امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے:امام کعبہ


مکہ مکرمہ :امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ  عداوت اور نفرت کو ختم کرنا چاہیے ،اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،وبا کی صورت میں وہاں کے رہنے والے اس علاقے سے باہر نہ نکلیں، نبی کریم ۖ نے فرمایا جب کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں نہ جاو، وہاں کے لوگ باہر نہ نکلیں، مسلمان مصائب اور آزمائشوں پر صبر کریں۔

رسول ۖنے فرمایا، تم زمین والوں پر رحم کرو، اللہ تم پر رحم فرمائے گا، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے،  اللہ کی رحمت سے وہی مایوس ہوتا ہے جو گمراہ ہو چکا ہو، مکہ مکرمہ میں سال 1442 ہجری کے حج کا خطبہ میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں دیا گیا ، اس موقع پرمسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ  نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اورپرہیزگاری اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ عاقبت مومین کے لئے ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ کسی پر کا احسان ضائع نہیں کرتا، کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا، اور بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم احسان کرو۔

الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ  کا کہنا تھا کہ نبی ۖ نے ارشاد  فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر ایسا سمجھ لو کہ وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں احسان سے متعلق فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اطاعات اختیار کروا ور اللہ رب العزت کی اطاعت میں اپنی گردن رکھو، ایسے لوگوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور ہ قیامت کے نہ پریشان ہوں گے اور نہ انہیں کسی چیز کا خوف ہو گا۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیئے ، اللہ کی عبادت کریں، اللہ ہی سے مدد طلب کریں ،

اللہ سے دعا مانگیں اور اللہ کے سوا کسی سے کچھ نہ مانگیں۔ مساجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں اور ان  میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام میں ارشاہ فرمایا کہ پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھیئے اور اسی کے لئے قربانی کیجئے۔ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ ایک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ ۖ، اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کی عبادت کریں اور اللہ نے جو کچھ اپنے بنی ۖ پر نازل فرمایا ہے اس کی اطاعت کریں۔ آج یوم عرفہ کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ آج کے دین تمہارا مکمل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت مکمل کردی اور تمہارے لئے دین اسلام  کے لئے راضی ہو گیا۔

اپنی نمازوں کی حفاظت کرو اور بالخصوص نماز عصر کی حفاظت کرو اور اللہ کی بارگاہ میں انتہائی عاجزی کے ساتھ حاضر رہو۔ الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ  کا کہنا تھاکہ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اور ہر چیز پر سبقت لے جانے والی ہے۔  ماہ رمضان کے روزے فرض کئے گئے ہیں، تم میں سے جوکوئی ماہ رمضان کو پائے اسے چاہیئے کہ ماہ رمضان کے روزے رکھے۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جس کی استطاعت ہو اسے چاہیئے کہ وہ حج ادا کرے۔ اللہ پر ایمان لائیں، اللہ کے فرشتون پر ایمان لائیں ، اللہ کی کتابوں پر ایمان لائیں  اور اللہ کی تقدید پر ایمان لائیں اور ہر اچھی بری تقدیر کو قبول کریں۔

اللہ رب العزت کی عبادت بجالائیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اللہ ہی سے مدد مانگیں ، غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان میں جو بھی کچھ ہے وہ تمارہے لئے مسخر کردیا ہے جسے تم آسانی سے حکم الہیٰ کے زریعہ تسخیر کرسکتے ہو، اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے اور چیزوں کو سمجھنا اور چیزوں تک پہنچنا آسان کردیا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمھیں دل دیا ہے اور آنکھیں دی ہیں، عقل دی ہے کہ ان ذرائع کے زریعہ تم اس کائنات کو مسخرکرسکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمھیں میں سے ایک رسول کو بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس حوالہ سے یوں ارشاد فرمایا کہ تحقیق اہل ایمان پر اور مومنین پر ہم نے احسان فرمایا اور ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا کہ جو انہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور حکمت کی باتیں سکھا تا ہے حالانکہ اس سے قبل وہ گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ  کا کہنا تھا کہ اللہ کے احکامات میں سے ایک حکم یہ بھی تو ہے کہ لوگوں کے ساتھ احسان کرو، لوگوں کے ساتھ مروت کرو،لوگوں کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آئو اور آپ میں مساوات اور ہمدردی کے تعلقات قائم کرو اور لوگوں میں جو سب سے زیادہ مستحق احسان ہے وہ والدین ہیں چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام میں ارشاد فرمایا کہ اور اللہ کی عبادت کرو اور اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرو اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ احسان کرو خواہ وہ پڑوسی تمہارے قریب کے ہوں یا دور کے ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ  کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے یہ بھی ہے کہ اپنے درمیان، یتمیوں ، مسکینوں اور کمزوروں کے ساتھ احسان کرو۔ اسی طریقہ سے اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے یہ بھی حکم  دیا گیا کہ اپنے وعدے کو پورا کرو، جو وعدہ کروپورا کرو، کہا گیا اے ایمان والو!اپنے عہد اور اپنے وعدے اللہ کی رضا کے لئے پورے کرو۔ احسان کے حوالہ سے قرآن مجید میں اور احادیث میں بار بار تاکید آئی ہے اور فرمایا کہ تم اپنے باہمی امور میں احسان زیادہ اختیار کرو،کہ  معاشرے کے اندر اور معاشرتی معاملات میں احسان کو قائم و دائم رکھو۔ چنانچہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد  فرمایا کہ ہر نیکی کا اجر ہے لہذا تم جب جانور کو ذہح کرو تو بڑے اچھے طریقہ سے ذبح کرو کہ اسے تکلیف کم سے کم پہنچے۔ احسان ایک ایسی چیز ہے کہ جب انسان ، انسان کے ساتھ احسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس احسان کرنے کی برکت سے لوگوں کو آفات سے محفوظ فرماتا ہے اور جب تم احسان کرتے ہو تواللہ تعالیٰ تمہارے اوپر بھلائی نازل فرماتا ہے ، تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور تمہاری خطائوں سے درگزرکرتا ہے لہذا چاہیئے کہ تم احسان کو اپنائے رکھو۔

