اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی حکومتی تعلیمی پالیسی کے خلاف” تعلیم سے تعمیر مہم ” کا آغاز


 اسلام آباد(صباح نیوز) اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے حکومت کی تعلیمی پالیسی کے خلاف” تعلیم سے تعمیر مہم ” شروع کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 17 نومبر کو طلباء کنونشن کے انعقاد کا اعلان کردیا.

ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ حمزہ محمد صدیقی نے  اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں تعلیم کو تجارت بنا دیا گیا ہے۔ تعلیم پر کسی قسم کا ٹیکس قابل قبول نہیں ہے مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بنائے گئے قانون کو واپس لیا جائے کیونکہ یہ تعلیم دشمن بل ہے۔

حمزہ محمد صدیقی کا کہنا تھا کہ میڈیکل کے شعبے کو چلانے کیلئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل پی ایم ڈی سی کو ختم کرکے پاکستان میڈیکل کمیشن مسلط کردیا گیا اس کمیشن کو چلانے والے ڈاکٹر نہیں ہیں بلکہ ایسا ادارہ بنا دیا گیا جس میں وکیل بھی ہے اور معاشرے کی تمام اکائیوں سے افراد لے کر اپنی مرضی کا کمیشن  بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں طلبا نے ٹیسٹ کے خلاف مظاہرہ کیا تو ان پر لاٹھی چارج کیا گیا طلبا پر ریاستی جبر کیا گیا۔

حمزہ محمد صدیقی نے کہاکہ جمہوری دور میں آمرانہ طرز حکومت چل رہا ہے کسی کواظہار رائے کی آزادی نہیں ہے اور حکومت میں بات سننے کا حوصلہ نہیں ہے اسی طرح میڈیکل کے طلباء پر امتحانات پاس کرنے کے بعد ایک ٹیسٹ نیشنل لائسنسنگ ایگزامز کے نام پر مسلط کیا گیا ہے اس حوالے سے طلبا، اساتذہ اور ڈاکٹرز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ پانچ سال محنت کرکے ایم بی بی ایس پاس ہونے والے طالب علم کو کہا جاتا ہے کہ تم ایک اور ٹیسٹ دو گویا کہ پورے نظام تعلیم پر عدم اعتماد ہے پانچ سال کی پڑھائی ایک طرف اور ایک ٹیسٹ ایک طرف جس میں 70 فیصد نمبر لے کر پریکٹس کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ لاہور میں احتجاج کرنے و الے میڈیکل کے طلبا پر ریاستی تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہیں حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نیشنل لائسنسنگ ایگزام کا فیصلہ واپس لے اور تمام متعلقہ افراد سے مشاورت کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل وضع کیا جائے۔ ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبا نے  مطالبہ کیا کہ پاکستان میں طلبہ یونین پر 1984 سے عائد پابندی کو ختم کیا جائے لیکن پاکستان کے باشعورطبقے کو ینین سازی کا حق دیا جائے.

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے نوجوان طالبعلموں کو اپنے حق کیلئے کھڑا ہونا ہوگا ۔ حمزہ محمد صدیقی  نے کہاکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں طلبا یونین بحال کرنے میں سنجیدہ نہیں  ہیں صرف اعلانات کیے جاتے ہیں لیکن عملدرآمد نہیںہوتا۔ ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلباء نے  اعلان کیا کہ طلبہ کے حقوق حال کرنے کیلئے 17 نومبر کو اسلام آباد میں طلباء کنونشن منعقد کیا جائے جو طالب علموں کو بیدار کرے گا۔

حمزہ محمد صدیقی نے طلبہ میں اعلی اقدار کے فروغ کیلئے تعلیم سے تعمیر مہم  شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ  پاکستان میں تعلیم کی بجائے موٹرویز کو ترجیح دی گئی،ہر حکومت تعلیم کے شعبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرتی رہی ہے۔آئین کے مطابق تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی بنیادی  ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ طلبا کے حقوق کے لئے  ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جارہی ہے ۔رواں مہینے سے سال کے اختتام تک یہ مہم چلائے جائے گی تحریک کا بنیادی مقصد تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا،نوجوانوں کو تعلیمی میدان سپورٹ اور ان کی راہنمائی کرنا ہے،حکومتی پالیسوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حمزہ محمد صدیقی نے کہاکہ گزشتہ تین سالوں میں موجود حکومت نے 100 فیصد سے زائد فیسوں میں اضافہ کیا ہے،بجٹ میں ہر سال تعلیم کے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن حکومت کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتی،میڈیکل اسٹوڈنٹ کا ایشو کئی سالوں سے چل رہا ہے، حکومت انکے مسائل سننے کے بجائے ان پر کیمیکل اسپرے کرتی ہے۔حکومت خود اپنے طلبہ کو باہر اسکالرشپ پر بھیجتی ہے لیکن انجینئرنگ کرنے والوں کو انجینئرنگ کونسل رجسٹر نہیں کرتی.

انہوں نے  کہاکہ ،16 نومبر تک ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیاہے 17 نومبر کو ہزاروں طلبہ کے ہمراہ اسلام آباد کا رخ کریں گے جہاں عظیم الشان کنونشن منعقد کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ کراچی ، ملتان اور کوئٹہ میں بھی حقوق طلبہ مارچ منعقد  ہونگے