پاکستان کو چاہیے پڑوسی،برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغانستان میں نئی حکومت کوفوری تسلیم کرے ، سراج الحق


 اسلام آباد(صباح نیوز) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کو چاہیے پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرے تاکہ عالم اسلام اور دنیا کے دوسرے ممالک کو ترغیب ملے اور وہ بھی افغان حکومت کو تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ افغانستان اس وقت معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ ہماری خواہش ہے عالم اسلام اس وقت افغان بھائیوں کی مدد کرے ۔ امید ہے افغانستان میں امن قائم ہوگا جس کیلئے جدوجہد کی گئی ۔

ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب الکریم افغان طالبان کی فتح اور کامیابی کو عالم اسلام، پاکستان اور افغانستان کیلئے خیروبرکت کا ذریعہ بنا دے ۔ ہماری خواہش ہے عالم اسلام اس وقت افغانی بھائیوں کی مدد کرے۔ اس وقت افغانستان میں معاشی بدحالی ہے لوگوں کیلئے اشیائے خوردونوش کے مسائل ہیں۔افغانستان کا9.8 ارب ڈالر سے زیادہ امریکہ نے منجمد کرلیا ہے اور کچھ پیسہ پہلے حکمران ساتھ لے گئے۔ افغانستان میں 4,4 ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ افغانیوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے عالم اسلام اپنے افغان مسلمان بھائیوں کا ساتھ دے ۔ انشاء اللہ اگر وہاں اچھا نظام آجائے تو اس کے ثمرات پڑوسی ممالک بالخصوص اور پوری دنیا کیلئے بالعموم فائدہ مند ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ جہاں تک ہمارے جلسے ، جلوسوں کا مسئلہ ہے تو ہر مسئلے کا حل جلسے اور جلوس تو نہیں ہے۔ پیغامات اور رابطے کرنے کے اور بڑے راستے ہوتے ہیں اس پر ہمارا کام جاری ہے ہمارے رابطے بھی ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ ان کو ایسی سپورٹ کریں کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوں اور وہاں امن قائم ہو جائے جن مقاصد کیلئے افغان قوم نے قربانی دی ہے وہ مقاصد پورے ہوں۔ اس سوال پر کہ پاکستان افغانیوں کی مدد کررہا ہے پاکستان سے امداد لے کر 4جہاز جاچکے ہیں جواب میں امیر جماعت نے کہاکہ جہاز سے زیادہ اس وقت جس بات کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں انہیں تسلیم کیا جائے۔ اگر پاکستان تسلیم کرنے میں پس و پیش کررہا ہے اور دوسروں کو دیکھ رہا ہے تو اس طرح  دوسرے بھی حوصلہ نہ کریں گے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو پڑوسی اور اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغان حکومت کو فوری تسلیم کرنا چاہیے تاکہ باقی عالم اسلام کے ممالک بھی اس طرف آجائیں۔

 سراج الحق نے کہاکہ افغان طالبان کی تحریک ایک عوامی تحریک تھی یہ کوئی خطرناک کام نہیں تھا جس کو ہر کوئی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ افغان عوام نے پہلے بھی روس کا مقابلہ کیا اس سے پہلے انگریز اور اس سے بھی پہلے تاتاریوں کا مقابلہ کیا تھا تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کو اپنے لئے خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے اگر پاکستا  ن نے دنیا کے لوگوں کو بلاکر افغانستان کی سپورٹ میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک فائدہ مند کام ہے۔