بنوں جانی خیل قبائل کا اسلام آباد کی جانب مارچ ، پولیس،مظاہرین میں جھڑپیں ،3 افراد جاں بحق


بنوں:بنوں جانی خیل قبائل کا اسلام آباد کی جانب مارچ ، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ، تین افراد جاں بحق، درجنوں زخمی ہو گئے، 24دنوں سے امن کے قیام اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف سراپا احتجاج، جانی خیل قبیلے کے مظاہرین دھرنے کی اسلام آباد منتقلی پر بضد ہیں۔

گزشتہ روز جانی خیل قبائل کے ہزاروں مظاہرین مقتول ملک نصیب کی لاش کیساتھ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ٹوچی پل کے مقام پر پولیس کیساتھ تصادم واقعہ ہو ئی، فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق واجد سکنہ بکاخیل اور دو نامعلوم جاں بحق ،52سالہ احمد سمیت متعدد زخمی جبکہ پتھراؤ اورشدید گرمی سے 12  پولیس اہلکار وں کی حالت غیر ہو گئی ، مظاہرین کی متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا موٹر سائیکلیں قبضہ پولیس کی گئیں جبکہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ،

مظاہرین کو روکنے پولیس کی جانب سے کافی رکاؤٹیں ڈالی گئی تھیں ، بنوں سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جس کی نگرانی ڈی آ ئی جی ساجد علی اور ڈی پی او بنوں عمران شاہد خود کر رہے تھے ڈی پی او اپنے فورس کو پر امن رہنے کی تلقین کرتے رہے ٹوچی پل سمیت مختلف مقامات پر کنٹینر کھڑے کئے گئے تھے جانی خیل قبائل نے مختلف راستے اختیار کرکے شہر کی طرف پیش قدمی جا ری رکھی اس دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی۔

جبکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا مظاہرین اور پولیس نے ایک دوسرے کی گاڑیاں بھی جلائیں یہ جھڑپ دونوں اطراف سے کافی دیر تک جاری رہی ، پولیس اور مظاہرین نعرے تکبیر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے رہے ،مظاہرے میں ایک پولیس موبائل وین بھی نذر آتش کی گئی، بکاخیل کی حدود پہنچنے پر ڈی پی او کی جانب سے مظاہرین کیساتھ مذاکرات کرنے کا پیغام بھیجا گیا جسے قبول کرکے مظاہرین نے باران پل کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا جہاں بکاخیل کے مشران ثالثی کا کردا ادا کرنے کیلئے آ گے آ ئے اورتبلیغی مرکز میں منعقدہ جرگہ کیا جہاں جانی خیل قوم سے درخواست کی کہ اُن کے مطالبات شرعی و قانونی ہیں لیکن مزید آ گے جانے سے مزاحمت اور رد عمل میں نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تمام مطالبات مذاکرات ہی سے حل کئے جائیں۔

جانی خیل قوم کی طرف سے ڈاکٹر گل عالم وزیر اورملک مویز خان نے کہا کہ تین ماہ پہلے ہمارے ساتھ کئے گئے امن معاہدے کو عملی بنایا جائے گزشتہ تین ماہ سے  30 مئی تک ہم لاشیں اُٹھا تے رہے ہیں لاپتہ آ فراد جو کہ بے گناہ ہیں یا معمولی جرائم میں ملوث ہیں رہا کئے جائیں اور بڑے جرائم میں ملوث آفراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اسی طرح جو چار لاشیں نو عمر لڑ کوں کی لاشیں ملی تھی ان کا مقدمہ اور تحقیقات کرائے جائیں امن لانا حکومت کی چھٹکی کا کام ہے لیکن غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے آج ایک بار ہم پر بد ترین تشدد کیا گیا ایک طرف مذاکرات تو دوسری طرف ہمیں مارنا یہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

بکاخیل میں صبح سویرے گھروں سے نکلتے لوگو ں پر تشدد کیا گیا کہ گھروں سے کیوں نکلے ہو ، اس طرح احمد زئی کے علاقے میں سارا دن اس دھرنے کے حمایت یافتہ لوگوں کی پکڑ دھکڑجاری رکھی اب ہماری یہ شرط ہے کہ پہلے اس لانگ مارچ میں ہونے والی مقتولین کا مقدمہ ، جن گاڑیوں کو نقصان پہنچا یا گیا اور جو لوگ گرفتار ہو ئے پہلے اس پر بات کی جائے بعد میں پچھلے امن معاہدے پر بات ہو گی ورنہ ہم نکلے ہیں پیچھے ہٹنے والے نہیں ،

ثالثین نے جانی خیل قوم کے تحفظات لیکر ڈپٹی کمشنر محم زبیر نیازی کیپاس جرگہ کی شکل میں گئے اور مذاکرات کئے ڈپٹی کمشنر نے ثالثین کو بتایا کہ قوم کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہیں آج اس احتجاج میں جو قتل ہوئے ہیں مقدمہ درج کیا جائے گا ، تمام نقصانات کا آزالہ کرنے کو تیار ہیں ،گرفتار آفراد کو رہا کیا جائے گا لیکن مظاہرین کو آگے پیش قدمی نہیں کر نی ہو گی تمام مسائل کا حل مذاکتا کی میز پر ڈھونڈ نکال لیں گے۔

جس پر قوم نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ ہم انتظامیہ کا پیغام مظاہرین کے پاس لیجاتے ہیں جس کے بعد وہ ڈی پی او سمیت خود آ ئیں گے اور دھرنا کے منتظمین کیساتھ براہ راست بات کریں گے ،مذاکرا ت کا عمل رات گئے تک جاری رہا آخری اطلاعات تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ یا ، دھرنے کے باعث بنوں میرانشاہ روڈ میں نہر کچکوٹ کے مقام پر کنٹینر رکھنے کے باعث بند رہا ۔