قومی اسمبلی میں صدارتی نظام کے خلاف مشترکہ قراردادکی منظوری کا مطالبہ


اسلام آباد (محمد اکرم عابد) قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی کی طرف سے الزام لگایا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان گرفتار اپوزیشن ارکان کی ضمانتیں منسوخ کروانے میں پیش پیش رہتے ہیں ، وزیراعظم کے خلاف بات کرنے سے ڈر لگتا ہے ورنہ وہ جیل میں بھیج دیتے ہیں،پارلیمان صدارتی نظام کے خلاف قرارداد پاس کرے صدراتی نظام کے خلاف بات کرنا ارکان کا  فرض ہے، الزام لگایا جاتا ہے کہ اپوزیشن فوج کو اکساتی ہے ، بتائیں کس سیاستدان نے کس فوجی  افسر سے رابطہ کیا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں کیا ۔ایوان میں صدر نشین امجد علی خان نے اعلان کردیا ہے کہ تمام جماعتوں کا بجٹ پر بحث کا وقت پورا ہوگیا ہے ۔گزشتہ روز شاہد خاقان عباسی نے بجٹ پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کو کتاب مارنا دراصل جمہوریت کو مارنا ہے۔

لوگ صدارتی نظام کی باتیں کر رہے ہیں اور لوگ کہیں گے کہ اس جمہوریت سے آمریت اچھی ہے لیکن صدارتی نظام سے ایک بار یہ ملک ٹوٹ چکا ہے اور صدارتی نظام کے خلاف بات کرنا میرا فرض ہے۔ اسپیکر کی موجودگی میں قائد حزب اختلاف پر حملہ کیا گیا یہ کس کی ناکامی ہے ؟ اس ایوان کی کچھ روایات ہیں اس ایوان کا چلنا نہ چلنا سپیکر کی کامیابی ناکامی ہوتی ہے ۔ایوان نہ چلے تو عوام کے مسائل رہ جاتے ہیں۔ اس ایوان میں لیڈر آف اپوزیشن پر حملہ کیا گیا۔ کسی رکن نے کچھ نہیں کہا۔ سپیکر نے کچھ نہیں کہاایک رکن نے سپیکر کو جوتا مارنے کی دھمکی دی سپیکر نے کیا کیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کتابیں اراکین کو نہیں جمہوریت کو ماری گئیں۔ایک دن آے گا کہ یہ کتابیں ٹی وی پر دکھائی جائیں گی کہا جائے گا کہ جمہوریت سے آمریت بہتر ہے یہ آمریت اس ملک پر پہلے بھی مسلط رہ چکی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ایوان میں حملے کے بعد ملک میں صدارتی نظام کی باتیں ہوئیں۔اس ملک میں صدارتی نظام نہیں چل سکتا آئین پارلیمانی ہے یہ ایوان صدارتی نظام کے خلاف قرارداد پاس کرے صدراتی نظام کے خلاف بات کرنا میرا فرض ہے۔کرسی عزت نہیں دیتی، آپ نے عہدے کو عزت دینی ہوتی ہے جو کچھ ایوان میں ہوا اس پر کسی کو افسوس نہیں۔

اسپیکر کی ناکامی پر ایک ہی کام باقی رہ جاتا ہے۔جناب چیئرمین(امجدعلی خان نیازی) آپ کے والد زندہ ہوتے تو اسپیکر کو بتاتے اب کیا کرنا ہے ۔اس ملک میں اس وقت ریکارڈ مہنگائی ہے ۔کہا جاتا ہے خواتین کے کم کپڑے پہننے سے مردوں کے جذبات ابھرتے ہیں۔کیا وزیر خزانہ آٹے، چینی کی قیمت کم کر سکتے ہیں۔اس بجٹ میں غریب کے لیے کچھ نہیں ہے۔کیا وزیر خزانہ پٹرول کی قیمت کم کر سکتے ہیں۔سرکاری ملازمین کو بجٹ میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔آئی ایم ایف کے دبا پر بجلی کی قیمت بڑھائی جائے گی۔سرکاری ملازم غربت کی سطح سے نیچے چلا گیا ہے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے نیا معاشی فارمولا بتایا ہے۔وزیر دفاع کہتے ہیں مہنگائی ہو گی تو ترقی ہو گی۔وزیر دفاع کی اپنی وزارت کے بجٹ کی افادیت تیس فیصد کم ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پٹرول پر ٹیکس لگا کر 600 ارب روپے جمع کرنے کا پروگرام ہے ۔وزرا کو گھر بھیجیں، ایف بی آر کو بند کر دیںمہنگائی کر کے آپ پھر بھی ٹیکس جمع کر دیں۔کابینہ میں ایسے لوگ ہیں جن کا کروڑوں کا گھر اور گاڑیاں ہیں۔ اس ایوان میں بھی پیسے والے لوگ موجود ہیں لیکن اتنے امیر لوگ ٹیکس نہیں دیتے اس ملک میں صرف ارکان پارلیمنٹ کے ٹیکسوں کی ڈائریکٹری چھپتی ہے۔

