پاکستان نے دہشت گردی کا بہت بہادری سے مقابلہ کیا، عارف علوی


اسلام آباد(صباح نیوز)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ دنیا کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا بہت بہادری سے مقابلہ کیا،بھارت پاک چین تعلقات میں دراڑپیداکرنے کی کوشش میں ناکام ہوگا،بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے،کشمیر کے حوالے سے پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے ، وزیراعظم نے خود کوکشمیرکا سفیرکہا، عمران خان نے موثراندازمیں دنیا میں بھارت کا چہرہ بے نقاب کیا۔

ان خیالات کا اظہارصدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی کے چوتھے پارلیمانی سال کے آغاز کے موقع پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر اپوزیشن رہنما بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد نعتِ رسول مقبولۖ پیش کی گئی۔اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو خطاب کے لیے مدعو کیا۔

صدر عارف علوی نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر اراکین پارلیمنٹ کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ دعا ہے پاکستان میں جمہوری اقدار اور “رواداری کی روایت” پروان چڑھے۔ میری آج کی یہ گفتگو پاکستان کے حال اور مستقبل کے حوالے سے ہے کیونکہ میرا ملک ایک نئی اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں ہمارے ملک اور قوم میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آ ئی ہیں اور میری آج کی یہ تقریر اِن تبدیلیوں اور کامیابیوں کا احاطہ کرنے کی کوشش ہو گی ۔ میں”  انشا اللہ” اس بات کا بھی ذکر کروں گا کہ ہم پچھلی دہائیوں میں تربیت کے کن مراحل سے گزرے اور اس کے نتیجے میں ہم نے کون کون سی طاقتیں اور صلاحیتیں اپنے اندر پیدا کیں جن کی بدولت ہم انشا اللہ ایک چمکتے دمکتے اور ابھرتے ہوئے پاکستان کی منزل کو پا لیں گے۔

آپ جانتے ہیں کہ کورونا کے منفی اثرات کے سبب دنیا کی تمام معیشتیں سکڑنے لگیں ۔ مگر اللہ تعالی کے فضل و کرم اور حکومت کی اچھی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معاشی کارکردگی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر رہی اور پاکستانی معیت کی شرحِ نمو 3.94 %رہی ۔ مالی سال2020-21کے دوران پاکستان کی برآمدات گزشتہ سال 23.7ارب سے بڑھ کر 25.3ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ترسیلات زر29.4ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے جو کہ پچھلے سال کی نسبت تقریبا6ارب ڈالر زیادہ ہیں اور اس سال کے شروع کے 2مہینوں میں مزید 10% کا اضافہ ہوا ہے ۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور ایشیا کی بہترین  اور دنیا کی چوتھی بہترین کارکردگی کا اعزاز حاصل کیا اور مئی 2021 میں ایک سیشن میں  ریکارڈ توڑ 2.21ارب حصص کی خریدو فروخت ہوئی۔حکومتی اقدامات کی بدولت دو سال قبل عالمی بینک کی میں پاکستان کی پوزیشن میں28درجے کی بہتری آئی تھی۔اور اب آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ کے حالیہ سروے کے مطابق سمندر پار سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد یعنی میں تقریبا 60% کا اضافہ ہوا۔ ایف بی آرنے سا ل2021 میں ٹیکس وصولیوں کی مد میں 4732ارب روپے اکھٹے کیے جو کہ پچھلے سا ل کی نسبت تقریبا 18 %زیادہ ہیں ۔

اسی طرح موجودہ  مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں ہدف سے 160ارب روپے زائد کی وصولیاں ہوئیں ہیں ۔ عوام کا اتنی بڑی تعداد میں ٹیکس جمع کرانا اور ترسیلات ِ زر بھیجنا حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ میں مبارکباد دیتا ہوں حکومت کو کہ کے میدان میں بڑی تندہی سے کام کر کے سارے اعتراضات کے حل کیلئے قوانین اور طریقہ کاربنا لیے گئے اور لاگو بھی کر دئیے گئے ہیں۔

صد ر عارف علوی نے کہا کہ عوام اور بالخصوص کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو حکومت نیایک بڑا تعمیراتی پیکج دیا  ، مکان اور چھت کی فراہمی کیلئے”نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام “کا آغاز کیا ۔ اس کیلئے حکومت نے تعمیراتی شعبے کو 36ارب روپے کی سبسڈی دینے کے علاوہ  مختلف ٹیکسوں کی مد میں چھوٹ بھی دی ۔    بینکوں کی مدد سے عوام کو اپنے مکان کی تعمیر کیلئے آسان شرائط پر قرض کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے ہیں ۔

