عزم واستقامت کاپہاڑپیرحسام الدین شہید : ایڈوکیٹ ناصر قادری مقبوضہ کشمیر


دورحاضرمیں انسانی حقوق محض ایک نعرہ بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی ان پامالیوں کا اصل سبب انسان کا وہ حیوانی جذبہ ہے جو اسے دوسروں پر ناحق حکم چلانے کے لیے اکساتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ انسانوں کے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہیں؟ بقول سید مودودی: ” قانون فطرت نے ایک حیوان کو دوسرے حیوان کے لیے اگر غذا بنایا ہے تو وہ صرف خدا کی بتائی ہوئی حد تک ہی اس پر دست درازی کرتا ہے۔”
کوئی درندہ ایسا نہیں ہے جو غذائی ضروریات کے بغیر بلاوجہ جانوروں کو ہلاک کرتا ہو ۔یہ انسان ہی ہے جس نے اللہ تعالی کی ہدایت سے منہ موڑ کر اسکی دی ہوئی قوتوں سے اپنے ہی جیسے انسان پر ظلم ڈھانا شروع کر دیا۔ انسان کے اس کرہ ارض پر آنے سے آج تک تمام حیوانات نے اتنے انسانوں کی جانیں نہیں لیں جتنی انسان نے صرف دوسری جنگ عظیم میں انسانوں کی جانیں لیں ۔ اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ انسان کو دوسرے انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی پروا نہیں ہے۔ خالق کائنات نے ہی اس سلسلے میں انسان کی رہبری کی اور پیغمبروں کی وساطت سے انسانی حقوق کی واقفیت بہم پہنچائی ۔
انسان اجتماعی شعور رکھنے والی مخلوق ہے اور اجتما عیت کا پہلا کام حقوق و فرائض کا تعین اور اسکے مطابق عمل ہے ۔جس کے بغیر کوئی اجتماعیت خواہ وہ سادہ ہو یا ریاست کی صورت میں قطعا منظم نہیں رہ سکتی۔ اسی حق کے زمرے میں ہماری سرزمین بدنصیب جموں وکشمیر میں 1947 سے آج تک لاکھوں مسلمانوں کی عزیز جانوں کا نذرانہ پیش کرچکی ہے ۔ جن میں میر ے پیشے سے تعلق رکھنے والے وہ عظیم وکلا بھی شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے علم و ہنر سے بلکہ اپنے گرم خون سے تحریک آزادی کے باغ کو سجایا ہے۔ انہی ہستیوں میں پیر حسام الدین کا نام سر فہرست ہے ۔آپ سے میری رفاقت اگرچہ میری کم سنی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی لیکن میرے وکالت کے پیشے کے ساتھ منسلک ہونے سے آپ کی مرنجاں مرج شخصیت میری آنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہونے لگی ،کبھی اپنے استاد ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم صاحب کی زبانی آپ کے بارے میں نہ تھمنے والے اوصاف کا تذکرہ اور کبھی اپنے ساتھی پیر صاحب کے فرزند ایڈوکیٹ انور الاسلام کے ذریعے آپ کی جدوجہد پر مبنی زندگی کے اوراق پڑھنے کا موقع ملا۔ مزید برآں مختلف کتب ،رسائل و جرائد میں آپ کی تحریکی وابستگی سے متعلق مختلف سرگرمیوں کو پڑھ کر راقم الحروف کو تحریک ملی کہ اپنے پیشے سے منسلک ایک عظیم دانشور کے بارے میں چند حروف قلمبند کرسکوں ۔پیر حسام الدین شہید ایک ہمہ جہت شخصیت تھے ۔جب کبھی ہم ایسی شخصیات کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اپنے افکار، اپنے تجربات اور اپنی سرگرمیوں سے کشمیر کی تحریک کو فائدہ پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو تو ہم سید حسام الدین کی شخصیت کو نہیں بھول سکتے ۔قصبہ سو پور کے شمالی حصے میں ایک بستی ادی پورہ کے نام سے جانی جاتی ہے ۔اس بستی میں مرحوم پیر مصطفی احمد کے گھر پیر حسام الدین پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کرنے کے بعد 1969 میں علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں داخلہ لیا ۔

