مہاراجہ ہری سنگھ کے دورکی ریاست جموں وکشمیر کی سرحدوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،فاروق عبد اللہ


 سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی  اورنیشنل کانفرنس کے چیئرمین فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مستقبل کی ریاستی اسمبلی ایک قرارداد   سے5 اگست 2019  کے اقدامات  مسترد کر سکتی ہے ۔

یہ اقدام  نئی دہلی کے لئے شرمندگی کا باعث ہوگا اور قانونی طورپر مسئلے کو مزیدپیچیدہ بنائے گا ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں لاوا پک رہا ہے اور یہ بھارت نوازسیاستدانوں کو لے ڈوبے گا۔فاروق عبداللہ نے سرینگر میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ لاوا پک رہا ہے ، صرف ایک چنگاری کی ضرورت جب یہ پھٹے کا اللہ جانے ہمارے ساتھ کیا ہوگا ۔

انہوں نے انقلاب فرانس کے بعد پیدا ہونے والے سماجی بحران اور قتل وغارت کا حوالہ دیا۔ ممکنہ انتخابات کے بارے میں فاروق عبد اللہ نے بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابات میں دھاندلی کے لئے سب کچھ کریں گے تاکہ ان کے لوگ اقتدارمیں آئیں ۔ انہوں نے کہاکہ یقینادھاندلی گزشتہ 70 سال سے ایک معمول ہے۔1987 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی تسلیم شدہ ہے جب فاروق وزیر اعلی تھے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ایک الگ آئین ساز اسمبلی تھی جس نے 1951 سے 1957 تک کام کیا ۔ اس کی طرف سے تیار کردہ ریاستی آئین میں طے کیاگیا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے دورکی ریاست جموںوکشمیر کی سرحدوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ5 اگست 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے کی گئی آئینی ترامیم کو جن کے تحت جموں و کشمیر کے حوالے سے خصوصی دفعات کو ختم کیاگیا، مستقبل کی ریاستی اسمبلی ایک قرارداد   سے5 اگست 2019  کے اقدامات  مسترد کر سکتی ہے جو نئی دہلی کے لئے شرمندگی کا باعث ہوگا اور قانونی طورپر مسئلے کو مزیدپیچیدہ بنائے گا ۔