نتیجتاً پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کا 260 ارب روپے کی حد عبور کر چکا ہے۔ حکومت کے اعلان کردہ تعمیراتی پیکج میں اب تک 447ارب مالیت کے 1252منصوبوں کی رجسٹریشن ہوئی ہے۔ حکومت کے ان اقدامات کی بدولت نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے بلکہ 70کے قریب    جیسا کہ اسٹیل ، سیمنٹ ، پینٹ اور الیکٹرانکس انڈسٹری میں لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں تاریخی ترقی کا سہرا وزیرِ اعظم کے سر جاتا ہے کہ جنہوں نے عوام کے احساس پر مبنی پالیسی اپنائی جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ہمیں معاشی کامیابی سے بھی نوازا ۔ زراعت کے شعبے میں 2.77% کی ترقی ہوئی اور اس میں مزید محنت کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کی آئی ٹی شعبے پر خصوصی توجہ کی وجہ سے آئی ٹی  برآمدات  2.12ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ سال کی نسبت ان برآمدات میں 47%کا اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں نوجوانوں کو تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں ان میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت نوجوانوں کی آن لائن تربیت کاپروگرام” ڈیجی اسکلز”قابلِ ذکر ہے ۔ یہ امر لائق تحسین ہے کہ اب تک 17لاکھ نوجوانوں کو اس پلیٹ فارم کے ذریعے تربیت دی جاچکی ہے ۔ جس  میں اکثریت  18سال سے 29سال کی عمر کے نوجوانوں کی ہے ۔ پاکستان کے فری لانسرز اب تک20کروڑ ڈالر سے زائد زر مبادلہ کما چکے ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ دنیا اس وقت چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے اور یہ انقلاب صرف مادی ترقی  کا انقلاب نہیں  بلکہ ایک فکری اور ذہنی انقلاب ہے۔ ماضی میں اقوام نے کارخانوں اور انڈسٹری کی مدد سے ترقی کی۔ یہ ترقی جسے ہم اینٹ اور گارے کی ترقی بھی کہتے ہیں ، ضروری ہے مگر یہ وقت لیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجیز ، جیسا کہ اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے تیز رفتار ترقی ممکن ہے۔ میں سائبر سیکورٹی پر بھی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ذہانت کے اعتبار سے پاکستانی قوم اور پاکستانی نوجوان دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں ۔ اللہ تعالی نے انسانوں میں  ذہانت مساوات سے بانٹی ہے۔ مجھے اپنے سائنسدانوں اور آئی ٹی ماہرین پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اپنی ذہنی استعداد کو بروئے کار لا کر عصرِ حاضر کے سائبر ڈیفنس اور سیکورٹی چیلنجز پر  احسن طریقے سے قابو پالیں گے۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ یہ تو تھے چند معیشت کے اِشاریے ، مگر اسی طرح حکومت کا انسانی وسائل کی ترقی کو اولین ترجیح دینا  اور انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسیوں کو اپنانا  دوسری بڑی تبدیلی  اور کامیابی ہے۔  بدقسمتی سے ماضی میں انسانی ترقی کے شعبوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا اور ہم نے اپنی توجہ صرف   پر ہی مرکوز رکھی ۔ کرپشن کے ناسور  اور ماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے  ہم نہ صرف ترقی سے محروم رہے بلکہ انسانی و سماجی ترقی کے تمام اِشاریوں یعنی کہ  میں بھی دنیا سے بہت  پیچھے رہ گئے ۔ ٹیلنٹ کی قدر نہ ہونے اور میرٹ کو فوقیت نہ دینے کی وجہ سے پاکستان کو گورننس کا نقصان ہوا اور برین ڈرین کا سامنا بھی کرنا پڑا۔جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ قومی سلامتی کا تصور اب صرف سرحدوں اور فوجی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ ماحول ، خوراک ، تعلیم، چھت  اور صحت کے شعبے  انسانی سلامتی کے جامع تصور کے تحت مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ۔ہمیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ایک نئے اور عظیم الشان پاکستان کا قیام  ایک تعلیم یافتہ  ،صحت مند اور  ذمہ دار قوم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہنرمند اور ذہین افراداقوام کی ترقی کیلئے  سب سے بڑا ستون ہیں۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا :-
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت  انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاشرے کے کمزور اور نادار افراد کی فلاح و بہبود کیلئے  احساس پروگرام جیسے غربت مکائو اور سماجی تحفظ کے مثالی منصوبوں کا قیام عمل میں لائی۔ ذہنی و جسمانی کمزوری کے خاتمے کیلئے  احساس نشوونما پھر ، وسیلہ تعلیم ، احساس کفالت،  احساس اسکالرشپ ، احساس ایمرجنسی کیش ، احساس آمدن ، احساس لنگر خانے اور احساس کوئی بھوکا نہ سوئے  اور پناہ گاہوں جیسے نئے پروگراموں کی مدد سے مستحق  اور غریب افراد کے معاشی اور سماجی تحفظ پر کام کر رہی ہے۔  معاشرے کے کمزور ترین طبقات کے درد کو محسوس کرتے ہوئے  حکومت نے اس سال تقریبا 208 ارب روپے مختص کیے ہیں  ۔ ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو کیش امداد دی جائے گی  جس سے ملک کی 30% آبادی مستفید ہو سکے گی۔

