افتادگانِ خاک کی بے چادری اور ظواہر کی پردہ داری۔۔۔وجاہت مسعود


واقعات کے بہاؤ نے اچانک تھپیڑوں کی سی تندی اختیار کر لی ہے۔ جن معاملات کو سیاسی جوڑ توڑ اور ذرائع ابلاغ پر نادیدہ اختیار کی مدد سے پوشیدہ رکھا گیا تھا، وہ اب تاریخ کے ناگزیر سفر میں جگہ جگہ سے سر نکال رہے ہیں۔ کچھ حالیہ واقعات پر، بغیر کسی موضوعی تبصرے کے، ایک نظر ڈال لیجئے۔ 14 جولائی کو بالائی کوہستان کے علاقے داسو میں چینی انجینئروں کو زیر تعمیر ڈیم پر لے جانے والی بس اچانک گہری کھائی میں گرنے سے نو چینی باشندوں سمیت 13افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس منصوبے کی حساسیت نیز دونوں ممالک کے تزویراتی تعلق کے پیش نظر نپے تلے ریاستی ردِعمل کی توقع بوجوہ پوری نہیں ہو سکی۔ نتیجہ یہ کہ حادثے اور تخریبی کارروائی کے متضاد دعوئوں سے دوست ملک چین کیساتھ تعلقات میں مفروضہ سردمہری نے زیادہ واضح شکل اختیار کر لی۔ ادھر افغانستان کے ضمن میں دو اہم واقعات رونما ہوئے۔ 16جولائی کو اسلام آباد میں افغان سفیر کی صاحبزادی کو مبینہ طور پر اغوا کر کے کئی گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ معمول کی سفارتی نزاکتوں سے قطع نظر پاک افغان تعلقات کی موجودہ پیچیدہ نوعیت کا تقاضا تھا کہ اس واقعے پر سنجیدہ ترین حکومتی ردعمل سامنے آتا اور ایک حد تک ایسا کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن وزیر داخلہ شیخ رشید کی طرفہ طبیعت کا کوئی علاج نہیں۔ انہوں نے اغوا کے واقعے کی سرے سے تردید کر کے پانی گدلا کر دیا۔ افغان سفیر اور دیگر سفارتی عملہ واپس کابل بلا لیا گیا ہے۔ کابل میں قائم جائز اور سفارتی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے بگاڑ کا یہ کون سا ہنگام تھا۔ افغانستان میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اس تنازع کے ایک اہم ترین فریق امریکا کا گزشتہ دو برس سے پاکستان میں کوئی سفیر نہیں۔ کیا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آئی ایم ایف سے لے کر فیٹف تک امریکی اثر و رسوخ سے انکار ممکن نہیں۔ ان دوران افغان سرحد کے جنوبی علاقے سپن بولدک میں جنگجو گروہوں اور افغان حکومت میں لڑائی کے دوران افغان نائب صدر امراللہ صالح نے کچھ الزامات عائد کیے ہیں۔ بعید از قیاس نہیں کہ لڑکھڑاتی ہوئی کابل حکومت نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے دائو پیچ استعمال کیے ہوں تاہم ہماری تشویش یہ ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر ہماری قومی ساکھ مخدوش ہے۔ یورپین پارلیمنٹ کی قرارداد سے لے کر صحافیوں کی عالمی تنظیم کی طرف سے پاکستان میں آزادی اظہار پر منفی تاثرات کے تناظر میں یہ معمولی بات نہیں کہ برطانیہ میں گوہر خان نامی ایک پاکستانی نژاد شخص گرفتار کیا گیا ہے اور اس پر ہالینڈ میں مقیم ایک حکومت مخالف بلاگر کے قتل کی سازش کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ گزشتہ برس کینیڈا میں کریمہ بلوچ اور سویڈن میں ساجد حسین نامی حکومت مخالف کارکنوں کی پراسرار حالات میں اموات شواہد کی عدم موجودگی میں حادثاتی قرار پائی تھیں لیکن اگر گوہر خان کی گرفتاری سے واقعات کی کڑیاں ملنا شروع ہو گئیں تو یہ پاکستان کیلئے اچھا شگون نہیں ہو گا۔ مشرق اور مغرب میں جہاں تک نظر جاتی ہے، ہمیں مغائرت کا سامنا ہے۔