ججوں اور بیوروکریسی کے ٹیکس کا کسی کو معلوم نہیں ہوتا ۔ہر آدمی کے اخراجات کا حکومت کے پاس ریکارڈ موجود ہے ۔ایوان کے ارکان سے پوچھا جائے وہ ٹیکس دیتے ہیں یا نہیں جو رکن ٹیکس نہیں دیتا وہ کیوں نہیں دیتا جو خود ٹیکس نہ دے وہ عوام پر ٹیکس کیسے لگا سکتا ہے ۔چار سال بعد ہم وہیں ہوں گے جہاں پہلے تھے ۔آپ چور کا لفظ حذف کریں تو آدھا ریکارڈ حذف ہوجائے گا۔وفاقی وزرا کو چور کے لفظ کے علاوہ آتا کیا ہے۔

وزیر خزانہ کہتے ہیں ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ۔کل کابینہ نے گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔کیا باہر کی گندم سے چپاتی اچھی بنتی ہے۔کیا باہر کی چینی زیادہ میٹھی ہوتی ہے ۔ریکارڈ فصل ہوئی لیکن ہم گندم چینی باہر سے منگوا رہے ہیں۔اس طرح کے انوکھے  فیصلے یہی حکومت کر سکتی ہے ۔وزیروں کی تقاریر میں غلط بیانی کرنا اقر بار بار کرنا شامل ہے۔اتنی غلط بیانی کرتے ہیں کہ خود اس پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔معیشت پر وہ وزیر تقریر کرتا ہے جو اس وزارت سے نکالا گیا۔بجلی پر وہ وزیر تقریر کرتے ہیں جنہیں اس وزارت سے نکال گیا۔وزیراعظم نے نااہلی پر ان وزرا کو نکال۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ  جس وزارت سے نکالا گیا اسی پر اب لیکچر دیتے ہیںمجھ پر بھی الزامات عائد کئے گئے میرے اوپر مقدمات بھی بنائے گئے ہیں میں بھی حاضر ہوں، ریکارڈ بھی حاضر ہے۔نواز شریف دور میں سستی ایل این جی لیکر آئے ا س حکومت کے وزرا جھوٹ بولتے ہیں میں ان سے ایل این جی کے معاملے پر مناظرہ کیلیے تیار ہوں ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اایک وزیر صاحبہ ہیں جو جوڈو کراٹے کی ماسٹر ہیں۔ وہ کہتی ہیں الحمداللہ سال کا پہلا ٹرین حادثہ ہے۔

ایک وزیر صاحب ہیں جو ٹیبل پر کھڑے ہو کر وہی کتابیں اپوزیشن کو مار رہے تھے جو خود بجٹ انہوں نے پیش کیا۔ایک وزیر صاحب اچھے خاصے انسان تھے وہ کبھی سائنسدان بنتے ہیں۔ وزیراعظم کے خلاف بات کرنے سے ڈر لگتا ہے ورنہ وہ جیل میں بھیج دیتے ہیں۔کوئی قوم معاشی خود مختاری کے بغیر آذادی حاصل نہیں کر سکتی ۔معاشی عدم استحکام تب پیدا ہوتا ہے جب مقبول لیڈر کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔گورنر ہاوسز کو یونیورسٹیاں بنانا تھی اور وزیراعظم نے دو ملازمین کے ساتھ آنا تھا۔وزیراعظم ہاوس کی گاڑیاں اور بھینسیں تک بیچ دی گئی۔کوئی قوم معاشی خودمختاری کے بغیر آزادی حاصل نہیں کر سکتی ۔