ان تمام منصوبوں میں نہ صرف خواتین  بلکہ خصوصی افراد کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا گیا اور ان کیلئے  احسن اقدامات کیے گئے ۔ “احساس کفالت پروگرام ” کے تحت اس مالی سال میں  70لاکھ خواتین کو ماہانہ  2000روپے دیے جائیں گے اور  20لاکھ خصوصی افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دینے کی منظوری بھی دے دی ہے ۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے خواتین اور خصوصی افراد کی  مالی شمولیت یقینی بنانے کیلئے  خصوصی قرض کی اسکیم  متعارف کرائی گئی۔  میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرض کی اسکیمیں تو موجود ہیں  مگر مناسب آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے قرض لینے والوں کی تعداد  بہت کم ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ ایک اور بہترین کام  کامیاب جوان پروگرام ” ہے ، جس کے لیے  اس سال تقریبا 100 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے اس لیے کہ ملک کے نوجوانوں کو آسان شرائط پر اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے قرض دیے جائیں ۔ اب تک 15ارب روپے سے زائد کی رقم سے تقریبا  14ہزار کاروبار شروع کیے جا چکے ہیں ۔حکومت نے نوجوانوں کی  میں اضافے اور انہیں باہنر بنانے کیلئے  “ہنر مند پاکستان پروگرام” کیلئے10 ارب روپے کی رقم رکھی ہے اور اب ملک بھر کے 720اداروں میں ایک لاکھ ستر ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر نوکریوں کے قابل بنایا جارہا ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اسی طرح حکومت عوام کے صحت کے مفت علاج کیلئے بھی سرگرم عمل ہے ۔ “صحت سہولت پروگرام ” اور صحت کارڈ کے تحت پاکستان  کی منزل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اب تک ایک کروڑ اسی لاکھ خاندان جو کہ تقریبا8 کروڑ دس لاکھ افراد بنتے ہیں، اس پروگرام سے مستفید ہورہے ہیں۔

آپ کا تعلق خیبر پختونخواسے ہو یا  پنجاب سے یا بلوچستان سے ، اسلام آباد سے ہو یا آزاد جموں و کشمیر سے ، سابقہ فاٹا اضلاع سے ہو یا گلگت بلتستان سے ، آپ جسمانی معذوری کا شکار ہیں  یا آپ کا تعلق کسی بھی اقلیت سے ہے ، ریاست آپ کی صحت کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے ۔ انشا اللہ بہت جلد پوری آبادی کو صحت سہولت پروگرام میں شامل کر لیا جائے گا  ۔ مزید برآں حکومت ملک میں ٹیلی میڈیسن کے فروغ کیلئے بھی اقدامات کررہی ہے اور میں صوبوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹیلی میڈیسن کے تصور کو  اپنانے پر توجہ دیں جس سے غریب آدمی یا عورت  فون پر بات کر کے مشورہ تو لے سکے۔ اس  سے سستے علاج کی فراہمی اور ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے وسائل پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور ہمیں تعلیم ، صحت ، خوراک ، ٹرانسپورٹ ، پانی نکاسی آب اور توانائی جیسی ضروریاتِ زندگی  عوام تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمیں بچوں کی پیدائش میں وقفہ لانے ، کنبہ چھوٹا کرنے  اور قرآنی تعلیمات کے مطابق ماں کا بچے کو اپنا دودھ پلانے کی روایت  عام کرنے کی ضرورت ہے  تاکہ بچوں کی بہتر پرورش ہو سکے  ، ماں اور بچے کی صحت پر مثبت اثر پڑے  اور بچہ غذائی قلت  اور ذہنی و جسمانی کمزوری  یا  کا شکار نہ ہو ۔ اس سلسلے میں میڈیا ، علمائے کرام  اور معاشرے کے دیگر طبقات  کے علاوہ حکومت سے بھی درخواست ہے کہ فنڈنگ میں اضافہ کریں ۔تعلیم کا شعبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے  اور حکومت نے پاکستان میں “یکساں تعلیمی نصاب” کے نفاذ کے لیے اقدامات کیے ہیں ۔ اس بہترین کام کا مقصد  ملک بھر کے بچوں کو مساوی معیارِ تعلیم کو  یقینی بنانا ہے  اور ایک متحد قوم کی  تشکیل کرنی ہے۔ “احساس اسکالر شپ پروگرام ” کے تحت تقریبا 50 ہزار طلبا کیلئے اسکالر شپ کا آغاز کیا گیا  اور گزشتہ دو سال میں  ایک لاکھ 42 ہزار  طلبا کو احساس اسکالر شپ دی گئی ۔

