مقبوضہ کشمیر میں جنگلاتی حقوق ایکٹ 2006 نافذ


 سری نگر(کے پی آئی)بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جنگلاتی حقوق ایکٹ  2006  نافذ کر دیا ہے ۔ اس قانون کے نفاذ سے مقبوضہ کشمیر کے جنگلات میں خانہ بدوش قبائل کی رہائش غیر قانونی ہوگئی ہے ۔

کے پی آئی  کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے جنگلات میں گزشتہ ایک سال سے  خانہ بدوش قبائل کے خلاف آپریشن جاری ہے  اس آپریشن میں خانہ بدوش قبائل کے سینکڑوں گھروں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے ۔ گزشتہ روز سری نگر میں جنگلاتی حقوق ایکٹ  2006  کے نفاذ کی خصوصی تقریب ہوئی  جس میںجموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی شرکت کی ۔

انہوں نے کہا کہ  14سال سے زائد عرصے کے انتظار کے بعد ، 2006 کے جنگلاتی حقوق ایکٹ نافذ کر دیا گیا ہے ۔ قبائلی برادری کے ارکان کو اپنے جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کی پرورش کے لیے اپنی ذمہ داری کے حوالے سے حساس ہونے کی ضرورت ہے۔میں جموں کشمیر میں اپنے قبائلی بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی جنگلی حیات کی حفاظت ، جنگلات کو اپنے خاندان کے ایک فرد کی طرح بچانے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

قبائلی نوجوانوں کی پائیدار معاش کو یقینی بنانے کے لیے 1500 چھوٹے بھیڑوں کے فارم قائم کیے جائیں گے ، 500 قبائلی نوجوانوں کو خصوصی مہارت کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے منتخب کیا جائے گا جن میں کمرشل پائلٹ ، مینجمنٹ ، روبوٹکس وغیرہ شامل ہیں