سوشل سائنسز میں سرمایہ کاری ، ترقی کی ضرورت ہے،سینیٹر مشتاق احمد خان

پشاور۔۔امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا و چیئرمین سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سوشل سائنسز کے میدان میں بھی سرمایہ کاری اور ترقی کی ضرورت ہے۔

مختلف مہارتوں سے لیس نوجوان ملک کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوان ہمارا بہت بڑا سرمایہ ہے۔ بہترین سرمایہ کاری نوجوانوں پر سرمایہ کاری ہے۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم ، روزگار اور تعمیری کاموں میں مصروف کرکے نوجوانوں پر بہترین سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت، ترقی اور نت نئے ایجادات وقت کی ضرورت ہے۔ قوموں کی ترقی کا راستہ ڈسکو کلب اور کسینو سے نہیں لیبارٹریوں اور لائبریریوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد (راوالپنڈی کیمپس) میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار میں سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر راجہ نسیم اختر، میڈیا سائنسز کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر شعیب احمد اور چیف ایسوسی ایٹس اکیڈیمکس بریگیڈئر (ر) ڈاکٹر فض ربی بھی موجود تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ کے لئے مختص ترقیاتی بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

ان کے پاس ترقیاتی بجٹ نہ ہوگا تو وہ تحقیق کیسے کریں گے۔ معاشرے پر سیاست ، سپورٹس اور شوبز کے تکون کا قبضہ ہے ۔ سائنس ، تحقیق یا کتاب پر کوئی بحث نہیں ہوتی۔یہاں چائے والا ہیرو بن جاتا ہے اور پروفیسر اور محقق کو کوئی جانتا ہی نہیں ۔ جب تک ہم سائنسدانوں ، ٹیکنالوجسٹس اور ماہرین علم و فن کو گلیمرائز نہیں کریں گے اور انہیں سماج میں ہیرو کے طور پر پیش نہیں کریں گے اس وقت تک پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔

پاکستان کو ترقیافتہ بنانے اور اسے دنیا میں مقام دلانے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں سرمایہ کاری اور تحقیق کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ کو بڑھانے کا واحد ذریعہ انڈسرٹلائزیشن ہے اور یہ کام علم اور جدت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے ہمیں چائنہ ، جاپان ، سنگاپور اور ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکیڈیمیا، ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشنز اور انڈسٹری کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ تعلق مضبوط ہوگا تو ہماری تحقیق کاربار کو فروغ دینے کے بھی کام آئے گی اور یہ تحقیق ترقی کے پہئے کو بھی گھمائے گی ۔ اس کی بدولت ہم کسی اور کے محتاج نہیں ہوں گے۔