حال ہی میں ہائر ایجوکیشن کمشن کی جانب سے خصوصی افراد کیلئے  اپنی پالیسی میں خصوصی طلبا کو  ملک بھرکے جامعات میں  ٹیوشن فیس  اور ہوسٹل فیس کی مد میںمکمل چھوٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو تعلیم کی فراہمی اور انہیں ہنر مند بنانے کا مقصد پاکستان کو سماجی و معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ ایک ان پڑھ انسان تو صرف جسمانی مزدوری ہی کر سکتا ہے مگر تعلیم یافتہ نوجوان مختلف اور جدید شعبہ جات  میں کام کر کے  اپنی اور اپنے ملک کی آمدن میں اضافہ کر سکتا ہے۔خصوصی افراد اور خواتین کے حقوق کے تحفظ پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے  قوانین بنائے گے ہیں۔ ان میں2020جیسے قوانین  شامل ہیں۔حالیہ دنوں میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات سامنے آئے ، بحیثیت ریاست ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنا ہمارا قومی فرض ہے۔ حکومت نے جنسی زیادتی کے کیسز سے نمٹنے کیلئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ  انتظامی سطح پر بھی خواتین کے تحفظ کیلئے کام کیے ہیں۔ ان اقدامات کے علاوہ  ، معاشرے کے تمام طبقات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خواتین کا احترام کریں  اور پبلک مقامات پر خواتین کا تحفظ یقینی بنائیں تاکہ وہ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے کچھ حصوں میں ابھی تک  خواتین کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت نے خواتین کے ملکیتی حقوق کے نفاذ  کا ایکٹ  ،  2020  پاس کیا۔  خواتین کو ان کے وراثتی حقوق دینے کیلئے  معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں  میں علمائے کرام اور میڈیا سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قرآن اور سنت کی روشنی میں  لوگوں میں خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کریں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ معزز اراکین پارلیمنٹ !آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کو عالمی حدت کی وجہ سے سیلاب و دیگر قدرتی آفات اور پانی کی کمی  جیسے خطرات لاحق ہیں ۔ ان خطرات سے نمٹنے کیلئے  عمران خان نے بروقت اور دوراندیش فیصلے کیے ۔اس کا آغاز خیبر پختونخوامیں  بلین ٹری سونامی “سے کیا  گیا تھا۔  یہ منصوبہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے نہیں شروع کیا گیا  بلکہ اس کا تعلق پاکستان کے مستقبل سے تھا  اور آنے والی نسلوں سے تھا۔  اب حکومت ٹین بلین ٹری سونامی اورکلین اینڈ گرین پاکستان جیسے پروگرام پر کام کررہی ہے جس کی افادیت کو عالمی سطح پر بہت سراہا گیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ  اور انتخابات میں شفافیت  یقینی بنانے کیلئے  انتخابی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔  اس سلسلے میں” ای وی ایم” ایک اہم آلہ ہے جس سے نہ صرف انتخابات میں شفافیت آئے گی  اور نتائج کی بروقت ترسیل ممکن ہوسکے گی  بلکہ ووٹر کی رازداری کا بھی  خیال رکھا جا سکے گا  ۔ اس سسٹم کو  “ہیک ” نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ نظام انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہے۔ اس میں کاغذ والا   بیلٹ پیپربھی ہے اور  ووٹوں کی گنتی کیلئے عام  ہے  جو کہ تقریبا  60 سال سےکی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں رہا۔  اس عمل کو سیاسی فٹ بال نہ سمجھا جائے  اور کھلے دل سے  اس کی نوک پلک دیکھی جائے اور ٹھیک کی جائے۔حکومت سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے  اور انہیں سیاسی عمل میں شریک کرنے کیلئے آئی ووٹنگ متعارف کرانے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ میں امید کرتا ہوں  کہ تمام سیاسی جماعتیں  اس سلسلے میں مکمل تعاون کریں گی  تاکہ سمندر پار پاکستانی ، جوہمارا اثاثہ ہیں اور پاکستان کو خطیر زرِمبادلہ بھیجتے ہیں ، اپنے سیاسی حقوق سے محروم نہ رہیں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اب میں کچھ خارجہ امور پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔آپ اس بات سے واقف ہیں کہ بھارت کئی دہائیوں سے نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے  اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں  اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں  پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے خود کو کشمیر کا سفیر کہا اور بڑے مثر انداز میں بھارت کا اصل چہرہ  دنیا کے  ہر فورم پر بے نقاب کیا۔  پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ  وہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے روابط قائم رکھے اور وزیر اعظم عمران خان نے منتخب ہوتے ہی  بھارت کے وزیر اعظم کو دعوت دی کہ اگر آپ امن کی جانب ایک قدم بڑھائیں گے تو پاکستان دو قدم آگے آئے گا۔ لیکن بدقسمتی سے  بھارت نے پاکستان کے ہر مثبت قدم کا منفی جواب دیا۔

آپ جانتے ہیں کہ فروری 2019 میں  بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا اور بھارت کا طیارہ مار گرایا ۔ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو  اس پارلیمان کی مشاورت سے جذبہ خیر سگالی کے تحت واپس کردیا ۔میں بھارت پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کشمیر میں ظلم کا بازار بند کرے  اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دے۔ میں کشمیر کے عوام کو بھی یہ پیغام دینا چاہتا ہوں  کہ پاکستان اپنے اصولی مقف پر قائم ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود  ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا ۔  میں کشمیر پر پاکستانی مقف کی حمایت کرنے پر چین  ، ترکی ، ایران  اور آذربائیجان سمیت  دیگر دوست ممالک کا بھی  شکر گزار ہوں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور آر ایس ایس کے شدت پسندانہ اور نسلی امتیاز پر مبنی  ہندوتوا کے فاشسٹ نظریے سے علاقائی سالمیت کو بہت بڑا خطرہ ہے ۔ میں اسکی مذمت کرتا ہوں  دنیا کو پہچاننا چاہیے کہ بھارت کئی سالوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے  اور تخریب کاروں کا سہولت کار ہے۔