حکومت کسی کی بھی ہو،معاشی خودمختاری نہیں ہوئی تو کشکول لیکر پھرتے رہیں گے۔ آٹھارہ وزرا اعظم کے ساتھ جو ہوا ،اگلے کے ساتھ بھی یہی ہو گا۔  نئے پاکستان کے  خواب قوم کو دکھائے گئے۔ قومی اثاثے آپ کوئی گروی نہیں رکھنے دے گا۔ کے پی میں مولانا فضل الرحمن کی خواہش کے برعکس مینڈیٹ کو تسلیم کیا گیا ۔گندم چاول گھی چینی امپورٹ کرنے ہیں تو زراعت پالیسی کی ناکامی کا اعتراف کریں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ  رائل پام کلب کی بڈ دینی تھی دو سال ہو گئے ۔کچھ نہیں ہوا لوکوموٹو زیادہ خریدنے کا الزام لگایا گیا۔ جنرل جاوید اشرف قاضی کو کسی نے نہیں بلایا جو کام کرتا ہے اسے جیل جانا پڑتا ہے۔ این ایل ون پر ڈیزائن ،معاہدہ ہم نے کیا فیزون تین سال میں مکمل ہونا تھا،کچھ بھی نہیں ہوا۔ وزیر اعظم نے کہا اپوزیشن فوج کو اکساتی ہے ۔ بتائیں کس نے کس افسر سے رابطہ کیا ۔ہم حکومت گرانے کے لئے  دھرنا نہیں دیں گے ایسا کرتے ہیں تو آنے والی حکومت بھی دھرنا سے گرائی جائے گی ۔

انتقام کا سلسلہ کہیں رکنا چاہیے۔ آپ نے بھی کہیں رکنا ہے یا نہیں رکنا۔  اپنے اپنے گروہوں کے لئے جھوٹ بولتے ہیں ،یہ کام چھوڑنا ہو گا  اس لئے میں کسی ٹاک شومیں نہیں جاتا۔ آپ کی حکومت ناکام ہوئی تو ادارے بھی کمزور ہونگے۔ ہمیں آپ کا کوئی خوف نہیں ،آپ تو ہم سے بھی گئے گزرے ہیں ۔پاکستان کے حال پر رحم کریں ،سیدھے منہ کسی سے سلام کرنے کو تیار نہیں ۔اگر اڈے نہیں دینے تو کیا رائے نہیں لینی ،کیا اکیلے ملک چلانا ہے۔ سیاستدانوں کو افغانستان پر سیکورٹی ادارے بریف کریں۔

دنیا میں سازشیں ہو رہی ہیں ۔ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنے کو تیار ہیں۔ لعن طعن کرنے کی بجائے افہام و تفہیم سے معاملات کو آگے بڑھایا جائے ۔غلام محمد لالی کی بجٹ پر بحث جاری ریاست عوام کی جان و مال کی حفاظت کرے کمزوری نہ دکھائیانصاف ہر شہری کا حق ہے ۔معاشی اعشاریوں کے نتایج عوام تک پہنچنا چاہیے کسانوں تک زرعی تحقیق کے نتائج نہیں پہنچ رہے۔

وفاقی وزیر غلام سرور نے  اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دو معزز اراکین پارلیمنٹ حکومتی بنچز سے زخمی ہوئے ۔دو حکومتی اراکین اپوزیشن بنچز سے حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔ایوان میں جب بھی بدمزگی ہوئی وہ اپوزیشن کی جانب سے ہوئی۔مسلم لیگ نواز کا پاکستانی سیاست میں کیا کردار رہا۔ 1988 میں مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ تب ن لیگ کی صوبائی حکومت نے بدترین سیاست کی ۔ن لیگ کی طرف سے مسلسل سازشیں کی گئی ۔سپریم کورٹ پر حملے کے لیے پورے صوبے سے کارکن بلا کر پنجاب ہاوس میں ٹھہرایا گیا۔کورونا وبا کے باعث پوری دنیا نے ملازمین کی تنخواہیں کاٹی اور نوکریوں سے نکالا گیا۔

