حکمرانوں کی کسان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے دم توڑتی ملکی زرعی معیشت تباہ ہو جائے گی۔کسان بورڈ


فیصل آباد: کسان بورڈکے ضلعی صدرعلی احمدگورایہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو حکومت کا ایک ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی کسان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے دم توڑتی ملکی زرعی معیشت تباہ ہو جائے گی۔پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کاسب سے زیادہ اثرزراعی معیشت پرہوتاہے،تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی زرعی مداخل کوخریدنے اورلے جانے اورزرعی مصنوعات کومنڈیوں میں لانے کے لئے کرایوں میں بے پناہ اضافہ کردیاجاتاہے،ایسے اقدامات سے واضح ہوتاہے کہ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی زراعت کو توڑنے کی گھناونی کوشش کی جارہی ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ملکی آبادی 68فیصدزراعت سے منسلک ہے جن کی زندگی ملک پرقابض اشرافیہ نے اجیرن بنادی ہے۔ کسان اورمزدورملک کاسب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے جن کی زندگی سے سکون چھین لیاگیاہے۔کسان ساراساراسال محنت کرتاہے مگراس کی محنت کاپھل جاگیرداراورسرمایہ دارکھاتے ہیں اورکسان کے بچے بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔

انہوں نے کہاہے کہ پاکستان کے پاس سونااگلنے والی زرخیززمین اورمحنت کرنے والے کسان ہیں لیکن وہ نااہل اور کسان دشمن قیادت کی وجہ سے آلوپیازتک بیرون ملک سے درآمدکرنے پرمجبورہے۔شوگرملوں،کاٹن ملوں اوررائس ملوں نے لوٹ ماراور کرپشن کی انتہاکررکھی ہے۔دھان اور کپاس کی فصلوں کواونے پونے خریدکرکسانوں کواربوں روپے کانقصان پہنچایاگیا،شوگرملوں نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے،کنڈوں میں ہیرپھیری کرکے اور حکومتی وعدالتی احکامات کے باوجودگنے کے حکومتی ریٹ سے کم خریدکر کریشن کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑے ہیں اوراب گنے کے کاشتکاروں کوادائیگیاں نہ کرکے ان کامعاشی قتل عام کررہے ہیں۔