بھارت میں جوہری مواد کی چوری    اور مارکیٹ میں خرید و فروخت کے واقعات سامنے آئے ہیں ۔  یہ بھارتی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہیں  ۔ جسکی وجہ سے عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے سنگین واقعات کو عالمی برادری اور میڈیا کی جانب سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اسلامی دنیا کو دیگر چیلنجز کے ساتھ ساتھ  اسلاموفوبیا اور اسلام دشمنی کا سامنا ہے۔  اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان ایک بہت بڑے چیمپیئن بنے اور انہوں نے عالمی برادری  بالخصوص مغربی ممالک کو یہ بات باور کرائی ہے کہ وہ اسلام دشمنی ، تعصب اور تنگ نظری پر مبنی پالیسیوں کو ترک کر کے  بین الاقوامی سطح پر امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کریں۔ہمارے برادر ملک افغانستان میں پچھلے دنوں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔عمران خان صاحب کا تقریبا 20 سال سے یہ مقف رہا کہ جنگ کی بجائے مذاکرات کی راہ اپنا کر مسائل کا حل تلاش کیا جائے ۔ طویل جنگ  اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود  افغانستان میں امن قائم نہ ہو سکا۔  پاکستان ہمیشہ سے  افغانستان میں قیام امن کا خواہشمند ہے  اور ہم نے اس کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے ۔

پاکستان یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت  افغانستان کی عوام کو متحد کرے ، فتح ِ مکہ پر حضورۖ کی تعلیمات کے مطابق  عام معافی کی پالیسی اپنائے اور خاص طور پر افغانستان کی سرزمین سے کسی پڑوسی ملک کو کوئی خطرہ نہ ہو  ۔ اس سلسلے میں طالبان رہنمائوں کے بیانات حوصلہ افزا ہیں ۔ اب دنیا کو چاہیے کہ وہ اس وقت افغان عوام کو بے یارو مدد گار نہ چھوڑے، ان کی مدد کرے ، ایک انسانی بحران نہ پیدا ہونے دے اور افغانستان کی تعمیر اور بحالی میں اپنا پورا کردار ادا کرے۔پاکستان اس وقت بھی  افغانستان میں  طبی اور انسانی امداد فراہم کر رہا ہے  اور پاکستانی   افغانستان سے عالمی برادری کے افراد کے انخلا میں پیش پیش رہا  اور اس پر پاکستان کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔دنیا کو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ افغانستان کے بارے میں عمران خاناور پاکستان کا مشورہ  ، درست ثابت ہوا ۔ اس موقع پر  دنیا کو پاکستان پر بلا جواز تنقید کی بجائے  عمران خان کے  سیاسی تدبر کو سراہنا چاہیے  اوردنیا کے دیگر معاملات پر  ان کی شاگردی اور مریدی اختیار کرنی چاہیے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ  پاکستان اپنی معاشی ترقی کیلئے جیو اکنامکس اور  علاقائی روابط کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم کے ساتھ ساتھ دیگر فورمز پر بھی علاقائی روابط کے فروغ کی کوششیں کی ہیں۔ پاکستان اس امر کا خواہاں ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے  خطے کی معیشتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جائے  اور علاقائی  اوربین الاقو امی تجارت کو فروغ حاصل ہو۔ افغانستان میں امن ، انشا اللہ ، سارے پڑوسی ممالک کیلئے بہت خوش آئند  ہوگا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اپنے دیرینہ دوست چین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے  اور ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔  چین نے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ لیکن کچھ ملک دشمن عناصر  بالخصوص ہندوستان  شروع سے ہی  پاک چین اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں ۔ میں بھارت پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں  کہ وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا  اور پاک چین دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جائے گی ۔  میں پاکستانی حکومت اور قوم کی جانب سے ترکی ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات  ،  ایران  اور دیگر دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ میں ماضی ، حال اور مستقبل کو  جوڑنا چاہتا ہوں ۔ یہاں میں ان پانچ  کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان کا مستقبل انتہائی روشن  دیکھ رہا ہوں۔ پہلا یہ کہ پاکستان نے بھارت کے نام نہاد پرامن ایٹمی دھماکوں کے جواب میں  ایک انتہائی مختصر عرصے میں دفاعی ایٹمی صلاحیت حاصل کی ۔  یہ صلاحیت ذہنی اور فکری استعداد کار کے باعث حاصل ہوئی  اور اس میں سرمایے سے زیادہ  ذہانت کی ضرورت تھی۔پاکستان  اس امتحان میں سرخرو ہوا  اور ایٹمی صلاحیت کا حصول پاکستانی قوم کی ذہنی  اور فکری صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

