قبائلی اضلاع میں بعض کانسٹیبلز کو ڈائریکٹ ڈی پی او بنانے کا انکشاف


اسلام آباد (صباح نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران  کے اجلاس میں قبائلی اضلاع میں بعض کانسٹیبلز کو ڈائریکٹ ڈی پی او کے پوسٹ پر ترقی دینے کا انکشاف ہوا ہے جب کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ،، خصوصی اقلیتی فورس ،، بنائی جارہی ہے قومی آمدن قبائلی اضلاع کو تین  فی صد دینے کا معاملہ ہوا میں ہے کمیٹی  کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمان کی زیرصدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا۔

ایڈیشنل سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ سال 2021-2022 کیلئے 129.7 بلین روپے قبائلی اضلاع کے لئے مختص کئے گئے ہیں  تیس ارب روپے سے زائد جاری ہوچکے ہیں۔ کمیٹی نے تمام ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ایڈیشنل سیکٹری فنانس ڈویژن نے بتایا کہ این ایف سی کی سب کمیٹی بن چکی ہے اور ان کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ ترقیاتی پلان لے کر آئیں۔ حکام  نے کہا کہ  سابقہ فاٹا کے لئے  3 فیصد محاصل کا معاملہ   ہوامیں ہے ۔

سینیٹر بہرہ مند تنگی  نے کہا کہ اگر سب ہوا میں ہے تو اس پر بات کر کے ٹائم کیوں ضائع کر رہے ہیں۔چئیرمین کمیٹی نے  کہا کہ  سبز باغ دکھا کرسابقہ فاٹا کے لوگوں کو چھوڑ دیا  گیا ہے ۔ حکام نے بتایا کہ یہ این ایف سی کا کام ہے کہ کس کو کب کیا دینا ہے اگلی میٹنگ میں  تمام  منصوبوں پر تمام اخراجات کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں  کہ کتنا پیسہ خرچ ہوا ہے۔ارکان نے کہا ہے کہ  سارے اعدادوشمار بڑھا چڑھا کر پیش کئے جا رہے ہیں۔  وزیرستان میں اخراجات کی مد میں لوگوں کو  فی کس 4 لاکھ روپے ملنے تھے لیکن کسی کو بھی ابھی تک کچھ نہیں ملا۔ ضم شدہ علاقوں کیلئے الگ اکاونٹ کھولنے  کے لئے  اگلی میٹنگ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل بینک حکام کو طلب کر لیا گیا ہے ۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ  117.08 بلین روپے سابقہ فاٹا کے لئے  خرچ ہو چکے ہیں۔ اے آئی پی کے تحت  64 بلین روپے جاری کئے گئے۔سینیٹر دوست محمد خان نے چیلنج کیا کہ وزیرستان میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہا وہاں کی حالت موہن جو دڑو اورہڑپہ سے بھی ابتر ہے اے آئی پی اور اے ڈی پی کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات اور ٹینڈرز  بھی مانگ لئے گئے طلب کرلیں۔کمیٹی اراکین نے ضم شدہ علاقوں میں سڑکوں اور پانی کے مسائل کے حوالے سے سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ کوئی کام نہیں ہوا  باجوڑ میں کوئی اسکول نہیں بنا ہے کچھ اسکولوں میں 250 طلبا کیلئے ایک استاد ہے جبکہ 1500 طلبا کیلئے 3 کمرے ہیں۔فنانس ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ ضم شدہ علاقوں میں70 پرائمری اسکول بنائے جائیں گے۔ مختلف اسکیمز پر ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔

سینیٹر دوست محمد خان اور سینیٹر ہدایت اللہ بھی ذیلی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ٹی ڈی پیز کی بحالی کے معاملے  پر  اگلی میٹنگ میں  آڈیٹر جنرل کو مدعو کیا گیا ہے۔ بتایا  گیا ہے کہ کل 29833  خاصہ داروں میں سے 25879 کو کے پی پولیس میں ضم کیا گیا ہے۔  اب تک 13174 لوگوں کو کارڈ جاری کئے گئے ہیں۔پولیس میں پروموشن کیلئے جو طریقہ کار ہیوہ ان پر بھی لاگو ہوگا۔کچھ کانسٹیبلز کو ڈائریکٹ ڈی پی او کے پوسٹ پر ترقی دینے کے معاملے  پر چئیرمین کمیٹی نے اجلاس میں موجود ڈی آئی جی کے پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ  تمام اضلاع کے متعلقہ حکام  کو خط لکھا جائے  کر ایسے پروموشنز کے بارے میں تفصیلات طلب کرلی ہیں  ڈی آئی جی نے اتفاق کیا۔

کمیٹی اراکین نے رائے دی کہ اس کام میں جو ملوث ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ ڈی آئی جی نے کمیٹی کو یقین دہائی کرائی کہ وہ تحریری طور پر لکھ کر دے دیں گے کہ بہت جلدکارڈزکا  کام مکمل ہو جائے گا۔  ڈی آئی جی کے پی نے یہ بھی بتایا کہ قبائلی اضلاع میں  اقلیتوں کی حفاظت کیلئے اسپیشل مائنارٹی فورس ( ایس ایم ایف)بنا رہے ہیں اور یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