بخشش۔۔اکیسویں صدی کی کہانیاں۔۔۔۔۔اکرم سہیل


جونہی الیکشن کا اعلان ہوا تھا تمام امیدوار اسمبلی لوگوں کی خوشی غمی میں جوق در جوق حاضری دینے لگے۔کسی کی موت پر جنازے میں شامل ہونا تو لازمی ٹھہرا۔

بلکہ ایک امیدوار اسمبلی تو میٹرنٹی ہوم سے پیدا ہونے والے بچوں کی تفصیل بھی لیتا اور گھروں میں جا کر مبارک باد کی مٹھائی بھی پیش کرتا ۔لیکن جونہی الیکشن ختم ہوئے لوگ ان کی راہ ہی دیکھتے رہ گئے اور پھر کوئی نہ آ یا۔

آج ایک جنازے پر ایک شخص دوسرے سے پوچھ رہا تھا۔ ’’ ممبر اسمبلی یا سابقہ امیدواروں میں سےآج اس جنازے پر کوئی نہیں آیا،کیا متوفی کی بخشش ہو جائے گی؟؟