نواز شریف کی واپسی ممکن نہیں


لاہور: مسلم لیگ (ن) کےصدر شہبازشریف نے کہا ہے کہ عدلیہ کاہمیشہ احترام کرتے ہیں لیکن نواز شریف کی علاج کے بغیر واپسی ممکن نہیں۔

لاہورسے جاری بیان میں شہبازشریف نے کہا کہ  بغیر علاج واپسی سے نوازشریف کی زندگی کوشدید خطرہ ہے اور زندہ رہنےکاحق سب سے اہم ہے جسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ واپسی نہیں بلکہ نوازشریف کا علاج ہے، بیگم کلثوم نوازکے علاج کے وقت پی ٹی آئی والے جھوٹ بولتے رہے کہ وہ ٹھیک ہیں،کیا اس نقصان کا ازالہ ممکن ہے؟

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرزکہہ چکے ہیں موجودہ حالات میں نوازشریف کا سفرکرنا جان لیوا ہو سکتا ہے اور حکومت نے بھی اعتراف کیا تھا کہ نواز شریف کا پاکستان میں علاج نہیں ہوسکتا، سرکاری اور غیرسرکاری ڈاکٹرزکی تصدیق اور تجویزپر حکومت نے انہیں لندن بھیجا، ان کے علاج میں کوروناکےسبب تاخیرہوئی۔

واضح رہےکہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں ضمانت ختم ہونے کے بعد عدالتی حکم کے باوجود سرینڈر نہ کرنے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے 22 ستمبر کے لیے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور اپیلوں پر سماعت کے دوران حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی۔

مزید پڑھیں: ایون فیلڈ کیس ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے نواز شریف کی ضمانت منسوخی کیلئے نیب کی درخواست پر اعتراضات

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ ایک کنسلٹنٹ کی رائے ہے جو کسی اسپتال کی طرف سے نہیں، ابھی تک کسی اسپتال نے نہیں کہا کہ ہم کووڈ کی وجہ سےنوازشریف کو داخل کرکے علاج نہیں کرپارہے، وفاقی حکومت تو ابھی تک یہاں کی میڈیکل رپورٹس پر شک کررہی ہے، اگراسپتال سے باہر ہی رہنا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ وہ پہلے بھی پاکستان میں اسپتال داخل اور زیر علاج رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت ختم ہوچکی ہے اور یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