دوسراپاکستانی قوم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جیت بھی  ایک ہے اور پاکستان نے  اکیلے  دہشت گردی کا قلع قمع کیا۔  دو دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 150 ارب ڈالر  اور 80ہزار سے  زائد جانوں کا بھاری نقصان برداشت کیا  مگر اپنے عزم سے متزلزل نہ ہوئی  ۔ یہ پاکستانی قوم کی اولوالعزمی ، بہادری  اور عزم کا ثبوت ہے۔  مجھے پاکستان کے سیکورٹی اداروں  بشمول افواج پاکستان، پولیس ، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں  اور بالخصوص پاکستانی قوم پر فخر ہے کہ جن کی قربانیوں سے ہمیں  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ملی۔ تیسراپاکستان نیانسانی ہمدردی  اور اسلامی بھائی چارے کے تصور کے تحت  پچھلی چار دہائیوں سے 35 لاکھ کے قریب افغان پناہ گزینوں کو بھی پناہ دیے رکھی۔ اس کے مقابلے میں  مغربی ممالک ، جو ہمیں انسانیت اورکا درس دیتے نہیں تھکتے ، اپنے تعصب  اور مفاد پرستی کی وجہ سے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں حالانکہ کچھ مغربی ممالک ان پناہ گزینوں کے خطوں میں  مخدوش حالات کیذمہ دار بھی ہیں۔سپر پاورز کی عاقبت نااندیش پالیسیوں ، غیر ذمہ دارانہ اقدامات ، مفاد پرستی  اور تعصب کی وجہ سے دنیا بھر میں دہشت گردی  میں اضافہ ہوا۔ یہ پاکستانی قوم کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ آپ نے نہ صرف انسانی ہمدردی کے تحت لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کی  بلکہ دہشت گردی کو بھی شکست دی۔ چوتھاپاکستانیوں نے سیلاب ، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات میں بھی زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا اور جذبہ ایثار کا مظاہرہ کیا۔خدمت خلق،خیرات اور  کا یہ جذبہ  بہت انوکھا ہے اور انسان  کی بہت بڑی طاقت ہے۔ پانچواںپاکستانی قوم نے کورونا کے خلاف بھی بڑی کامیابی حاصل کی۔ پاکستانی قوم میں ایک بہت بڑی  ارتقائی تبدیلی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا شمار کورونا کے خلاف کامیاب اقدامات کرنے والے  ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ہو رہا ہے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں صورتحال  ابتر رہی مگر اللہ تعالی کے خصوصی انعام کی وجہ سے پاکستان  میں صورتحال قابو میں رہی۔ میں یہاں پر ان چار عناصر کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جن کی وجہ سے ہم نے بحیثیت قوم کورونا وبا کے دوران بہتر  کارکردگی کا مظاہرہ کیا  اور اللہ تعالی کے خصوصی فضل سے  بحیثیت ِ قوم  آزمائش کی اس گھڑی میں سرخرو ہوئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پہلا بڑا عنصر  جس کی وجہ سے ہمیں کورونا کے خلاف  کامیابی نصیب ہوئی  وہ  وزیرِ اعظم عمران خان کے دل میں غریب کیلئے ہمدردی کا احساس  تھا۔  اس احساس کی بدولت ہی وزیرِاعظم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بساط بچھائی  اور یہ فیصلہ کیا  کہ ہم مکمل لاک ڈان نہیں کریں گے۔  بہت سے  سیاستدان  ، میڈیا  ، ڈاکٹرز  اور ایکسپرٹس  نے ہم آواز ہو کر  کہا کہ اگر مکمل لاک ڈان نہ لگایا گیا  اور معیشت کو مکمل طور پر بند نہ کیا گیا  تو  یہ وبا اتنی پھیل جائے گی  کہ لوگ سڑکوں پر پڑے ہوں گے۔ اس کا عملی نمونہ آپ نے ہمسایہ ملک میں دیکھا  جہاں کورونا کی صورتحال بھیانک حد تک بے قابو ہوئی  اور آپ نے لوگوں کو آکسیجن کی ٹینکیوں کے ساتھ  بازاروں میں پڑے ہوئے دیکھااور  ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔  مودی حکومت کے غلط فیصلوں کا نقصان  بھارتی عوام  اور معیشت کو برداشت کرنا پڑا  اورلاکھوں افراد  لقمہ اجل بن گئے۔ بالکل انوکھا  مقف اپنانے پر وزیراعظم کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا  مگر وزیرِ اعظم غریبوں ،  ناداروں اور دیہاڑی دار مزدوروں کیلئے  “ہمدردی  اور احساس “کے جذبے سے سرشار اپنے مقف پر قائم رہے۔ افراد  صرف اعداد و شمار نہیں ہوتے  کہ جن کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں  بلکہ ہمیں اپنی فیصلہ سازی میں ہمدردی  اور انسانیت کے جذبوں کو بھی  مدِنظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

صدر  عارف علوی نے کہا کہ دوسرا عنصر کا قیام تھا۔  ہم نے ٹوٹل لاک ڈان کی بجائے  اسمارٹ لاک ڈان متعارف  کرائے  اور  ایک اور کے تحت  مخصوص  متاثرہ علاقوں کو بند کیا۔اسمارٹ لاک ڈان کالفظ  جو بعد میں دنیا میں مشہور ہوا ، اس کی شروعات پاکستان میں ہوئی  اور ہماری انسداد کورونا حکمت عملی کو  دنیا بھر میں سراہا گیا۔ غریب کا یہ احساس  صرف اسمارٹ لاک ڈان تک محدود نہیں تھا  بلکہ پاکستان میں احساس پروگرام کے تحت  غریبوں  اور معاشرے کے نادار طبقات کے معاشی تحفظ کیلئے  12 ہزار  روپے امداد کے طور پر بھی  دیے گئے  تاکہ کورونا کی عالمی آزمائش کے دوران غریب کا چولہا جلتا رہے۔1.5 کروڑ سے زائد خاندانوں میں  تقریبا 179 ارب روپے کی خطیر رقم تقسیم کی گئی ۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے  “احساس ایمرجنسی کیش ٹرانسفر منصوبے ” کو عالمی بینک نے دنیا کے چار بڑے سماجی تحفظ کے منصوبوں میں شامل کیا ۔ اس کے برعکس ،  غلط فیصلوں کا خمیازہ ہمارے پڑوسی ملک کو بھگتنا پڑا  ۔تیسرا عنصر جس کی وجہ سے ہم کورونا  جیسے عالمی امتحان میں سرخرو ہوئے وہ ہمارے میڈیا ، علما اور منبر و محراب کا مثبت کردار تھا۔یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ میڈیا نے مسلسل انسدادِ کورونا ایس او پیز اور اس وبا کی شدت اور سنگینی کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کی ۔ میں علما کا بھی تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اس مشکل وقت  میں احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے،  اسلام کی زریں روایت  اجتہاد کی بنیاد پر ، لوگوں کو تلقین کی وہ کورونا کے تدارک کیلئے  ایس او پیز پر عمل کریں۔