یہ تو رہے خارجہ امور، اب ایک نظر داخلی سیاست پر ڈال لیجئے۔ 25جولائی کو آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستانی سیاست پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ سیاست اور صحافت کے شناور بتایا کرتے ہیں کہ انتخابی مہم اور انتخابی نتائج میں مطابقت ضروری نہیں ہوتی لیکن وفاقی وزرا مراد سعید اور علی امین گنڈاپور نے انتخابی مہم کو جو رنگ دیا ہے، اس کے نتیجے میں حکومتی ارادوں کی شفافیت پر حرف آیا ہے۔ حزب اختلاف کے جلسے تو روایتی طور پر جارحیت سے عبارت ہوتے ہیں، یہاں حکومت ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے۔ خارجہ محاذ اور معاشی میدان میں حکومت کی ناقابل دفاع کارکردگی سے قطع نظر ایک بنیادی مسئلہ وزیراعظم کی اس سوچ سے تعلق رکھتا ہے جس میں وہ خود کو ایک منتخب رہنما اور دستوری وزیر اعظم کی بجائے الوہیت کے ہالے میں بیٹھی کوئی فوق الفطرت مخلوق سمجھتے ہیں۔ 24 جولائی کو پنجاب اور پختون خوا سے الیکشن کمیشن کے ارکان ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اکتوبر میں نیب کے سربراہ جاوید اقبال سبکدوش ہو جائیں گے۔ ان آئینی عہدوں پر تقرریوں کے لئے وزیراعظم کو قائد حزب اختلاف سے ’بامعنی مشاورت‘ کرنا ہو گی۔ مشکل یہ ہے کہ ایک ’دیانتدار وزیراعظم‘ چوروں کی منڈلی کے ’سرغنہ‘ سے کیسے بات کرے گا؟ دستور کی حاکمیت کو نظر انداز کرنے سے بنیادی نقصان یہی ہوتا ہے کہ سیاست عوام کے حقیقی مسائل سے لاتعلق ہو جاتی ہے، اصولی مباحث شخصی کردار کشی کی سطح پر اتر آتے ہیں اور معمول کا ریاستی بندوبست محلاتی سازشوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ کوئی قوم بنیادی طور پر نا اہل یا بددیانت نہیں ہوتی لیکن اہلیت اور دیانت کے امکان کو اجتماعی تعمیر کی شکل دینے کیلئے شخصی خوبیوں کے جزیروں میں باہم اعتماد کے پل باندھنا ہوتے ہیں۔ ہماری زمین پر بے تحاشا آبادی، غربت، ناخواندگی اور بیروز گاری کا سیل بلا حملہ آور ہے اور ہماری بے بصری کا ظلم دیکھیے کہ اس ملک کی نصف آبادی کو اپنے ہی گھروں میں تشدد سے محفوظ رکھنے کے ایک معمولی مسودہ قانون کو ’’بے راہ روی‘‘ کا نسخہ قرار دیتے ہیں۔ ظواہر کی چادر میں لپٹے مومی پتلوں کو شرم محسوس نہیں ہوتی کہ 8 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ دو کروڑ بیس لاکھ پاکستانی اپنے گھروں میں بیت الخلا سے محروم ہیں، اسکول جانے کی عمر کے 2 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو اسکول میسر نہیں۔ ہمارے ہاں ایک ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے 56 شیرخوارگی میں مر جاتے ہیں، افغانستان میں یہ شرح 45ہے۔ افتادگان خاک کے معیار زندگی سے ایسی بے اعتنائی اور پھر ان سے اپنی پارسائی کا تاوان مانگا جاتا ہے۔ آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی۔

جن کا دیں پیروی کذب و ریا ہے ان کو

ہمت کفر ملے، جرات تحقیق ملے

بشکریہ روزنامہ جنگ