قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کی قرارداد :1974ء: تحریر لیاقت بلوچ

انٹرنیٹ فوٹو

قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کی قرارداد :1974ء
تحریر :لیاقت بلوچ
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان
برصغیر میں قادیانی فتنہ کے خلاف طویل مدت سے جدوجہد جاری تھی،علماء،عوام نے بڑی قربانیاں دیں،1974ء میں ہی نشتر میڈیکل کالج،ملتان طلبہ یونین کے وفد پر ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں کے حملہ نے تحفظ ختم نبوت کی تحریک کو نیا پُر عزم ولولہ انگیز موڑ دیا،پورے ملک میں تحریک چلی بالآخر مسئلہ قومی اسمبلی میں پہنچا،اس پر وہ قرارداد جو 36 ارکان قومی اسمبلی نے قادیانی مسئلہ کے حل کے لیے پیش کی،اس قرارداد کا متن جو بعد میں دستوری ترمیم کی بنیاد بنا،قرارداد اور ارکان قومی اسمبلی کے نام یہ ہیں۔یہ ہی قرار داد عقیدہ ختم نبوت کے آئینی تحفظ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرا ر دینے کا ذریعہ بنی۔

بسم اللہ الرحمن الرحمن
قرارداد
جناب اسپیکر!
قومی اسمبلی پاکستان ….محترمی!
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجاز ت چاہتے ہیں:
ہر گاہ کہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا،نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔
نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
نیز ہرگاہ کہ پوری اُمت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار،چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکورہ کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں،دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
نیز ہر گاہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

نیز ہرگاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو مکة المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام 6 اور 10اپریل 1974ءکے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140 مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی۔متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے،جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔
اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کو چاہے کوئی بھی نام دیا جائے،مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔
محرکین قرارداد
۱۔ مولانا مفتی محمود
۲۔مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی
۳۔پروفیسر غفور احمد
۴۔محمود اعظم فاروقی
۵۔مولانا سید محمدعلی رضوی
۶۔مولانا عبدالحق ( اکوڑہ خٹک)
۷۔چوہدری ظہور الٰہی
۸۔سردار شیر باز خان مزاری
۹۔مولانا محمدظفر احمدانصاری
۰۱۔جناب عبدالحمید جتوئی
۱۱۔صاحبزادہ احمد رضا قصوری
۲۱۔ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری
۳۱۔مولانا صدر الشہید
۴۱۔مولانا نعمت اللہ
۵۱۔جناب عمرہ خان
۶۱۔مخدوم نور محمد
۷۱۔جناب غلام فاروق
۸۱۔سردار مولابخش سومرو
۹۱۔سردار شوکت حیات خان
۰۲۔حاجی علی احمد تالپور
۱۲۔جناب راو خورشید علی خان
۲۲۔جناب رئیس عطا محمدخاں مری
نوٹ :بعد میں حسب ذیل ارکان نے بھی قرارداد پر دستخط کیے۔
۳۲۔نوابزادہ میاں محمدذاکر قریشی
۴۲۔جناب غلام حسن خان ڈھانڈلا
۵۲۔جناب کرم بخش اعوان
۶۲۔صاحبزادہ محمدنذیر سلطان
۷۲۔مہر غلام حیدر بھروانہ
۸۲۔میاں محمدابراہیم برق
۹۲۔صاحبزادہ صفی اللہ
۰۳۔صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری
۱۳۔ملک جہانگیر خان
۲۳۔جناب عبدالسبحان خان
۳۳۔ جناب اکبر خان مہمند
۴۳۔ میجر جنرل جمالدار
۵۳۔حاجی صالح خاں
۶۳۔جناب عبدالمالک خان
۷۳۔خواجہ جمال محمدکوریجہ