ملک بھر میں شادی ہالز کھل گئے، ایس او پیز پر عمل درآمد لازمی قرار


اسلام آباد:تعلیمی اداروں کے ساتھ شادی ہالز بھی منگل کو کھل گئے، چاروں صوبائی حکومتوں نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیئے ۔شادی ہالز میں فیس ماسک، ہینڈ سینیٹائزر اور دستانوں کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مہمانوں کی گنجائش پچاس فیصد کم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

شادی ہالز کے داخلی راستوں میں سینیٹائزرز رکھے جائیں گے۔ صفائی اور اسپرے کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ شادی ہالز رات دس بجے بند کرنا ہوں گے۔شادی ہالز کھولنے سے پہلے تمام اسٹاف کا کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ شادی ہالزمیں سماجی دوری کاخاص خیال رکھا جائے اور گنجائش سے50فیصد کم مہمان بلائے جائیں۔حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شادی ہالز میں کل گنجائش کے50فیصد لوگوں کوتقریب میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ کورونا سے بچائو کے متعلق احتیاطی تدابیر شادی ہال میں جگہ جگہ آویزاں کی جائیں۔کورونا وائرس کے باعث لگائے گئے لاک ڈائون کے دوران گزشتہ 6 ماہ سے شادی ہالز میں شادی بیاہ اور دیگر تقاریب پر پابندی تھی۔

مزید پڑھیں: مبارک دن ہے،طلباء کو تعلیمی اداروں میں واپسی پر خوش آمدید کہتا ہوں،شفقت محمود

عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں جن کاروبار کو بند کیا گیا ان میں شادی ہالز بھی شامل تھے۔ ۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق شادی ہالز میں سماجی دوری پر مبنی اقدامات کے تحت لوگوں کو بٹھایا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق شادی ہال میں 2 گھنٹے کے وقفے کے بعد دوسرے پروگرام کی اجازت ہو گی۔

شادی ہالز میں اسٹاف 50 فیصد کم افراد پر مشتمل ہوگا۔شادی ہالز انتظامیہ بخار چیک کرنے کیلیے تھرمل گن کا انتظام کرے گی اور تقریب سے قبل شادی ہالز کو سینی ٹائز کیا جائے۔ 2 گھنٹے سے زیادہ شادی ہالز میں کوئی بھی پروگرام نہیں ہو گا۔