حسام صاحب پہلے سے ہی تحریک اسلامی سے وابستہ تھے ، اس لیے انہوں نے وہاں پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر تقی اللہ کی صحبت میں اپنا وقت گزارا تھا ۔وہ جماعت اسلامی ہند کی سرگرمیوں میں بڑی دلجمعی اور توجہ کے ساتھ حصہ لیتے رہے ۔1971میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ واپس آ گئے اور سوپور میں قانون کے پریکٹس کا آغاز کیا ۔حکومت کی طرف سے آزاد رائے شماری پر پابندی لگانے کی وجہ سے جماعت اسلامی نے 1971کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ شورائی پالیسی کے ساتھ ذاتی وابستگی کی بنا پر وہ مرکزی جماعت کے چیف الیکشن ایجنٹ کی حیثیت سے بارہ مولہ انتخابات کے لیے نامزد کیے گئے ۔1971 کی ہنگامہ آرائیوں کے بعدانھوں نے کچھ عرصہ تک پھر وکالت کی ذمہ داریاں نبھائیں مگراللہ تعالی نے ان کو محض معاش کے ساتھ چمٹے رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا تھا بلکہ اللہ کے احکام کی پابندی و پاسداری کا مجسمہ بنا کر تحریک کے اس کاروبار کو چلانے کا حوصلہ بھی بخشا تھا، جس کے باعث وہ کبھی کسی شخصیت سے مرعوب نہ ہوتے ہوئے راہ حق کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے ۔
ایک روز سید حسام صاحب ایک وفد کے ساتھ شیخ محمد عبداللہ سے ملنے ان کے گھر گئے تو حسام صاحب نے ان سے کہا کہ آپ نے1965 میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد کشمیریوں کے ہمدرد نہ ہونے کا برملا ثبوت پیش کیا ۔حالانکہ واڈ ورہ کالج میں ایگر کلچر یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ بدل کرآپ نے وزیر مال محمد افضل بیگ کے وعد ے کوبھی ایفا نہیں کیا ۔ شیخ محمد عبداللہ نے کشمیر میں زراعت اور باغبانی پیشہ سے وابستہ لوگوں سے ہمدردی کے بجائے اپنے عزیز و اقارب اور قریبی بیوروکریٹس کا زیادہ خیال رکھا جس کے نتیجہ میں انہوں نے وہاں واڈورہ کے بجائے شالیمار سرینگر میں ایگریکلچر یونیورسٹی کا صدر دفتر بنایا ۔
سید حسام صاحب کے حوصلے اور ہمت کی اگر بات کی جائے توان کی پوری زندگی ہمیشہ حق کے راستے پر چلنے سے عبارت ہے۔1975 میں جب شیخ صاحب کی فرمائش پر حکومت ہندوستان نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی تو سید حسام الدین فرد واحد تھے جنہوں نے پابندی کے دوران میں امیر جماعت مرحوم سعد الدین کے ساتھ مل کر جماعت کے پورے حلقہ اثر میں ذاتی روابط پیدا کر کے ہمت وحوصلے کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھیں ۔اگرچہ حکومت نے ان کے ان حوصلوں کو مختلف طریقوں سے دبانے کی کوششیں بھی کی تھیں لیکن وہ ان تمام مصائب کو ایک مجاہد کی طرح جھیلتے رہے۔کشمیر ایڈ منسٹریٹو سروس کو بھی انھوں نے تحریک آزادی کی خاطر خیر باد کہا۔ یہی نہیں 80 کی دہائی میں سعودی عرب اور انگلستان پہنچے تھے ۔جہاں پر انہوں نےWAMAY اور اسلامک فانڈیشن میں کام کیا ۔وہ کشمیر کاز کو ہر فورم میں اجاگر کرتے رہے ، یہاں تک کہ ایک بار جب وہ حج بیت اللہ کی غرض سے آئے تھے تو بھارتی قونصل خانے نے ان کا پاسپورٹ ضبط کیااور ان کو کشمیر جانے پر مجبور کیا۔کشمیر آتے ہی پیر حسام صاحب نے جو کام سرانجام دیے، اگر بھارتی انٹیلیجنس کو پہلے معلوم ہوتا تو وہ شاید پیر حسام الدین کو جبرا روانہ نہ کرتے ۔1987 میں انہوں نے سید علی گیلانی صاحب کے چیف الیکشن ایجنٹ کی حیثیت سے حصہ بھی لیا۔