پاکستان میں نہ ہی کسی کو نوکری سے نکالا گیا اور نہ تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی۔ایسے حالات میں ہم نے سرکاری ملازمین کی دس فیصد تنخواہیں بڑھائی۔ 2018 میں ہمیں 19 بلین ڈالر کا خسارہ ملا ہم نے پاور سیکٹر کو سبسڈیز دی۔ سمندرپارپاکستانی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔غلام سرور خان نے کہا کہ  بہت جلد ملک میں معاشی استحکام آئے گا ۔

ہم نے ایکسپورٹ سیکٹر کو مراعات دیںملکی برآمدات 24 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ترسیلات زر 28 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں ہم نے 16 لاکھ اضافی پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگار دلوایا۔مسلم لیگ ن کو تین بار وفاق اور چھ بار پنجاب میں حکومت ملین لیگ کے دور سبزیاں بھی درآمد کی گئیں۔ن لیگ نے کبھی بھی کسان دوست بجٹ نہیں دیا۔زراعت کے شعبے میں مزید سبسڈیز کی ضرورت ہے۔اپوزیشن لیڈر نے اپنی تقریر کے دوران نئے اور پرانے پاکستان کی بات کی۔

اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں انہیں نیا پاکستان نہیں پرانا پاکستان چاہیے۔ پرانے پاکستان والی کرپشن دوبارہ ملنی چاہیے۔ہم نے آراضی سنٹرز دیے اور لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کیا۔پٹواری اور تحصیلدار نچلی سطح پر کرپشن کرتا تھا ۔پچھلے دور میں ایک مشترکہ اجلاس ہوا جب ہم اپوزیشن میں تھے ۔

اعتزاز احسن نے تب اپنی تقریر میں کہا جب میاں برادران پر برا وقت آتا ہے تو گھٹنے بھی پکڑتے ہیں۔چھ بار وزارت اعلی ن لیگ کے پاس رہی ،پینتیس سالوں میں پنڈی اسلام آباد کے لیے کیا کیا۔انشااللہ رنگ روڈ بنے گا اور ہمارے دور میں مکمل ہو گا۔ پیپلزپارٹی کے کے رکن غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ ہماری دور حکومت میں چینی اور زرعی شعبے میں خود کفیل ہوئے۔حکومتی اراکین جب تقریر کرتے ہیں تو زیادہ بحث پچھلی حکومتوں پر ہوتی ہے ۔اس حکومت کا ہنی مون وقت مکمل ہو گیا ہے ۔اب بتائیں انہوں نے کیا کیا ہے۔کچھ وزیر ایوان میں غلط بیانی کرتے ہیں۔

ایک وفاقی وزیر نے کہا انکی انکم بڑھ گئی ہے تو پچھلے ادوار میں ایل این جی کے پراجیکٹ لگے انکی وجہ سے بڑھی ہے۔اگر اس حکومت کی وجہ سے انکم بڑھی ہوتی تو گوادر کی کیوں نہیں بڑھی۔ اسے انکی نالائقی کہا جائے۔ پی ٹی آئی کے رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ بڑے بڑے بجٹ دیکھے مگر ایسا عوام دوست بجٹ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔چھوٹے دکانداروں نے،بڑے صنعت کاروں نے اور عام آدمی نے اس بجٹ کو قبول کیا ہے۔ہمیشہ بجٹ پر ایک نعرہ لگتا تھا کہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔

اس بار اپوزیشن کی جانب سے بھی نہیں کہا گیا کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔یہ بجٹ عمران خان اور شوکت ترین کا بجٹ ہے۔ایسا وقت بھی تھا کہ جب تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں تھے۔ سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے بڑی رقم رکھی گئی ہے ۔موسمیاتی تبدیلی کے لیے 14 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ عمران خان 2023 کے انتخابات کے لئے کام نہیں کر رہے۔ عوام کے لیے کر رہے ہیں تاریخ میں پہلی مرتبہ سب سے زیادہ پیسہ بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لیے رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم کا اگلا ٹارگٹ زرعی ترقی کا ہے۔