ سے ہمارا پی ٹی وی پیچھے رہ گیا، جس کی بہت سی وجوہات ہیں، تاہم پی ٹی وہ اس قدم پر واپس لانے کے لیے یہ پہلا قدم ہے اور آج کے معاہدوں سے جو پی ٹی وی کے پاس آمدنی آئے گی اس سے پی ٹی وی اپنے نظام میں بہتری کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی لائسنس فیس بڑھانے کا معاملہ کابینہ میں آیا تھا تاہم ہم پی ٹی وی کے بزنس پلان کا انتظار کر رہے ہیں کہ اگر ہم فیس بڑھائیں گے تو کیا آپ اس کی وجہ سے لوگوں کو بہتر مواد دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی میں سفارشی اور ضرورت سے زیادہ بھرتیاں ہوئی وی ہیں اور لوگ چاہتے ہیں کہ اس کی فیس تب دی جائے جب انہیں معیاری مواد ملے اور وہ نجی چینلز سے مقابلہ کرے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے کیبل نیٹ ورک کو بھی ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جانے کی ضرورت ہے کیونکہ جتنی اچھی اسکرین نظر آئے گی لوگ اس سے اتنا ہی لطف اندوز ہوں گے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کی تجویز مسترد کردی۔اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی، چیف ایگزیکٹو وسیم خان، کرکٹ کمیٹی کے رکن وسیم اکرم، ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق، قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے ملاقات کی۔

میڈیا رپورٹ کے   مطابق وزیراعظم سے کھلاڑیوں کی ملاقات میں ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے سے متعلق مشاورت کی گئی، سابق کرکٹرز نے موقف اپنایا کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے خاتمے سے مقامی کھلاڑی بے روزگار ہوئے تاہم وزیراعظم نے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کی تجویز مسترد کردی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ریجنل کرکٹ سب سے بہترین ڈومیسٹک اسٹرکچر ہے، پرانا ڈومیسٹک اسٹرکچر ختم ہونے سے پیدا ہونے والی مشکلات کا اندازہ ہے، اگر کرکٹ ٹھیک کرنی ہے تو ڈومیسٹک ریجن کرکٹ واحد حل ہے، جب نظام بدلتا ہے تو یکدم نتائج نہیں آتے، نئے ڈومیسٹک ڈھانچے سے حقیقی ٹیلنٹ اوپر آئے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اتنا ٹیلنٹ دنیا کے کسی ملک میں نہیں دیکھا، کلب کرکٹ سے براہ راست کھلاڑی قومی ٹیم میں شامل ہوتے ہیں، اس ٹیلنٹ کو اوپر لانے کے لیے ایک بہتر سسٹم کی ضرورت ہے، جتنی مقابلے کی فضا ہوگی، اتنے ہی بہترین کرکٹرز سامنے آئیں گے جب کہ ایسا سسٹم آسٹریلیا میں نظر آتا ہے۔وزیراعظم کاکہنا تھا کہ مصباح الحق، اظہر علی اور محمد  حفیظ کو سمجھایا ہے کہ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کیلیے اصلاحات میں مشکلات پیش ہوگی مگر اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے، کسی بھی سسٹم کو موثر بنانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے