پاکستان میں سچ کیا ہے ؟۔۔۔ تحریر :لیاقت بلوچ

انٹرنیٹ فوٹو

پاکستان میں سچ کیا ہے ؟
تحریر :لیاقت بلوچ
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان
سچائی انسانی زندگی کا سب سے بڑا حاصل ہے،سچ انسان کی سب سے بڑی متاع ہے،سچ کے لیے لوگ تپتے صحرا پر لٹائے جاتے ہیں،سچ کی استقامت کی پاداش میں آروں سے چیر دیئے جاتے ہیں،سچ کے لیے لوگ زہر پیتے ہیں، سولی پر لٹکتے ہیں،آگ میں ڈال دیئے جاتے ہیں،لیکن سچائی کی تلاش سے دست کش نہیں ہوتے۔سچ ہر عہد اور ہر دور کی ضرورت ہے لیکن جب جھوٹ،فریب،ظلم کے اندھیرے بڑھ جائیں،اخلاقی قدریں مٹ جائیں،غریب سر عام لوٹ لیے جائیں اس وقت گھر بیٹھنا جھوٹ کاساتھی بننے کے مترادف ہے۔اس وقت ہر پاکستانی کے لیے،ہر خاص وعام کے لیے سچ جاننے کے لیے ذہن کے دروازے کھولنا ہوں گے،نکلنا ہو گا۔

یہ کتنا بڑا دائمی سچ ہے کہ رسول اللہ ﷺصرف رحمة المسلمین نہیں رحمة اللعالمین ہیں آپ کا طریقہ انقلاب منفرد اور اجتماعی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لیے ایک شریعت اور راستہ مقرر کیا ہے حالانکہ اگر وہ چاہتا تو سب انسانوں کو ایک اُمت بنا دیتا،مگر اس نے ایسا نہیں کیا اُس نے ہمیں آزمائش میں ڈالا ہے،اب یہ انسان پر ہے کہ کون نیکیوں میں سبقت لے جاتا ہے۔آئیے دیکھیں اسلامی، فلاحی،جمہوری،ریاست پاکستان میں سچائی کن کن پہلووؤں میں موجود ہے اور سچائی کی نوعیت کیا،حقیقت کیا ہے؟
پاکستان میں سچ یہ ہے کہ:مملکت خداداد پاکستان آزاد،خود مختار،اسلامی ریاست ہے، اللہ نے اپنی تمام نعمتوں سے اسے مالا مال کیا ہے،پاکستان کی بقاء،استحکام کا دارو مدار کلی طور پر اسلام پر ہے۔پاکستان کی روحانی اساس کو اجاگر کیے بغیر استحکام ناممکنات میں سے ہوگا۔اسلام کا غلبہ تو ناگزیر ہے لیکن یہ امر جان لیاجائے کہ ایمانی کمزوری،اخلاقی انحطاط کا شکار معاشرہ تنزلی کاشکار ہوتا ہے۔اسلام کی حکمرانی،اقامت دین اسی وقت ممکن ہے کہ یہ ہماری زندگیوں میں نفوذ کرے۔شریعت اسلامی معاشر ہ قائم نہیں کرتی بلکہ اسلامی معاشرہ شریعت کو قائم کرتا ہے(سیدقطبؒ)

عالم اسلام اور اسلامیان پاکستان کے زوال کی بنیادی وجہ فکر اسلامی میں انحطاط ہے، فکری،تہذیبی،اخلاقی قدروں کا دار ومدار دین پر ہے لیکن اس سے انحراف بہت ہی مہلک ثابت ہو رہا ہے۔یہ سچ ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق اسلام کی تعبیر نہیں ہو رہی،دین سے دوری بھی تباہی کا سبب ہے لیکن مسائل کا اصل سبب اپنے اپنے مسلک سے شدید لگاؤ ہے،ہم قرآن و سنت کی برکات کے لیے سرگرداں رہتے ہیں لیکن بے عملی،نفاق و افتراق ہمیں اس منزل تک پہنچنے نہیں دیتا۔
مسلم خوابیدہ اٹھ،ہنگامہ آراء تو بھی ہو
وہ چمک اٹھا افق،گرم تقاضا تو بھی ہو (اقبال)