 یہ کتنی بڑی تبدیلی ہے کہ ہمارے علما نے بزرگوں کو گھر پر ہی نماز ادا کرنے اور مساجد میں لوگوں کو فاصلے سے نماز پڑھنے کی تلقین کی ۔ سنت یہی ہے کہ کندھے سے کندھا ملا کر نماز پڑھی جائیگی اور دنیائے اسلام میں فاصلے کے ساتھ کبھی نماز نہیں پڑھی گئی ،مگر ہم نے ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے نماز قائم کی  ۔ ساری دنیا میں مساجد بند ہوئی ،لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ کیا تم ساری دنیا سے زیادہ  پکے مسلمان ہو ، مگر ہم نے احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کھلی رکھیں اور اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو برقرار رکھا  ۔ اللہ سے معافی  اور مدد کیلئے دعا کرتے رہے  اور رمضان المبارک ، محرم  اور عیدین کے موقع پر بھی  علما کے تعاون سے ایوانِ صدر سے ضابطہ کار جاری ہوئے  اور پاکستانی قوم نے ایک مہذب قوم کا ثبوت دیتے ہوئے  اس پر عمل کیا۔چوتھا اور اہم ترین عنصر، جس کی وجہ سے پاکستان میں کورونا کی صورتحال قابو میں رہی ، وہ پاکستانی عوام کا مثالی نظم و ضبط تھا۔ یہاں میں اس بات کی وضاحت کرتا چلوں  کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سو فیصد افراد نے اس پر عمل کیا ، سو فیصد عمل کبھی ممکن نہیں ہوتا  ،

