سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے، صدر مملکت


اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مستحق طلبا کو اعلی تعلیم کیلئے احساس پروگرام کے تحت وظائف کی فراہمی اہم اقدام ہے۔

ایوان صدر میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ طلبا کی کامیابی میں اساتذہ اور والدین کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کو کامیابی سے اپنا مقام بنانا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے مجموعی صورتحال کو تبدیل کردیا ہے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی وقت کی ضرورت ہے۔ کورونا نے معاشی اور معاشرتی طرز زندگی کو تبدیل کردیا۔صدر مملکت نے کہا کہ عصری چیلنجز کے مطابق تعلیم کی فراہمی پر توجہ کی ضروت ہے۔ ہمیں اپنے طلبا کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تعلیم دینی چاہیے۔ ای لرننگ کے نظام کی رسائی کم اخراجات کے ساتھ زیادہ ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی ادارے فاصلاتی نظام تعلیم کو آسان بنانے کیلئے کام کریں۔ غلام اسحاق انسٹیٹیوٹ اور دیگر یونیورسٹیوں کو اپنے سلیبس میں ای لرننگ کے مواد میں اضافہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں تعلیم کیلئے زراعت اور میڈیسن کے شعبہ میں بڑے مواقع موجود ہیں۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سماجی انصاف اور انصاف کے اصولوں پر مبنی تعلیم معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ فلاحی ریاست میں احساس اور صلہ رحمی بڑے اہم عناصر ہوتے ہیں۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اب دنیا میں اصول اخلاقیات کی بجائے محض مفادات کی بنیاد پر مرتب کیے جا رہے ہیں کیونکہ مال و دولت کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم ترقیاتی عمل میں اخلاقیات اور اصولوں کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور ذاتی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اخلاق اور اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانے کیلئے کام کرنا چاہیے۔ پاکستان میں فیسوں میں کمی، ہنرمندی کی تعلیم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کے ذریعے علم کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

صدر مملکت نے خواتین کی تعلیم پر زور دیا اور کہا کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے والی خواتین کو ان کی صلاحیتوں کو صحیح معنوں میں بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم کمزور اور محروم افراد سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی ضرورت کو پورا کریں تو پاکستان ترقی کرے گا۔ مستحق طلبا کو اعلی تعلیم کیلئے مواقع کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت وظائف کی فراہمی اہم اقدام ہے۔

اس موقع پر صدر مملکت نے ڈاکٹریٹ آف فلاسفی، ماسٹر آف سائنس اور بیچلر آف آرٹس کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا و طالبات میں میڈلز بھی تقسیم کیے۔قبل ازیں سوسائٹی آف پروموشن آف انجینئرنگ سائنسز و ٹیکنالوجی کے صدر فرید رحمان، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ریکٹر جہانگیر بشر اور پروریکٹر اکیڈمکس جمیل النبی نے بھی خطاب کیا