پاکستان میں یہ بھی تو سچ ہے کہ!ہم منزل کو اس لیے بھی نہیں پا رہے کہ اپنی منزل کے بارے میں غفلت اور انحراف کاشکار ہیں ، قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم ؒاور علامہ اقبال ؒ کی امیدوں کے برعکس اسلام کی عالمگیر اخوت اور احترام آدمیت کے آفاقی پیغام کو بھلا کر میری زندگی کے اغراض ومقاصد کو اپنا لیا ہے۔تعلق باللہ،رواداری،اخلاص کی بنیادوں کو کو عدم برداشت،اختلافات کی شدت میں جھونک دیا۔پاکستان کے مرد وزن،طلبہ،نوجوانوں،کسانوں، مزدوروں،ڈاکٹرز،انجینئرز،تاجر و صنعت کار، غرض کہ انسانی صلاحیتوں کا وافر ذخیرہ ہے۔ زرخیز زمین،معدنیات کی طاقت،گہرے پانی کے سمندر کی قوت،ایٹمی صلاحیت، بہترین جغرافیائی اور موسمیاتی اہمیت غرض سب کچھ ہے لیکن یہ ہی تو سچ ہے کہ 73 سال میں فوجی آمریتوں،انجینئرڈ جمہوری پارلیمانی نظام ،بد انتظامی،مفاد پرستی اور کرپشن نے سب کچھ گہنا دیا ہے۔ کشمیر شہ رگ ہے پنجہ ہنود میں ہے ہم غفلتوں مصلحتوں کے غلاف میں ہیں۔سب کچھ متحرک اور کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے جب ہمارے دل بدل جائیں،زندگیوں اور عزائم میں انقلاب برپا ہو جائے ۔

اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا ہوئی افق خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں(اقبال)
پاکستان میں یہ ہی تو سچ ہے کہ:دین حنیف کو غیر فرقہ وارانہ تعصب سے پاک،عالمگیر سچائیوں کی بنیاد پر پاکستان کو جدید تناظر میں قرآن و سنت کی تفسیر و تصویر بنایاجائے،کیا امریکہ کی مرضی کے بغیر اسلام آباد میں حکومت نہیں کر سکتے تو کیا اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے کہیں بھی کبھی بھی خوشحال ہوسکتے ہیں۔جو اللہ کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں اُن کی معیشت تنگ ہوجاتی ہے بس اللہ کے احکامات ریاست اسلامی پاکستان میں بالادست بنائیں گے تو اللہ ہمارے لیے عزت،ترقی کے راستے کھول دے گا۔

اسلام کا بنیادی تصور صراط مستقیم ہے، صحیح سمت اور درست جہت کاتعین ہے ۔آج پاکستان میں سچ یہ ہے کہ قومی شیرازہ بکھرا ہوا ہے،حکومت،ریاست،سیاست باہم دست وگریبان میں،عزائم ریاست مدینہ کے نظام کے لیکن عمل اس سے کوسوں دور ہے۔ وسائل کی کمی نہیں لیکن بدنیتی،بد انتظامی،بدعنوانیاں،اختیارات اور وسائل کا غیر منصفانہ استعمال،پاکستان پر بزدلی کی وجہ سے خوف،موت مسلط ہے، جغرافیائی،نظریاتی،اقتصادی سرحدیں دشمن کے نرغے میں ہیں،مظلوم اور بہادر کشمیری ہمارے منتظر ہیں۔اب وقت ہے کہ قومی ترجیحات کا تعین ہو،73سال سے جاری مائنڈ سیٹ بدلا جائے،حکومت،ریاست،سیاست،پورا سماج قومی ترجیحات پر متحد ہو جائے ۔
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی(جمیل مظہری)
صف جنگاہ میں مردان خدا کی تکبیر
جوش کردار سے بنتی ہے خدا کی آواز (اقبال)