بحریہ ٹاؤن نےرقم واپسی موخر کرنےکی درخواست کیوں واپس لی؟


اسلام آباد(عابدعلی آرائیں): سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کراچی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیس میں بحریہ ٹاؤن کی رقم کی ادائیگی موخر کرنے کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی ہے۔

بحریہ ٹائون کی طرف سے رقم کی ادائیگی موخر کرانے کے لئے دائر درخواست پر جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں قائم تین رکنی اسپیشل بینچ نے سماعت کی۔ بحریہ ٹاون کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ رواں سال نومبر تک کی ادائیگی ایڈوانس میں کر چکے ہیں، کرونا کی وجہ سے ادائیگی ایک سال کیلئے موخر کی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے ادائیگی ہوچکی تو اس وقت اقساط موخر کرنے کی درخواست قبل ازوقت ہے۔ کرونا کی وجہ سے کاروباری افراد کو کافی ریلیف مل چکا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کورونا پوری دنیا کے لیے آیا صرف بحریہ ٹاون کے لیے نہیں۔ وکیل علی ظفر نے کہا سٹیٹ بنک اور دیگر بنکوں اپنے قرضے ری شیڈول کیے ہیں عدالت سے بھی درخواست ہے کہ ادائیگی موخر کی جائے۔ بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے کہا عدالتی فیصلہ کوئی معاہدہ نہیں جو وقت کیساتھ بدلا جائے، عملدرآمد بنچ کے پاس عدالتی فیصلہ تبدیل کرنے کا اختیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب کی پیشکش قبول کر لی

بحریہ ٹاون کے وکیل نے کہا عملدرآمد بنچ پیسہ حکومت کو دینے کا فیصلہ بھی تو کرے گا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا بحریہ کا کام پیسہ عدالت کو جمع کرانا ہے یہ دیکھنا نہیں کہ کہاں خرچ ہوگا۔ وکیل بحریہ ٹاون نے کہا ادائیگی جاری رکھی تو بحریہ ٹاون دیوالیہ ہوجائے گا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا فی الحال آپکی درخواست قبل ازوقت ہے۔

دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل بحریہ ٹاون کو یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق بحریہ ٹاون 25 ارب روپے پیشگی ادا کرے گا جبکہ باقی رقم کی 2.5 ارب روپے ماہانہ کی اقساط ہوں گی، اگر بحریہ ٹاون دو اقساط ڈیفالٹ کرتا ہے تو ادا کی گئی تمام رقم ضبط ہو جائے گی اور کل رقم یکمشت ادا کرنی ہوگی۔ وکیل بحریہ ٹاون علی ظفر نے کہا کہ درخواست مناسب وقت پر دوبارہ دائر کرینگے۔دریں اثنا عدالت نے بحریہ ٹاون عملدرآمد کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