جب 1989 میں تحریک آزادی کشمیر نے عسکریت کا روپ دھار ا تو انہوں نے صف اول میں ہر سطح پر اپنا کلیدی کردار نبھایااور اس جستجو میں بھی برابر لگے ر ہے ۔ ایک سیاسی فورم کا قیام اور دوام بھی ضروری ہے ۔شہید کی ان خدمات کی وجہ سے سید علی گیلانی صاحب ،غلام نبی نوشہری اور ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے سیاسی قیادت کو ایک ہی سٹیج پر یکجا کرنے کے لیے بہت محنت کی۔جس کے نتیجے میں 1990 میں تحریک حریت کشمیر نامی گیارہ سیاسی اور دینی تنظیموں پر مشتمل ایک سیاسی پلیٹ فارم وجود میں آیا اور اس کے کچھ مہینے بعد ہی انہیں دہلی سے گرفتار کر کے
کویمبٹور جیل پہنچادیے گئے۔انہوں نے اپنی نظر بندی کو چیلنج کرتے ہوئے ایک عرضداشت ریاستی عدالت عالیہ میں بجھوادی۔کسی بھی وکیل کی پیروی کے بغیر ہی عدالت نے وہ عرضداشت منظور کی اور حسام صاحب کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے۔1993 میں انہیں دوبارہ حق کی آواز اٹھانے پر گرفتار کیا گیا اوران پر انٹروگیشن کا سلسلہ جاری رکھاگیا۔جس کے نتیجے میں ان کا ایک بازو ٹوٹ گیا۔رہائی پاتے ہی پیر حسام صاحب نے بی ایس ایف کے خلاف ہرجانے کا ایک مقدمہ دائر کیا۔ جس کے بدلے میں ان کے مکان پر جبرا قبضہ جمایا گیا اور ایک افسر نے تلخ لہجہ میں حسام صاحب کو دبے الفاظ میں دھمکی دی کیا کہ آپ جیسے افراد کے لیے ہمارے پاس صرف دو ہی آپشن ہوتے ہیں یا تو ہمارے ایجنٹ اور مخبر بن کر کام کریں ، یا موت کے لیے تیار ہو جائیں ۔اس افسر نے مزید کہا کہ آپ کے لیے میرے پاس تیسرا آپشن بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ 24 گھنٹوں کے اندر سوپور چھوڑ دیں ۔اس سامراجیت کی وجہ سے حسام صاحب نے مجبورا سرینگر ہجرت کرلی اور وہ کبھی بلبل باغ ،تو کبھی ابمعہ میں سر چھپانے کے لیے پریشان حال رہے۔
شہید حسام نے آزادی کی جدوجہد میں اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔ سرینگر ہجرت کرنے کے بعد وہ کئی بار ایسوسی ایشن سے وابستہ ہوئے اور اپنے مشن کو جاری رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی ۔وہ کشمیر کو خود مختار ملک ،جس میں شرعی نظام نافذ ہو دیکھنا چاہتے تھے۔لیکن باطل قوتوں نے 15 ستمبر 2004 صبح دس بجے انکے دروازے پر دستک دی اوراپنی رائے کا اظہار کچھ ایسے کیا کہ ” ہمارا ایک کیس ہے اور اس سلسلے میں آپ سے مشورہ لینا ہے” کے بہانے گھر میں داخل ہوکر حسام صاحب کے سر میں پستول سے گولیاں داغ کر شہید کردیا۔اس طرح تحریک حریت کشمیر کا یہ روشن ستارہ ہماری ظاہری آنکھوں سے تو اوجھل ہوگیا لیکن اپنے پیچھے ہمت واستقلال اور جوانمردی کی نہ بجھنے والی وہ مشعل روشن کر گیا جس کی روشنی میں آج پوری وادی اپنے سفر آزادی میں رواں دواں ہے ۔

(ناصر قادری مقبو ضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے وکیل رہے چکے ہے اور اج کل انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں بین الاقوامی قانون میں پی ایچ ڈی کر رہے۔ اس کے علاہ ایک انٹرنیشنل ایڈوکیسی گروپ لیگل فورم فار کشمیر کے سربراہ بھی ہیں)