سوشل میڈیا رولز کابینہ سے نوٹیفائی نہیں ہوئے،حکام


  اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کو حکام نے بتایاکہ سوشل میڈیا رولز کابینہ سے نوٹیفائی نہیں ہوئے۔رولز نوٹیفائی ہونے کے بعد تمام سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں دفاترکھولنے کی پابند ہوں گی،سوشل میڈیا فورمز ڈیٹا فراہم نہیں کرتے،سائبر اسپیس کو لوگوں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے کام کررہے ہیں۔

ارکان کمیٹی نے کہاکہ سوشل میڈیا پر نشانہ بننے والے تو ایف آئی اے کے چکر لگارہے ہیں مگر سوشل میڈیا پر لوگوں کی عزت اچھالنے والوں کو پروا تک نہیں،سائبر کرائم میں زیادہ نشانہ خواتین کو بنایا جاتا ہے ایف اے پاس خواتین انویسٹی گیٹرز بھی موجود نہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا ا جلاس چیئرمین علی خان جدون کی صدارت میںہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم عبد القادر قمر نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ عبد القادر قمر نے کمیٹی کوبتایاکہ2019میں سائبر کرائم سے متعلق  19000شکایات موصول ہوئیں۔سال 2020 میں اب تک سائبر کرائم کی45000 شکایات موصول ہو چکی ہیں،تمام سوشل میڈیا فورمز بیرون ملک ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ موجود نہیں ہے ہمارے قوانین کے مطابق سوشل میڈیا فورمز ڈیٹا فراہم نہیں کرتے،سائبر اسپیس کو لوگوں کیلئے محفوظ بنانے کیلئے کام کررہے ہیں۔

ارکین کمیٹی نے کہاکہ ایف آئی کا تفتیش نظام بہت کمزور ہے۔سوشل میڈیا پر نشانہ بننے والے تو ایف آئی اے کے چکر لگارہے ہیں مگر سوشل میڈیا پر لوگوں کی عزت اچھالنے والوں کو پروا تک نہیں۔سائبر کرائم تیزی سے بڑھ رہا ہے، ایف آئی اے سائبر کرائم کے پاس شکایات  زیادہ ہیں اور وسائل کم ہیں، اب تو ایف آئی اے کو شکایت کرنا بھی وقت کا ضیاع بن چکا ہے، سائبر کرائم میں زیادہ نشانہ خواتین کو بنایا جاتا ہے ایف اے پاس خواتین انویسٹی گیٹرز بھی موجود نہیں۔

سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ سائبر کرائم کے حوالے سے ایف آئی کا روز بدلنے والی ٹیکنالوجی کے ساتھ وا  سطہ پڑتا ہے۔ وزرات داخلہ سے کہا جائے کہ ایف آئی اے  کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے بااختیار بنایا جائے۔سوشل میڈیا رولز گورنمنٹ نے نوٹیفائی کئے  تھے، سوشل میڈیا رولز پر بہت سے اعتراضات آئے۔وزیراعظم نے سوشل میڈیا رولز پر عمل درآمد روک دیا گیا۔سوشل میڈیا رولز کے حوالے سے مشاورتی کمیٹی چیئرمین پی ٹی اے کی سربراہی میں بنائی گئی۔کمیٹی نے سوشل میڈیا رولز کے حوالے سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے سوشل میڈیا رولز پر مشاورتی رپورٹ کابینہ کمیٹی کو بھجوائیں گے۔چیئرمین پی ٹی اے عامر عظیم باجوہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ سوشل میڈیا رولز کابینہ سے نوٹیفائی نہیں ہوئے۔رولز نوٹیفائی ہونے کے بعد تمام سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں دفاترکھولنے کی پابند ہو ں گی۔سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنا نمائندہ بھی پاکستان میں نامزد کرنا ہوگا۔سوشل میڈیا رولز نوٹیفائی ہونے سے سوشل میڈیا سے متعلق بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے ،سوشل میڈیا کو ہینڈل کرنا پوری دنیا کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔

سائبر کرائم کو انویسٹی گیٹ کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔فیک اکاؤنٹ بنانے پر اگر متاثرہ شخص خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو رپورٹ کرتا ہے تو اس کا اچھا رسپانس آتا ہے۔فیک اکاؤنٹ پر پی ٹی اے کو بھی رپورٹ کیا جاسکتا ہے۔ناز بلوچ نے کہاکہ اگر ٹوئٹر اور فیس بک پاکستان میں دفاتر نہیں کھولتے تو کیا انھیں بند کر دیا جائے گا۔ایک شخص بیرون ملک سے آتا ہے اور اسے پورے ڈیٹا بیس تک رسائی دے دی جاتی ہے۔ تانیہ ایدروس پاکستان آئیں اور چلی گئیں اب معلوم ہوا کہ وہ پاکستانی نیشنل نہیں۔