ہندوتوا بھارت نے خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے:دفاعی ماہرین

اسلام آباد: ہندوتوا تعصب پر مبنی بھارتی توسیع پسندانہ عزائم اور کشمیریوں کے خلاف جارحیت نے خطہ میں ایٹمی جنگ کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

یہ بات اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں “توسیع پسند ہندو قوم پرستی اور نیوکلر سیاست” کے عنوان سے سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ کنٹمپرری ریسرچ (سی ایس سی آر)کے تحت منعقد ہونے والے ایک بڑے سیمینار میں معروف دفاعی تجزیہ نگاروں نے کہی۔

سیمینار سے سابق سیکرٹری دفاع جنرل(ر)نعیم خالد لودھی، جنرل(ر) آصف یاسین ملک، ڈاکٹر ظفر نواز جسپال، ڈاکٹر سلمی ملک، ائیر کموڈور (ر) خالد بنوری، سلطان محمد حالی، بریگیڈئیر(ر) ڈاکٹر نعیم سالک، منصور احمد اور سی ایس سی آر کے صدر انس عبدللہ نے خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوتوا نظریہ کی بنیاد پر تعمیر کی گئی نام نہاد قوم پرستی محض بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ اس لہر نے خطے کو ایٹمی جنگ کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت اپنی روایتی عسکری صلاحیت کے بل پر پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے اس کے رہنما بار بار ایٹمی طاقت کے پہلے استعمال کی دھمکیاں علی الاعلان دے رہے ہیں۔ کشمیر میں ہونے والے ظلم اور  اگست کے بعد کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ نگاروں نے کہا کہ عالمی برادری اس بات پر تو شاید تشویش میں مبتلا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کہیں جنگ نہ چھڑ جائے لیکن کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی تحریک کے لیے ساتھ دینا فی الحال اقتصادی مصلحتوں کے پیشِ نظر ممکن نہیں۔

عالمی ضمیر کے جھنجوڑنے کے لیے مستقل بنیادوں پر ایک بین الاقوامی مہم کی ضرورت ہے جس کے لیے ہر کشمیری اور پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کی فاشسٹ حکومت جو کچھ کشمیر میں کر رہی ہے اس کے بارے میں بہت عرصے سے تیاری کی جارہی تھی اور گزشتہ دو انتخابات میں حکمراں جماعت نے اپنے منشور میں بھی یہ بات کھل کر کہی تھی۔

پروگرام کے مقررین اور شرکا نے سوال جواب کے اختتامی سیشن کے دوران بھی عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی بے حسی اور لاعملی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوتوا شدت پسندی اور مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کیا جائے۔