ایک دوسرے کے درمیان اور آپس میں عداوت اور ایک دوسرے کے ساتھ مخاصمت اور نفرت کو ختم کرنا چاہیئے کہ جب آپس میں عداوت پائی جائے تو اس سے معاشرے کی بنیادیں ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔ جس کسی نے بھی اللہ کی رضا کے لئے کسی کوقرض حسنہ دیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اسے آخرت میں دکنا کر کے عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ اچھے انداز سے پیش آئو، بہترین انداز سے کلام کرو، نرم انداز سے گفتگو کرو اور ایک دوسرے کے ساتھ احسان کرو بے شک شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ اسی طریقہ سے احسان دعوت کا بھی زریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشادفرمایا کہ جب تم کسی کو اسلام کی طرف دعوت دو اور بلائو تو اسے اچھے اور احسن انداز سے بلائو اور عمدہ انداز سے  گفتگو کرو اور عمدہ نصیحت پیش کرو جس سے اس دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو اور وہ اسلام کے قریب تر آجائے۔

الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ  کا کہنا تھا کہ اور لوگوں کے ساتھ احسان یہ ہے کہ تم لوگوں کی طرف سے آنے والے مصائب اور تکالیف کے اوپر صبر کرو ، اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا صبر کرو جیسے آپ سے پہلے اوللعزم رسولوں نے صبر کیا ہے، مصائب و الام پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں  نبی کریم، سید عالم ، خاتم النیبن ۖ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب آپ بھی ان کی دی ہوئی تکالیف یا مصائب کے اوپر صبر کیجئے۔پھر  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے موت اور زندگی کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ تمھیں جانچا جائے اور آزمایا جائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتاہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ زمین کی زینت اور خوبصورتی یہی ہے کہ لوگوں کی طرف سے دی گئی تکلیف پر صبر کے ساتھ پیش آئیں،

اچھے انداز سے بات کریں ، حقیقت یہ ہے کہ   جب اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آزمائش آتی ہے تو اس آزمائش پر صبر کرنا زمین کی خوبصورتی ہے۔ الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ  کا کہنا تھا کہ اور اللہ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا کہ تم احسان کرو ، اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ اور اپنے پاک کلام میں فرمایا کہ ایمان والوں کو بشارت دو کہ اللہ کی رحمت بہت قریب ہے اور جنہوں نے احسان کیا قیامت کے دن ان کو اور زیادہ عطا فرمائے گا، یہی احسان کرنے والے لوگ حقیقی معنوں میں جنت والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو دنیا میں احسان کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اخرت میں بہت بھلا فرمائے گا اورا ن کے لئے بہترین جگہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم میں سے  جو بھی احسان کرے گا خواہ وہ  مرد ہو یا عورت ہو تو اللہ تبارک وتعالیٰ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق اجر عطا فرمائے گا۔نبی کریمۖ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی پر احسان کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے 10نیکیاں عطا فرماتا ہے اور جب کوئی احسان فرماتا ہے، بھلائی کرتا ہے ، مروت کرتا ہے ، دوسروں کا احساس کرتا ہے، خیال کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسے جنت کے دروزے تک پہنچا دیتا ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک نیکیاں بدیوں کو کھا جاتی ہیں ۔ اسی طریقہ سے شریعت کے اندر بھی احسان ہے اور شریعت میں احسان سے مراد یہ ہے کہ ہم شرعی معاملات کے اندر بھی لوگوں کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آئیں۔

شریعت میں احسان یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آیا جائے جس طرح موسم حج کے اندر حجاج کرام میدان عرفات میں تشریف لائے ہیں ان کے ساتھ احسان بھی کیا جائے کہ ان کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں ، انہیں آسانیاں فراہم کی جائیں  ۔ نبی اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سنو کہ کسی جگہ زمین پر طاعون پھیل گیا ہے تو اس علاقہ کی طرف نہ جائو اور جو اس علاقہ کے رہنے والے ہیں وہ اس طاعون والی جگہ سے باہر نہ نکلیں ۔اللہ کے گھر کی زیارت کرنے کے لئے آنے والے حجاج کرام آپ اپنے مناسک حج بہترین طریقہ سے ادا کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ اپنا حج اور عمرہ ادا کرو  اور اب آپ دعا کریں تو کریں گے تو اپنے لئے بھی دعا کریں اور اپنے ممالک کے لیے بھی دعاکریں ، اپنے ، اپنے ملکوں کے لئے دعاکریں ، اپنے، اپنے شہروں کے لئے دعا کریں اور جب آپ دعا کرتے ہیں تو آسمان اور زمین کے فرشتے وہ فکر کرتے ہیں۔