ملک بھرمیں طوفانی بارش

تحریر:لیاقت بلوچ
(نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان)

ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، درجنوں لوگ بارش،سیلاب،ندی نالوں کی طغیانی کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے۔چاروں صوبوں میں اِسی صورتِ حال کاسامنا ہے ۔ عام طور پر جولائی،اگست اور ستمبر کے مہینے بارشوں کے ہوتے ہیں۔لیکن پہلے بھی اور اب تو ان بارشوں میں ریاستی،سرکاری، محکموں کا نظام،تباہی،بربادی،ناکامی کا اور خوفناک منظر پیش کر رہا ہے۔سندھ اور خیبرپختونخواہ میں 125 سے زائد لوگ پنجاب،بلوچستان میں بھی 85 افراد کی اموات ہوئیں۔

انصاف کا تقاضا تھا کہ وفاق،صوبے،سرکاری ادارے،موجودہ اور سابقہ حکمران اپنی غفلت، مجرمانہ اعمال اور ناکامیوں کو تسلیم کرتے، اجتماعی ذمہ داری قبول کرلیں اس کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں مختلف علاقوں میں متاثرہ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔مسئلہ یہ نہیں کہ کتنے انچ اور فٹ بارش سے انسان ڈوب گئے،معاملہ تو یہ ہے کہ شہروں،پسماندہ علاقوں،چھوٹی، بڑی،غریب،امیر بستیوں میں سیلابی پانی کھڑا ہو گیا،عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا یہ سب کچھ اس لیے کہ پانی کے نکاس،سیوریج کامناسب انتظام ہی نہیں یہ سرکاری اداروں کی ناکامی کا بدنما چہرہ ہے۔ اس مرتبہ تو یہ امر بھی بے نقاب ہو گیا کہ اعلیٰ معیار کی آبادیاں بھی پانی میں ڈوب گئیں، بیشتر گھروں میں پانی کھڑا ہوگیا جبکہ غریب لوگوں،غریب بستیوں کی حالت اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔

تمام صوبوں میں طوفانی بارشوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں لیکن اپنے صوبے چھوڑ کر دوسرے صوبوں سے یکجہتی کااظہار ہو رہا ہے۔پہلے اپنی حالت تو سدھارو،اپنے صوبے کے لوگوں کو تو سہارا دو،وہ نادر تجاویز جو دوسرے صوبوں میں جا کر دی جا رہی ہیں انہیں اپنے صوبہ میں تو نافذ کر لو،یہ المیہ ہے کہ حکمران،مقتدر طبقہ تباہی اور نقصانات کے اس عالم میں بھی Political Point Scoring(سیاسی پوائنٹ سکورنگ)سے باز نہیں آ رہے۔یہ لیڈر شپ اور حکمرانی کا معیار عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔ ملک تباہی کے دھانے پر ہے،بارشوں نے سب کچھ بے نقاب کر دیا،لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں دوسالہ ناکام کارکردگی کا جشن منا رہی ہیں،ڈوبے ہوئے لوگوں کے سروں پر تقاریب سجا کر عام آدمی کے زخم اور گہرے کررہے ہیں۔

سندھ میں طویل مدت سے پی پی پی حکمران ہے،پنجاب میں پی پی پی کے بعد مسلم لیگ کی،ن، ق،ج،ض کے ناموں سے حکمرانی ہے۔بلوچستان سرداروں،نوابوں،قوم پرستوں کی حکمرانی میں کسا ہوا ہے، خیبرپختونخواہ میں عملاً تمام جماعتوں کی باری باری حکومتیں رہی ہیں،طویل مدت تک فوجی آمریتیں ملک،صوبوں کی سیاہ وسفید کی مالک رہی ہیں۔لیکن عملاً سب کی کارکردگی عوام کے لیے ڈراونے خواب کی مانند ہے،ہر دورِ اقتدار میں شہری حقوق سے محرومی کا یکساں ماحول ہی قائم رکھا گیا ہے۔ملک کا ہر بحران،ہر ڈیزاسٹر دعوت دے رہا ہے کہ حکومت،ریاست اور سیاست خدارا سنجیدہ ہوں،خرابیاں ریاستی وجود کو عملاً کھوکھلا کر رہی ہیں۔طاقت کا اندھا استعمال، حکومتوں کے غیر جمہوری،غیر پارلیمانی رویئے،سیاست دانوں کا کھلنڈرا پن،محض اقتدار،کرسی،وزارت،علاقہ میں رعب داب کے لیے سیاسی بے وفائیاں مسائل کا حل نہیں۔ اصل حل تو یہ ہی ہے کہ قومی ترجیحات متعین ہوں،قومی اور ریاستی قیادت متفق ہو، سیاسی جمہوری انتخابی نظام بااعتماد ہو اور شہری حقوق دینے کے لیے بااختیار بلدیاتی نظام ہو۔ سب کا سردار پہلو تو یہ ہے کہ امانت دیانت،اہلیت اورذمہ دارانہ جمہوری رویئے اختیارہوں۔