بلوچستان، سونے،تانبے کی تلاش کے معاہدے کی مدت اکتوبر میں ختم ہوگی

کراچی:پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے علاقے سیندک میں سونے اور تانبے کی تلاش کےلئے چینی کمپنی سے معاہدہ اکتوبر کو ختم ہوجائے گا ، وفاق نے نئے معاہدے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبہ بلوچستان کے علاقے سیندک میں سونے اور تانبے کی تلاش کے منصوبے کو مزید 15 سال کے لیے چینی کمپنی کےحوالے کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں جس پر صوبائی حکومت بھی رضامند ہے لیکن حزب اختلاف نے حکومتی اقدمات پر اعتراضات لگادیئے ہیں۔ دوسری جانب چینی کمپنی نے دعوی کیا ہے کہ 1995ء سے اب تک ضلع چاغی کی ترقی کیلئے 55لاکھ ڈالر یعنی تقریباً 92؍ کروڑ روپے فراہم کیے جاچکے ۔

نجی ٹی وی کے مطابق ضلع چاغی کے علاقے سیندک میں سونے اور تانبے کے ذخائر 1960 میں دریافت ہوئے تھے اور اس منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز 1989میں ہوا جب کہ سیندک سے پیداوار کا عمل 1995 میں شروع ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سیندک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کے لیے سیندک میٹل لمیٹڈ اور چینی کمپنی ایم سی سی کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی مدت 31 اکتوبر 2022 کو ختم ہورہی ہے اور اس معاہدے میں 15 سالہ توسیع کے لیے صوبائی حکومت نے تو آمادگی ظاہر کردی ہے مگر بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سراپا احتجاج ہیں۔

]]>