کشمیریوں کو قتل کرنا بھارت کی ریاستی پالیسی ہے، مشعال ملک

اسلام آباد:کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ پاکستان فوری طورپر بیرون ملک سفارتکاروں کو فعال کرکے بھارتی پروپیگنڈے کا جواب دے،

سٹرٹیجک وژن انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام مسئلہ کشمیر انسانی اور دفاعی چیلنجز کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشعال ملک نےکہا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر پاکستان مضبوط نہیں ہوگا، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کوقبرستان بنا دیا ہے، بیرون ممالک مقیم پاکستانی سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر پاکستان کیلئے کام کریں،کشمیریوں کو قتل کرنا بھارت کی ریاستی پالیسی ہے۔

مشعال ملک نے کہاکہ کشمیری پاکستان سے محبت کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے شہداء کو پاکستانی پرچموں میں دفناتے ہیں۔ تمام حریت رہنما متحد ہیں ، بھارت ان کو ملنے نہیں دیتا، برہان وانی کے بعد مسئلہ کشمیر دوبارہ دنیا میں اجاگر ہوا اور دنیا نے اس طرف توجہ دینا شروع کردی،

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی تشدد کی وجہ سے نوجوان مسلح جدوجہد کی طرف نکل رہے ہیں۔کشمیریوں کا قتل عام کرنا بھارت کی ریاستی پالیسی ہے اس کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں،20سال سے کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارت کوشش کررہا ہے تاکہ یہاں پر بھارتیوں کو آباد کرکے جب حق خودارادیت کا ووٹ ڈالا جائے تو ان سے اپنے حق میںووٹ ڈالے جاسکیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کشمیریوںکی مدد کرکے احسان نہیں کررہا یہ اس کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان بھارتی پروپیگنڈے کا بھرپور جواب نہیں دے رہا، پاکستان کو چاہیے کہ فوراً اپنے سفارتکاروں کو فعال کرے۔ خاص طورپر امریکہ میں تعینات سفیر کو فعال کیا جائے کہ وہ لوگوں سے رابطے کرے، بھارت بھرپور طریقے سے امریکہ میں اپنا پروپیگنڈاکررہا ہے، مسئلہ کشمیر کو اجاگرکرنے کیلئے پوری دنیا میں خصوصی نمائندے بھیجے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی بیرون ملک متحد ہوتے ہیں جبکہ پاکستانی بیرون ملک سیاسی اختلافات کا شکار ہوکر ایک دوسرے پر بیرون ممالک میں بھی الزامات لگاتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو صرف سرکاری مسئلہ سمجھا گیا، عوام کے اندر اس مسئلے کو نہیں لے کر جایا گیا ، جب تک عوام میں اس بات کا شعور اجاگر نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک بھرپور آواز نہیں اٹھائی جاسکتی۔ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر پاکستان مضبوط نہیں ہوسکتا ، ہر پاکستانی کو اس کی آواز بلند کرنی چاہیے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو قبرستان بنا دیا ہے۔

جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عالمی ادارے انصاف کا ساتھ نہیں دیتے جس کی طاقت ہوتی ہے اس کی ہی بات مانی جاتی ہے، 9/11 کے بعد آزادی کی تحریکوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر پرامن طورپر حل ہوجائے گا تو یہ اس کی بھول ہے، افغانستان میں بھی امریکہ 17سال جنگ لڑنے کے بعد مجبور ہوکر مذاکرات کی میز پر آیا ہے۔ کشمیریوں کی قربانیوں کی وجہ سے بھارت بھی مذاکرات کی میز پر آئے گا۔

انہوں نے کہاکہ 1948ء میں جب گلگت بلتستان آزاد ہوگیا اور سرینگر تک مجاہدین پہنچ گئے تو بھارت نے مذاکرات کیے، مجھے یقین ہے کہ 2019ء میں دوبارہ بھارت مذاکرات کیلئے آئے گا۔ یہ سب کچھ قربانی دینے والوں نے حالات پیدا کیے ہیں،

انہوں نے کہاکہ ہر کام کرنے کا ایک وقت ہوتا ہے ، بین الاقوامی برادری ابھی مسئلہ کشمیر کی آواز سن رہی ہے، تحریک اپنے بلندترین نہج پر پہنچ گئی ہے اگر ابھی بھی پاکستان نے مدد نہ کی تو ایسا نہ ہوکہ پاکستان خود تو مضبوط ہوجائے مگر تحریک نیچے چلی جائے اس وقت کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اگر فوری طورپر جواب نہ دیا گیا تو یہ تحریک آزادی کشمیر کیلئے اچھا پیغام نہیں ہوگا۔ اگر ہم نے پیغام نہ دیا تو کشمیریوں پر مظالم مزید بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس کچھ نہ کرنے کا چارا نہیں بھارت کو جواب دینا انتہائی ضروری ہے۔

سیمینار سے سٹرٹیجک ویژن انسٹیٹیوٹ کے ممبر لیفٹیننٹ جنرل(ر)سید محمد اویس نے بھی خطاب کیا۔