موجودہ زراعت اور کسان دشمن پالیسی ختم کر کے کسان نمائندہ تنظیموں مشاورت سے نئی زرعی بنائی جائے


لاہور : جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے حالیہ اجلاس، جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کی ،میں ایک قرار داد کے ذریعے حکومت سے زراعت اور کسانوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے کیا گیاہے کہ اس وقت کل قابل کاشت رقبہ کا صرف 39فیصد رقبہ زیر کاشت ہے جبکہ 61فیصد رقبہ بنجر اور ویران پڑاہے اس رقبہ کو حکومت ترقی پسند کاشتکاروں اور زرعی گریجوایٹس کو الاٹ کرے تا کہ وہاں پر کاشتکاری ہو سکے ۔

موجودہ زرعی پالیسی زراعت اور کسان دشمن پالیسی ہے جس کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور کسان نمائندہ تنظیموں (کسان بورڈ پاکستان ) کی مشاورت سے ملک کے اندر ایک ایسی زرعی پالیسی کا نفا ذ کیا جائے جو کسان اور زراعت دوست ہو۔ تمام فصلات کی قابل قبول قیمتوں کا تعین وقت کی اہم ضرورت ہے ۔کاشتکاروں اور صارف کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے قیمتیں مقرر کی جائیں ۔

ایک بااختیار کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں کاشتکاروں کی حقیقی نمائندہ تنظیموں (کسان بورڈ )اور صارفین کمیٹیوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور لاگت / اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کیا جائے تب ہی مسائل حل ہوں گے۔چینی کی موجودہ قیمت اور کسان کی قیمت لاگت کو مد نظر رکھتے ہوئے گنے کی قیمت خرید پر نظر ثانی کی جائے۔ کم از کم 300/روپے فی من گنے کی قیمت خرید مقرر کی جائے۔کھاد(یوریا، ڈی اے پی ،پوٹاش) جو کہ زراعت کی بنیادی ضرورت ہے پر عائد GSTٹیکس ختم کیا جائے۔ GIDC کی مد میں کسانوں سے وصول کردہ 750ارب روپے کسانوں کو واپس دئیے جائیں یا اسکے مساوی کھادوں پر براہ راست سبسڈی دلوائی جائے۔

زرعی ٹیوب ویلزپر بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے اور عائد کردہ FPA اور QTA جیسے ناجائز ٹیکسز کو فوری ختم کیا جائے۔ زرعی مقاصد کیلئے بجلی کا ریٹ 04 روپے فی یونٹ مقرر کیا جائے۔ بلا سود زرعی قرضہ جات کا اجراء کرتے ہوئے اس کی حد میں100فیصد اضافہ اور قرضہ کاحصول آسان بنایا جائے ۔نہری پانی چوری ایک معمول بن چکا ہے۔ پانی چوری میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی فوری عمل میں لائی جائے۔ٹیل کے کاشتکاروں تک پانی کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر قائم تمام ایگریکلچر ایڈوائزری کمیٹیوں میں کسان نمائندہ تنظیم(کسان بورڈ) کو نمائندگی دی جائے۔تمام زرعی مشینری کی خریداری پر 50فیصد سبسڈی دی جائے۔

نیز جعلی زرعی ادویات ،کھاد اور بیج کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے لینڈ ریکارڈ سینٹر پر ہونے والی کرپشن کے خاتمہ کیلئے کسانوں کے نمائندگان کو شامل کرکے ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی جائیںاور کسان کو انکی فرد ملکیت بلا قیمت فراہم کی جائے۔مزدورمسائل بارے منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وطن عزیز کی معیشت کا انحصار مزدور طبقے پر ہے لیکن اس وقت یہ طبقہ بہت مظلوم ہے اور اس کی کوئی آواز بھی نہیں ہے۔ ملک کی خوشحالی مزدور کی خوشحالی سے یقینی بنائی جاسکتی ہے۔یہ مظلوم طبقہ ساڑھے سات کروڑ ہے ۔

