حکومت کسان مار پالیسی بنانا ختم کرے، کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے،لیاقت بلوچ


 لاہور:نائب امیر جماعتِ اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نےکہا ہے کہ کسانوں کے لیے مہلک نظام اور تباہ کاری کی پالیسی قومی معیشت کے ساتھ دشمنی ہے حکومت کسان مار پالیسی بنانا ختم کرے، کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

کسانوں کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ کسانوں کے لیے مہلک نظام اور تباہ کاری کی پالیسی قومی معیشت کے ساتھ دشمنی ہے۔زراعت کو غیرمنافع بخش بنانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔سندھ اور پنجاب کا کسان ایک ہی طرح کی محنت کرتا ہے لیکن پانی کی تقسیم کی بدانتظامی کے ذریعے صوبائی تعصبات کو ہوا دی جارہی ہے۔ حکومت کسان مار پالیسی بنانا ختم کرے، کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے،ایڈہاک ازم کی بجائے مستقل اور مستحکم زرعی پالیسی بنائی جائے۔تعلیم اور زراعت کو قومی اقتصادی حکمتِ عملی میں ترجیحِ اول دی جائے۔ سُود،قرضوں،کرپشن کا خاتمہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی سے نجات ملکی زراعت، صنعت اور تجارت و ہُنرمندی کو تحفظ دیا جائے۔

قومی قیادت کی بیان بازی قومی وحدت کیلئے خطرناک ہے،لیاقت بلوچ

لیاقت بلوچ نے جماعتِ اسلامی ۤزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام امیر نورالباری سے ملاقات میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال اور کشمیریوں کی لازوال قربانیوں اور استقامت سے فاشسٹ مودی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ایسے حالات میں آزاد جموں و کشمیر میں غیرجانبدار اور اسلام آباد کی مداخلت کے بغیر آزادانہ انتخابات تحریکِ آزاد کشمیر کے لیے بڑی معاونت ہوگی۔آزاد کشمیر میں انتخابات چرانا آزاد کشمیر کی تحریک کے لیے سنسنسی خیز اور مہلک وار ہوگا۔

نورالباری نے بتایا کہ جماعتِ اسلامی کے تمام امیدواران کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوگئے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے حلقوں میں جماعتِ اسلامی کے کارکنان اورامیدواران نے بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔حسبِ روایت اسلام آباد کی مداخلت جاری ہے۔سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کا مکروہ کھیل جاری ہے۔ جماعتِ اسلامی کشمیریوں کے ضمیر کی آواز ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ قومی بجٹ کی منظوری بے معنی ہوچکی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ملکی معیشت پر مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔عمران خان سرکار کو چار بجٹ پیش کرنے اور استعمال کرنے کا موقعہ مل گی اہے لیکن اقتصادی حالات کے تمام اشاریے منفی ہی ہیں۔ عملاً غریب اور مڈل کلاس طبقہ مکمل طور پر پِس گیا ہے۔