مگر عوام کی ایک کثیر تعداد نے اس پر عمل کیا ۔ حالانکہ کئی ممالک میں عوام نے پابندیوں  اور ماسک پہننے کے خلاف احتجاج بھی کیے ،مگر پاکستانی قوم اپنی قیادت کی رہنمائی پر عمل پیرا رہی ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ یہ بات ہمارے لیے باعث اعزاز ہے کہ حکومت کی مثر حکمت عملی کی وجہ سے “زندگی کے معمول پر لوٹنے کی درجہ بندی ” میں  پاکستان کو ہانگ کانگ  اور نیوزی لینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے بعد  تیسرے نمبر پر رکھا گیا۔ کورونا وبا کے دوران ہمارے طرزعمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے اندر ایک عظیم قوم بننے کی صرف صلاحیت ہی نہیں  بلکہ ایک عظیم قوم کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ تو ، ان چار عناصر ، یعنی کہ “مثر حکمت عملی”  ،  “احساس پر مبنی پالیسی ” ،  “عوام کے نظم و ضبط “اور “میڈیا اور علما کے مثبت کردار” ، کی بدولت  پاکستان میں کورونا کی صورتحال پر قابو پایا گیا  اور ہم زیادہ نقصان سے محفوظ رہے۔جن پانچ عناصرکا میں نے ذکر کیا ، ذہانت کے حوالے سے ،مہاجرین کے معاملے میں انسانی ہمدردی، دہشت گردی کا مقابلہ،  زلزلوں اور سیلاب میں جذبہ ایثار اور خیرات اور کورونا کا مقابلہ، انکی وجہ سے ہم نے کامیابیاں حاصل کیں ۔ پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے بھی انہی پانچ عناصر کے ساتھ ساتھ  دیانت دار لیڈرشپ بہت ضروری ہے۔ تین مزید امور ایسے ہیں کہ جن پر توجہ دے کر ہم پاکستان کا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں۔پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے  سب سے پہلے ہمیں فیک نیوز پر قابو پانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ معاشرے میں انتشار پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ فیک نیوز پھیلانا اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے اور اسلام ہمیں کوئی بھی خبر پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے کا حکم دیتا ہے۔
قرآن کریم میں سور الحجرات کی آیت نمبر 6 میں ارشاد باری تعالی ہے  :
یایہا الذِین امنوا اِن جآکم فاسِق بِنبا فتبینوا ان تصِیبوا قوما بِجہال فتصبِحوا علی ما فعلتم ندِمِین
ترجمہ : “اے ایمان والو ،  اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم جذبات سے مغلوب ہو کر کسی قوم پر جا چڑھو ،  پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔”
قرآن کریم کی یہ آیت نہ صرف اقوام کیلئے  بلکہ ہمارے میڈیا کیلئے بھی مشعل ِ راہ ہونی چاہیے کہ ہم بلا تصدیق و تحقیق کسی بھی خبر کو آگے نہ پھیلائیں۔ سوشل میڈیا اور بریکنگ نیوز کے  اس دور میں ہمیں اپنے اندر ٹھہرا پیدا کرنے کی ضرورت ہے  ۔ فیک نیوز اور پراپیگنڈہ  نہ صرف معاشرے میں غلط فہمیوں کا باعث بنتے ہیں  بلکہ اس سے عالمی امن کو بھی شدید خطرات ہیں  ۔ آپ سب اچھی طرح سے واقف ہیں کہ کیسے جھوٹی خبروں اور غیر تصدیق شدہ رپورٹس کی بنیاد پر مغربی میڈیا نے عراق پر حملے کی راہ ہموار کی۔ مغربی اقوام  کے حوالے سے فیک نیوز کی بنیاد پر مشرق وسطی پر چڑھ دوڑی  اور اس کا نتیجہ وہی نکلا جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ آج پورا مشرق وسطی  بالخصوص شام ، عراق اور لیبیا سلگ رہا ہے اور اس کے پیچھے فیک نیوز اور اسلاموفوبیا کا عنصر ہی کار فرما ہے۔ ہمارا دشمن بھارت  پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے ۔ حال ہی میں یورپین یونین کی “ڈس انفو لیب ” نے بھارتی فیک نیوز نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔ ان سب اقدامات کا مقصد پاکستانی عوام اور عالمی برادری کو پاکستان کے خلاف بدگمان کرنا تھا۔
مزید برآں  اس سے ملتی جلتی چیز غیبت ہے۔ قرآن کریم اس سلسلے میں بھی ہماری رہنمائی فرماتا ہے۔  سور الحجرات  ہی میں اللہ تعالی نے فرمایا:
یایہا الذِین امنوا اجتنِبوا کثِیرا مِن الظنِ  اِن بعض الظنِ اِثم و لا تجسسوا و لا یغتب بعضکم بعضا  ایحِب احدکم ان یاکل لحم اخِیہِ میتا فکرِہتموہ  و اتقوا اللہ  اِن اللہ تواب رحِیم
ترجمہ : “ایمان والو ،  بہت سے گمانوں سے بچو ،  اِس لیے کہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں۔ اور (دوسروں کی)ٹوہ میں نہ لگو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تمھارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے؟ سو اِسے تو گوارا نہیں کرتے ہو ،  (پھر غیبت کیوں گوارا ہو)! تم اللہ سے ڈرو۔ یقینا ،  اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے ،  اس کی شفقت ابدی ہے۔”
قرآن مجید کی یہ آیات ہمیں ہمیشہ مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ آیات نہ صرف ہمیں خارجہ پالیسی اور انفارمیشن پالیسی کے حوالے سے اہم ہدایات دیتی ہیں  بلکہ اپنے معاشرتی رویوں کو سدھارنے کا بھی درس دیتی ہیں۔ غیبت ایک بہت بڑا گناہ ہے  اور گمان کی بنیاد پر دوسروں کیخلاف خبر پھیلانا بھی غیبت ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ تو ،  اگر کوئی شخص اپنے بھائی کا گوشت کھانا پسند نہیں کرتا  تو  وہ گمان اور اندازوں کی بنیاد پر پھیلائی گئی خبر اور غیبت کو کیسے برداشت کر سکتا ہے؟صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ تیسرے نمبر پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ قوم کی تعمیرمیں تعلیم کے ساتھ تربیت کی بھی ضرورت ہے اور اس میں چار کلیدی اداروں یعنی کہ گھر ،  اسکول ، میڈیا  اور منبر و محراب کا اہم کردار ہے۔ حال ہی میں  میری درخواست پر ، اسلامی نظریاتی کونسل نے پاکستان کے سماجی مسائل سے نمٹنے اور لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے خطبات  پر  مبنی ایک کتابچہ تیار کرنا شروع کیا ہے۔  اس کتابچے کا مقصد مساجد کے پیش اماموں کو ان 100 موضوعات پر مشتمل ایک تحقیقی مقالہ فراہم کرنا ہے کہ جن میں سے وہ مختلف سماجی موضوعات پر خطبہ دینے کا انتخاب کر سکتے ہیں ۔ یہ مکمل طور پر اختیاری ہے  اور حکومت اس سلسلے میں احکامات جاری نہیں کرے گی۔ میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح مسجد نبوی سے  ایک عالمی سماجی انقلاب کی شروعات ہوئی تھیں ، اس کا سلسلہ پاکستان میں بھی جاری رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آخر میں میں پوری قوم  بالخصوص سیاسی قیادت ، علما  ، میڈیا  اور نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم سب مل کر ملک کو درپیش سماجی ، معاشی  اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے یک جان ہو کر کام کریں گے ۔میں نے اپنی تقریر میں پاکستان کی پانچ صلاحیتوں اور کا ذکر کیا جو آپ حاصل کر چکے ہیںذہانت جو آپ نے حاصل کرکے دکھائی بہادری آ ہمدردی کا جذبہ خیرات کا جذبہ ور تین چیزوں کو ذکر کیا جن پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے یعنی فیک نیوز ، غیبت  اور تربیت ، اور جب یہ مکمل ہو جائیں گی اور اس میں آپ دیانت دار قیادت کی چاشنی جب ڈالیں گے ، جو موجود ہے ، تو میرا دل ، میرا دماغ میرا جسم ، میرا رواں رواں اور میرا ایمان یہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہم دیکھیں گے ایک چمکتا دمکتا، ابھرتا ہوا مسکراتا ہوا نیا پاکستان