کھیت مزدور منڈی ،بازار ، تعمیرات، بھٹہ ، گھریلو ، ہوٹلوں،گھروں ،پٹرول پمپوں وغیرہ پر کام کرنے والے مزدور) فارمل سیکٹر لیبرقوانین اور سماجی تحفظ کے قوانین فارمل سیکٹر کے بھی بہت تھوڑے حصے پر نافذ ہیں جبکہ انفارمل سیکٹر مکمل طور پر لیبر قوانین اورسماجی تحفظ کے قوانین سے محروم ہے۔ جبکہ فارمل سیکٹر میں ٹھیکیداری نظام اپنا کر اسے بھی انفارمل سیکٹر کی طرح قوانین کے دائرے سے باہر کردیاگیا ہے۔ اس طرح مزدوروں کو ایک بے گار کیمپ کا سامنا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مزدور طبقے سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ 10% کیاگیاہے جبکہ مہنگائی بڑھنے کی شرح 21فیصد سے زیادہ ہے۔ کم از کم تنخواہ 20000/-روپے ہے، جو بہت ہی کم ہے ۔

بار بار توجہ دلانے اور احتجاج کرنے کے باوجود مزدوروں کے لیے رجسٹریشن کا سرے سے کوئی نظام نہیں بنایا گیا حکومتی ادارے لیبر قوانین کو نافذ کرنے والے اور لیبرز کی ویلفئر کو یقینی بنانے والے ادارے اپنے فرائض کے برعکس مزدور مفادات کے خلاف ایک مافیا کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ سماجی تحفظ کے ادارے سوشل سیکورٹی EOBIورکرز ویلفئر فنڈ(WWF)بھی اپنے فرائض کے برعکس کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں اور EOBIمیں اپنے من پسند چیئرمین کی تقرری کے لیے قوانین اور ضابطوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ سے تعلیمی وظائف کی عدم ادائیگی کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیم خراب ہوئی ہے اور ڈگریاں مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات ڈگریوں سے محروم ہیں ۔ موجودہ حکمرانوں نے اپنے وعدوں کے برعکس ماضی کے حکمرانوں کی طرح نجکاری کی پالیسی اپنا لی ہے ۔ پاکستان سٹیل کامسئلہ ابھی تک حل نہیں کیاگیا۔ پی آئی اے سے ملازمین کو خوفزدہ کرکے نوکریوں سے نکالا گیا اورریلوے کو تباہ و برباد کردیاگیاہے۔ نجکاری کرنے کاآغاز کردیاگیاہے۔ ٹرینوں کو ٹھیکیدارکے حوالے کردیاگیاہے۔

حکمران اپنے وعدوںکے برعکس مزدوروں کو بے روزگار اور قومی اداروں کو تباہ کررہے ہیں۔ نیشنل انڈسٹریل ریلیشنزکمیشن (NIRC)بڑے عرصے سے نامکمل ہے۔ ممبران کی تقرری نہیں کی جارہی ہے۔ جس سے مزدوروں کے ہزاروں مقدمات اور صنعتی تنازعات التواء کا شکار ہیں۔ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ مطالبہ کرتی ہے کہ ممبران کی فوری تقرری کرکے NIRCکو مکمل کیاجائے۔لیبرقوانین اور سماجی تحفظ کے قوانین کا دائرہ فارمل۔انفارمل سیکٹر کے تمام ساڑھے سات کروڑ مزدوروں تک بڑھایاجائے۔تمام مزدوروں کو رجسٹرڈ کرنے کا فوری انتظام اس طرح کیاجائے کہ تمام مزدور کی رجسٹریشن یقینی ہو۔ فارمل سیکٹر کے مزدوروں کی رجسٹریشن مکمل کی جائے اور انفارمل سیکٹر کے نظر انداز مزدوروں کی بھی رجسٹریشن کاانتظام کیاجائے۔ لیبر کورٹس اور NIRCمیں زیر التوا ء مقدمات کو نمٹایاجائے ۔لیبر قوانین کو یکجا کیاجائے اور عمل درآمد میں مزدوروں کو نظر انداز کرکے مالکان کو فائدہ پہنچانے کا سدباب کیاجائے۔

ٹریڈ یونین کی حوصلہ شکنی اور رکاوٹیں کھڑے کرنے کے بجائے ، ٹریڈ یونین کو فروغ دیاجائے ۔پاکستان سٹیل کے ملازمین کو بحال کیاجائے اور اسٹیل مل کو بہترین انتظامیہ کے ذریعے چلایا جائے ۔کم از کم اجرت40ہزار روپے اور کم ازکم پنشن( بشمول EOBIپنشن) پندرہ ہزارروپے مقرر کی جائے۔کوئلے اور پتھرکی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوںکی تنخواہیں بہت کم ہیں۔ حفاظتی آلات بھی فراہم نہیں کیے جاتے جس سے اِن کی صحت اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔کان کنوں سمیت تمام مزدوروں کو حفاظتی آلات کی فراہمی ، سماجی تحفظ اور صحت اور جان کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے